آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سعودی عرب کے شاہ سلمان نے متعدد فوجی افسران، شاہی خاندان کے دو افراد کو بدعنوانی کے الزام میں عہدے سے ہٹا دیا
سعودی عرب کے سرکاری میڈیا کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے شاہی حکم جاری کرتے ہوئے یمن میں سعودی سربراہی میں اتحادی افواج کے کمانڈر اور ان کے بیٹے الجوف خطے کے نائب گورنر کو وزارت دفاع میں بدعنوانی کے الزامات میں ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا ہے۔
شاہی حکم نامے میں شہزادہ فہد بن ترکی بن عبد العزیز آل سعود کو مشترکہ افواج کے کمانڈر کے عہدے سے برخاست کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹے شہزادہ عبدالعزیز بن فہد بن ترکی کو بھی الجوف کے نائب گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
سعودی روزنامہ عرب نیوز کے مطابق شہزادہ فہد مشترکہ افواج کے کمانڈر بننے سے قبل رائل سعودی فورسز، جو پیراٹروپرز اور سپیشل فورسز کا ایک یونٹ ہے، کے کمانڈر تھے جبکہ کہ ان کے والد سابق نائب وزیر دفاع تھے۔
یہ بھی پڑھیے
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 'وزارت دفاع میں مشکوک مالی معاملات' کی تحقیقات کا حکم دیا تھا جس کے دوران انسداد بدعنوانی کمیشن کو دی گئی اطلاعات کی بنا پر شاہی حکم جاری کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس حکم نامے کے تحت یوسف بن راقان بن ہندی الاطابی، محمد بن عبد الکریم بن محمد الحسن ، فیصل بن عبد الرحمن بن محمد العجلان اور محمد بن علی بن محمد ال خلیفہ کو بھی تفتیش میں شامل کیا گیا ہے۔
انسداد بدعنوانی کمیشن تمام فوجی افسران اور شہریوں کے خلاف تحقیقات کا عمل مکمل کرے گا۔
شاہی فرمان کے مطابق جنرل سٹاف کے نائب چیف لیفٹیننٹ جنرل مطلق بن سلیم بن مطلق العظیمہ کو شہزادہ فہد کی جگہ مشترکہ افواج کے کمانڈر کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کی مشترکہ افواج نے سنہ 2015 میں یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا جنھوں نے صنعا سے سعودی حمایت یافتہ حکومت کو اقتدار سے بے دخل کیا تھا۔
اس تنازع کو سعودی عرب اور ایران کے درمیان ایک پراکسی جنگ قرار دیا جاتا ہے۔
سنہ 2017 میں ولی عہد بننے کے بعد شہزادہ محمد بن سلمان نے ملک میں انسداد بدعنوانی مہم کی نگرانی کی ہے اور اس کے تحت سعودی شہر ریاض کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں درجنوں شاہی خاندان کے افراد، وزراء اور کاروباری افراد کو نظر بند کیا گیا تھا۔
ان میں سے بیشتر افراد کو حکومت کے رقم واپس کرنے کے معاہدے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے اور سعودی حکومت نے ان معاہدوں کے نتیجے میں 106 بلین ڈالرز سے زائد رقم حاصل کی تھی۔
سعودی حکام نے رٹز کارلٹن کی کارروائی کو 15 مہینوں کے بعد ختم کیا تھا لیکن حکومت کا کہنا تھا کہ ریاست سرکاری ملازمین کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کا عمل جاری رکھے گی۔
مارچ میں ، حکام نے رشوت اور عوامی عہدے کے ناجائز استعمال کے الزام میں فوجی اور سکیورٹی کے افسران سمیت 300 کے قریب سرکاری اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا۔