کورونا وائرس: ریپ کا شکار ہونے والی خاتون کا مطالبہ ہے کہ ماسک پہننے سے استثنٰی کو زیادہ واضح ہونا چاہیے

ریپ کا شکار ہونے والی ایک خاتون نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انگلینڈ میں دوسرے لاک ڈاؤن کے موقع پر عوام میں ایسے لوگوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرے جنھیں کسی وجہ سے چہرہ ڈھانپنے یا ماسک پہننے سے استثنٰی حاصل ہے۔

اپنے چہرے پر ماسک جارجینا فیلوز کے ذہن میں چند برس قبل ہونے والے اس حملے کی تکلیف کو تازہ کر دیتا ہے۔

اور اب جب وہ عوامی مقامات پر ماسک لگائے بغیر جاتی ہیں تو لوگوں کی بد زبانی بھی ان کے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہے۔

انھوں نے اس بارے میں مختلف رفاہی اداروں اور حکام سے رابطہ کیا ہے۔

’عوامی شعور‘

ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ کوئی ایسی شناخت یا علامت وضع کرے جس سے لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ اسے لگانے والا ماسک پہننے سے مبرّا ہے۔

لیکن اس سلسلے میں لکھے گئے خط میں ان تنظیموں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ایسا بیج یا بِلّا ’عوام کی اس وسیع تر آگہی کا متبادل‘ نہیں ہے۔

جارجینا کا کہنا ہے کہ ’حملہ آور نے مجھے گلی سے گھسیٹا اور ریپ کیا۔

’میرے منہ پر کوئی چیز مجھے اس کا ہاتھ محسوس ہوتا ہے۔‘

شدید پریشانی

اب بھی انھیں اس واقعہ کی یاد آتی ہے تو ان کے زخم تازہ ہو جاتے ہیں اور وہ شدید اضطراب کا شکار ہوجاتی ہیں۔ انھیں سکون آور دوا دینا پڑتی ہے۔

ریپ کا شکار افراد کو اپنی شناخت چھپانے کا حق ہوتا ہے مگر عظیم تر شعور کی خاطر وہ اپنے اس حق سے دستبردار ہوگئی ہیں۔

انگلینڈ میں بند عوامی مقامات، مثلاً، دکانوں اور پبلک ٹرانسپورٹ، میں ماسک پہننا لازمی ہے۔

تاہم ان لوگوں کو اس سے استثنٰی حاصل ہے جنھیں ناک یا منہ ڈھانپنے میں شدید دشواری ہوتی ہے۔

وہ لوگ بھی اس سے مبرّا ہیں جنھیں کوئی ذہنی یا جسمانی عارضہ ہے۔

ایک نوٹ ہے جو سرکاری ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔

مگر جارجینا کا کہنا ہے کہ اسے سرکاری نہیں خیال کیا جاتا کیونکہ جب لوگوں نے ان کے ماسک نہ پہننے پر اعتراض کیا اور انھوں نے انھیں وہ نوٹ دکھایا تو لوگوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

ایک وکیل پر تو لوگوں نے چیخنا چلّانا شروع کر دیا تھا اس لیے کہ وہ ماسک نہیں پہنے ہوئے تھے۔

جارجینا نے بتایا کہ ایک عورت نے الزام لگایا کہ ’مجھ جیسے لوگوں نے اس کے والد کو مار دیا ہے۔‘

یہ بھی خدشہ ہے کہ لوگ جن کے پاس ماسک نہ پہننے کا کوئی جواز نہیں ہے اس نوٹ کا ناجائز استعمال کریں گے۔

'میڈیکل ایمرجنسی'

اس وقت وہ ان مقامات پر جانے سے اجتناب برتی ہیں جہاں انھیں ممکنہ بد زبانی کا خدشہ ہو۔

لوگوں کا خیال ہے کہ ماسک پہننے میں ’لوگوں کو معمولی دقت پیش آتی ہے۔‘

لیکن جارجینا کے لیے یہ میڈیکل ایمرجنسی ثابت ہو سکتی ہے جس میں انھیں اپنے ریپ کی جھلکیاں تین چار گھنٹے تک نظر آتی ہیں اور انجام کار وہ بے ہوش ہو جاتی ہیں۔

ماسک بعض دوسری حالتوں میں بھی تکلیف کا باعث ہو سکتا ہے جیسے آٹزم اور الزائمر وغیرہ۔

ایک تحقیق کے مطابق ماسک ذہنی مریضوں اور پوشیدہ معذوریوں، جیسے آٹزم کا شکار افراد کے لیے بھی دشواری کا باعث ہو سکتا ہے۔

حد سے زیادہ سانس پھولنا

آن لائن پر ایسی گمراہ کن معلومات پائی جاتی ہیں جن کے مطابق چہرے کو ڈھانپنا نظام تنفس کے لیے نقصان دہ ہے۔

مگر برٹش لنگ فاؤنڈیشن سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ’ماسک پہننے سے کسی کی آکسیجن کی فراہمی میں کمی واقع نہیں ہوتی اور نہ ہی کاربن ڈائی آکسائڈ جمع ہوتی ہے۔‘

لیکن ماسک لوگوں کے اندر نفسیاتی طور پر یہ احساس پیدا کر دیتا ہے کہ ان کا سانس پھول رہا ہے۔

جارجینا کا کہنا ہے جو لوگ ماسک پہننے کا اہل ہونے کے باوجود نہیں پہنتے وہ ان لوگوں کے مفاد کو ضرر پہنچانے کی وجہ بنتے ہیں جو کسی وجہ سے ماسک پہننے سے مستثنٰی ہیں۔