لیون شوٹنگ: پادری پر حملہ معاشقے کی وجہ سے ہوا

فرانس میں استغاثہ کے مطابق ایک مشتبہ شخص نے اپنے ذاتی عناد کی وجہ سے لیون شہر میں گذشتہ ہفتے ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ کے پادری پر فائرنگ کر نے کا اعتراف کیا ہے۔

چالیس سالہ ملزم نے استغاثہ کو بتایا کہ پادری کا اس کی اہلیہ سے معاشقہ چل رہا تھا۔

باون برس کے پادری نیکلاؤس کاکاویلاکس کو 31 اکتوبر کو اپنے چرچ کے باہر گولی مار کر زخمی کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے بدھ کے روز کوما سے باہر آنے کے بعد پولیس سے بات کی۔

یہ فائرنگ جنوبی فرانسیسی شہر نیس میں ایک چرچ میں چاقو کے حملے میں تین افراد کی ہلاکت کے کچھ دن بعد ہوئی ۔

ابتدائی طور پر یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ نیس میں حملہ کی طرح کی کارروائی تھی جسے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 'اسلام پسند دہشت گرد حملہ' قرار دیا تھا ۔

پہلے لیون میں ہونے والی فائرنگ کا مقصد واضح نہیں تھا اور حکام نے ابتدائی طور پر اس کیس میں قاتلانہ حملے کی کوشش کی تحقیقات شروع کی تھیں۔

مگر تحقیقات اس وقت آگے بڑھیں جب پادری ہوش میں آنے کے بعد بات کرنے کے قابل ہوئے۔

فرانسیسی اخبار لو پریزیئن میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق مشتبہ شخص جیورجین شہریت رکھتا ہے اور اسے جمعہ کے روز لیون میں اپنے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

اخبار میں لیون کے سرکاری وکیل نکولس جیکیٹ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا گیا تھا کہ مشتبہ شخص 'اس خاتون کا شوہر نکلا ہے جس کا متاثرہ شخص سے معاشقہ چل رہاتھا۔'

اخبار میں شائع ہونے والی خبر میں مزید یہ بھی لکھا گیا تھا کہ ملزم نے وکیل استغاثہ کو بتایا کہ اس کا مقصد پادری کو قتل کرنا نہیں تھا جو اسکی روسی بیوی کے ساتھ رومانس کر رہا تھا۔

پادری جو اپنے آپریشن کے بعد صحت یاب ہو رہے ہیں انہوں نے ایک ماہ قبل ہی چرچ سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔

.