آئی ایم ایف: ایشیا کئی دہائیوں کی ’بدترین معاشی بدحالی‘ سے گزر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ایشیا پیسیفک کا خطہ اس وقت گذشتہ چند دہائیوں کی بدترین معاشی بدحالی سے گزر رہا ہے۔
خطے میں مجموعی پیداوار میں اضافے کے تخمینے ایک مرتبہ پھر تبدیل کیے گئے ہیں اور اس مرتبہ انھیں منفی 1.6 فیصد سے اور بھی کم کر کے منفی 2.2 فیصد کر دیا گیا ہے۔
تاہم آئی ایم ایف کے مطابق اس سے اگلے سال حالات میں بہتری آنے کے امکانات روشن ہیں اور توقع ہے کہ خطے میں مجموعی پیداوار سات فیصد تک بڑھ جائے گی۔
آئندہ سال میں خطے کی ترقی میں چین کا اہم حصہ ہوگا کیونکہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی معاشی سست روی ختم ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر پھر بھی حالات اتنے اچھے نہیں ہیں کیونکہ انڈیا، فلپائن، اور ملائیشیا ابھی بھی کووڈ 19 کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اس وبا کے نتیجے میں ہونے والے مسائل کافی گہرے ہیں۔ آئی ایم ایف کا اشارہ کم تر سرمایہ کاری کی جانب بھی تھا جس کے اثرات اس دہائی کے وسط تک سامنے آئیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ، چین تناؤ
اس خطے میں ممالک نہ صرف کورونا وائرس کی وبا کا مقابلہ کر رہے ہیں بلکہ انھیں امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کا بھی سامنا ہے۔
بی بی سی کی ایشیا بزنس رپورٹ سے بات کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے عبوری ڈائریکٹر برائے ایشیا پیسیفک کا کہنا تھا کہ ’برآمدات پر چلنے والے اس خطے کے لیے یہ انتہائی اہم معاملہ ہے اور آگے چل کر یہ بہت بڑا خطرہ ہوگا۔‘
’ہمیں فکر ہے کہ بڑے ٹیکنالوجی کے مراکز ایک دوسرے سے دور ہو جائیں گے اور نہ صرف چین اور امریکہ میں، بلکہ دیگر جگہوں پر، جہاں بھی ہائی ٹیک تجارت میں کمی ہوگی تو نتیجے نکلے گا کہ بہترین پیداوار نہ ہو سکے گی۔‘
اس ہفتے کے شروع میں چین کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں جولائی سے ستمبر تک کی سہہ مائی میں گذشتہ سال اسی دورانیے کے مقابلے میں 4.9 فیصد بہتری آئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آئی ایم ایف کی جانب سے ہر طرف منفی گروتھ کے مقابلے میں چین کو ایک نایاب مثبت صورتحال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بہتری میں وقت لگے گا
اچھی خبر یہ ہے کہ آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ یہ خطہ 2021 میں 6.9 فیصد کی شرح سے ترقی کر سکتا ہے تاہم اس کے لیے کئی عناصر کو پورا ہونا ہوگا، بشمول اس کے کہ وائرس پر قابو پا لیا جائے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ درست پالیسیوں اور ضرورت کے موقع پر بین الاقوامی حمایت ساتھ ہو تو ایشیا کے معاشی انجن مل کر کام کر سکتے ہیں اور خطے کو آگے لے کر جا سکتے ہیں۔‘
تاہم مشکل مرحلہ یہ ہوگا کہ ایشیائی معیشتوں کو برامدات پر انحصار کم کرنا پڑے گا جس میں وقت لگے گا۔












