آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آذربائیجان اور آرمینیا تنازع: دونوں ممالک نے ناگورنو قرہباخ کے متنازع خطے پر جاری لڑائی میں جنگ بندی کے تازہ مطالبے کو مسترد کر دیا
آذربائیجان اور آرمینیا نے ناگورنو قرہباخ کے متنازع خطے پر جاری لڑائی میں جنگ بندی کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
امریکہ، فرانس اور روس نے مشترکہ طور پر ناگورنو قرہباخ میں لڑائی کی مذمت کی ہے لیکن آذربائیجان کے اتحادی ملک ترکی نے جنگ بندی کے مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ ناگورنو قرہباخ کو بین الاقوامی طور پر آزربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن سنہ 1994 میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم ہونے کے بعد سے اس کا حکومتی انتظام آرمینیائی نسل کے لوگوں کے پاس ہے۔
حالیہ برسوں میں ناگورنو قرہباخ پر آرمینیا اور آدربائیجان کے درمیان ہونے والی یہ سخت ترین لڑائی ہے جس میں اتوار سے لے کر اب تک کم از کم 100 سے زائد افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
بین الاقوامی طاقتیں کیا کہہ رہی ہیں؟
روس کے صدر ولادیمیر پوتن، فرانسیسی صدر ایمنیوئل میکخواں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’فوری طور پر جنگ کو ختم کرنے‘ پر زور دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ تینوں صدور او ایس سی ای منسک گروپ کے شریک صدر کی حیثیت سے بات کر رہے تھے، جو 1990 کی دہائی کے اوائل میں ناگورنو قرہباخ تنازعے کا پرامن حل تلاش کرنے کی کوشش میں قائم کیا گیا تھا۔
اپنے بیان میں انھوں نے کہا: ’ہم آرمینیا اور آذربائیجان کے رہنماؤں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پیشگی شرائط کے بغیر اور نیک نیتی سے اس تنازعے پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا عہد کریں۔‘
یاد رہے کہ روس آرمینیا کے ساتھ ایک فوجی اتحاد کا حصہ ہے اور اس کا آرمینیا میں ایک فوجی اڈہ بھی ہے، تاہم اس کے آذربائیجان کی حکومت کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔
لیکن ترک صدر رجب طیب اردگان نے جنگ بندی کی ان کوششوں کو یہ کہتے ہوئے ناکام بنا دیا کہ جنگ بندی تب ہی ممکن ہے جب آرمینیا آذربائیجان کی سرزمین پر اپنا ’قبضہ‘ ختم کر دے۔
انھوں نے کہا: ’یہ دیکھتے ہوئے کہ امریکہ، روس اور فرانس نے تقریباً 30 برسوں سے اس مسئلے کو نظر انداز کیا ہے، یہ قابل قبول نہیں کہ وہ جنگ بندی کی کوشیشں کریں۔‘
واضح رہے روس آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ناگورنو قرہباخ کے متنازع خطے پر جاری لڑائی ختم کروانے کے لیے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر چکا ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ سے جاری ایک بیان کے مطابق وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے یہ پیشکش دونوں ممالک کی حکومتوں سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران کی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ سرگئی لاوروف نے دونوں ممالک پر ’جنگ جیسے بیانیے‘ کو روکنے پر زور دیا ہے۔
بدھ کو سرگئی لاوروف کے دفتر نے کہا کہ انھوں نے آذربائیجان اور آرمینیا کے وزرائے خارجہ کو فون کر کے کہا ہے کہ روس مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں سے ٹیلیفونک رابطہ بھی کیا ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی کے مطالبے کا اعادہ کیا۔
لڑائی کی کیا صورتحال ہے؟
گذشتہ روز آرمینیا نے الزام عائد کیا تھا کہ ترکی نے ان کے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہو کر ان کا ایک لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔
آرمینیا کی وزارت خارجہ کے مطابق سوویت دور کے بنے ہوئے طیارے ایس یو 25 کا پائلٹ اس حادثے میں ہلاک ہو گیا ہے۔ آرمینیا کے مطابق ترک ایف سولہ طیارے نے آرمینیا کی فضائی حدود میں اس کے طیارے پر حملہ کیا تھا۔
ترکی نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ آرمینیا کے ساتھ تنازع میں آذربائیجان کو ترکی کی حمایت حاصل ہے۔
آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان ناگورنو قرہباخ کے مسئلے پر ہونے والی جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں میں فوجیوں کے علاوہ عام شہری بھی شامل ہیں اور جنگ کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ناگورنو قرہباخ کی انتظامیہ نے اتوار سے اب تک 84 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ اس کے علاوہ شہریوں کے مارے جانے کا بھی بتایا ہے۔
جبکہ آذربائیجان نے اب تک اپنے فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں نہیں بتایا ہے لیکن سات شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
تین روز قبل شروع ہونے والی یہ جنگ اب ناگورنو قرہباخ تک محدود نہیں رہی بلکہ اطلاعات ہیں کہ یہ دوسرے علاقوں میں پھیل رہی ہے۔
منگل کو آرمینیا کے وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ آذربائیجان نے ایک ڈرون کے ذریعے مشرقی آرمینیا کے شہر ورڈینس میں ایک مسافر بس کو نشانہ بنایا، اس واقعے میں اب تک کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔
اس سے قبل آذربائیجان نے کہا تھا کہ پیر کو آرمینیا کی شیلنگ میں اس کے دو شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ ایک روز قبل اسی خاندان کے پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
حالیہ جنگ سنہ 2016 کے بعد سے سب سے شدید ہے۔ منگل کو اس مسئلے پر اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا ایک ایمرجنسی اجلاس بھی ہوا ہے۔
آرمینیا اور آذربائیجان نے اپنے کچھ علاقوں میں مارشل لا نافذ کر کے مزید فوج تعینات کر دی ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ شروع کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
عالمی سطح پر اس تشویش میں بھی اضافہ ہو رہا ہے کہ دفاعی اور جغرافیائی لحاظ سے اہم ’قفقاز‘ خطے میں شروع ہونے والی اس جنگ میں دوسرے ممالک بھی براہ راست شامل ہو سکتے ہیں۔
ترکی نے کھل کر آذربائیجان کی حمایت کی ہے جبکہ روس نے فوری فائر بندی پر زور دیا ہے۔ روس کی ایک فوجی بیس آرمینیا میں ہے۔
جھڑپیں شروع ہونے کے بعد آذربائیجان کے صدر الہام علیئف نے کہا تھا کہ وہ اس خطے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پراعتماد ہیں۔
آرمینیا نے آذربائیجان پر فضائی اور توپ خانوں سے حملوں کا الزام لگاتے ہوئے آذربائیجان کے ہیلی کاپٹر گرانے اور ٹینک تباہ کرنے کی اطلاعات دی ہیں جبکہ آذربائیجان نے کہا ہے کہ اس نے گولہ باری کے جواب میں کارروائی شروع کی۔
حالیہ جھڑپیں شروع کیسے ہوئیں؟
آرمینیا کی وزارت دفاع نے آذربائیجان پر متنازع علاقے میں آباد عام لوگوں کی بستیوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔
ان جھڑپوں میں حکام کے مطابق ایک خاتون اور ایک بچہ ہلاک ہو گئے تھے۔ ناگورنو قرہباخ میں علیحدگی پسند حکام نے بتایا کہ ان کے 16 فوجی ہلاک جبکہ 100 زخمی ہوئے ہیں۔
آرمینیا کے وزیراعظم نکول پاشنيان نے آذربائیجان پر جارحیت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنے عظیم وطن کے دفاع کے لیے تیار ہو جائیں۔‘
انھوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ خطہ ایک ’بڑے پیمانے پر جنگ‘ کے دہانے پر ہے۔ وزیراعظم نکول پاشنيان نے ترکی پر ’جارحانہ طرز عمل‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مزید عدم استحکام کو روکنے کے لیے متحد ہو جائیں۔
آزربائیجان کے استغاثہ کے مطابق آذربائیجان کے ایک گاؤں پر آرمینیا کی گولہ باری سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
آذربائیجان کے صدر الہام علیئف نے کہا تھا کہ انھوں نے آرمینیائی فوج کے حملوں کے جواب میں بڑے پیمانے پر کارروائی کا حکم دیا ہے۔
ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے ان کے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’جوابی کارروائی کے نتیجے میں آذربائیجان کے متعدد رہائشی علاقوں کو، جنھیں قبضے میں لیا گیا تھا، آزاد کرا لیا گیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری کامیاب جوابی کارروائی اس ناانصافی اور 30 سالہ طویل قبضے کو ختم کر دے گی۔‘
اتوار کے روز ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اس نئے بحران میں آذربائیجان کی حمایت کا وعدہ کیا تھا جبکہ روایتی طور پر آرمینیا کے اتحادی کے طور پر دیکھے جانے والے روس نے فوری طور پر جنگ بندی اور صورتحال کو مستحکم کرنے کے لیے بات چیت کا مطالبہ کیا۔