آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بیروت دھماکہ: کتے کی نشاندہی پر ریسکیو عملے کو ’ملبے تلے زندگی کی تلاش‘، امید ختم ہونے لگی
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے زوردار دھماکے کو گزرے ایک ماہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔ تاہم چلی سے آئی ماہرین کی ایک ریسکیو ٹیم اب بھی ایک عمارت کے ملبے تلے کسی زندہ انسان کی تلاش ہے۔ مگر اس آپریشن کے دو دن کے بعد اب شخص کے مل جانے کی امید ختم ہو رہی ہے۔
بیروت میں ’مار میخائل‘ نامی علاقے میں جدید سینسر آلات کی اُس وقت ضرورت پڑی جب وہاں سے انسانی دھڑکن کے سگنل موصول ہونے کی غیر مصدقہ خبریں سامنے آئیں۔
اطلاعات کے مطابق ابتدا میں بچ جانے والوں کی تلاش رات گئے بند کر دی گئی تھی تاہم تازہ اطلاع موصول ہونے کے بعد امدادی کارکنوں نے ہاتھوں سے ہی ریسکیو کے کام کا دوبارہ آغاز کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے
گذشتہ ماہ چار اگست کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں 2750 ٹن امونیئم نائٹریٹ پھٹنے سے 200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس دھماکے کے باعث تقریباً تین لاکھ افراد بے گھر بھی ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملک میں اس حوالے سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا کہ شہر کی بندرگاہ پر، جو آبادی کے انتہائی قریب موجود ہے، اتنی بڑی مقدار میں ایک گودام میں آتش گیر مواد کو غیر محفوظ طریقے سے کیوں رکھا گیا تھا۔
لبنان کی حکومت کی جانب سے مستعفی ہونے کے اعلان کے باوجود مظاہرین اب بھی مشتعل ہیں اور پولیس کے ساتھ متعدد مرتبہ جھڑپیں کر چکے ہیں۔
لبنان کی فوج کے مطابق انھیں جمعرات کے روز بیروت کی بندرگاہ کے نزدیک سے چار ایسے کنٹینرز ملے ہیں جن میں 4.3 ٹن امونیئم نائٹریٹ موجود تھی۔
فوج کے مطابق ماہرین ان کنٹینرز کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
عمارت کے ملبے سے تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟
چلی سے آنے والی ایک ریسکیو ٹیم نے جب ایک عمارت کے ملبے پر ریسکیو کا کام شروع کیا تو عمارت کے قریب لوگوں کا ہجوم اکھٹا ہو گیا۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ ملبے تلے موجود کوئی شخص اب بھی زندہ ہے یا نہیں۔
ریکسیو ٹیمز کی جانب سے رات گئے کھوج صبح تک کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی کیونکہ ان کے پاس ملبہ اٹھانے کے لیے کرینز کی کمی تھی اور یہ بھی ڈر تھا کہ کہیں عمارت کا بقیہ حصہ بھی زمین بوس نہ ہو جائے۔
جائے وقوعہ پر موجود صحافیوں کے مطابق مقامی رضاکاروں نے ہاتھوں سے ریسکیو کا کام کرنے کا ارادہ کیا اور اس دوران ایک کرین کو نجی حیثیت میں ملبے کی جگہ پر بلا لیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق چلی سے آنے والی ٹیم کے ریسکیو عملے نے بھی دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔
بدھ کی رات جب ریسکیو کا عملہ اس عمارت کے قریب سے گزر رہا تھا تو ان کے ساتھ موجود کتے نے ملبے تلے زندگی کے آثار کی نشاندہی کی۔
جمعرات کی صبح بھی جب یہ کتا ملبے کے قریب پہنچا تو یہ اسی جگہ گیا اور اس نے وہی اشارہ دہرایا۔ ریسکیو عملے کے جانب سے ایک سکینر سے دھڑکن یا سانس لینے کے آثار ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی اور ساتھ ہی ملبہ ہٹانے کے لیے مشینری عمارت تک پہنچائی گئی۔
ریسکیو عملے نے سات، سات افراد کی دو ٹیمز میں تقسیم ہو کر ملبے کو ایک ایک کر کے ہٹانا شروع کیا تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ متعدد مرتبہ وہاں موجود افراد کو خاموش رہنے کی ہدایت کی جاتی تاکہ ریسکیو عملہ سن سکے۔
بی بی سی کی اورلا گیورن عمارت کے قریب موجود ہیں اور ان کے مطابق یہاں ریڈ کراس کی جانب سے ایک ٹینٹ لگایا گیا ہے اور روشنی اور دیگر ضروری سامان کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ فوج کی آگ بھجانے والی ٹیمز اور رضاکار بھی وہاں موجود ہیں۔
چلی سے آنے والا ریسکیو عملہ یکم ستمبر کو لبنان پہنچا۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان کے پاس موجود انتہائی حساس آلات 49 فٹ کی گہرائی میں بھی سانس لینے کے آثار کی نشاندہی کر دیتے ہیں۔
بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق ابھی تک اس حوالے سے تصدیق نہیں کی گئی کہ ملبے تلے کوئی زندہ بچا ہوا ہے لیکن وہاں جمع ہونے والے اکثر افراد کو یہی امید ہے۔
الجزیرہ کی نامہ نگار زینہ خضر نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’ریسکیو عملے کے مطابق انھوں نے ایک ایسے شخص کی کھوج شروع کی ہے جس کے دل کی دھڑکن سنی جا سکتی ہے۔ مار میخائل دھماکے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔
یہ ایک تاریخی علاقہ ہے جو بندرگاہ کے بہت قریب ہے۔ سانحے سے قبل یہ علاقہ نائٹ لائف کے حوالے سے مشہور تھا۔