کہانی ایک ہسپانوی بادشاہ، ان کی محبوبہ کورینا اور 65 ملین ڈالر کے تحفہ کی

،تصویر کا ذریعہCorinna zu Sayn-Wittgenstein
- مصنف, لنڑا پریسلی
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
اس سال اگست میں سپین کے سابق بادشاہ یوہان کارلوس نے مالی بدعنوانی کے الزامات کے بعد ملک چھوڑ دیا مگر ہسپانوی عوام کے دل سے کارلوس 2012 سے ہی اترنا شروع ہوگئے تھے جب ان کے حوالے سے ایک ہاتھی کے شکار کی خبریں منظرِ عام پر آنے لگیں تھیں۔
اس سفاری پر ان کے ساتھ ان کی سابق محبوبہ کورینا زسائن وٹگنسٹائن تھیں۔ انھوں نے بی بی سی کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوارن لاکھوں یورو مالیت کے تحفوں، سپین کی خفیہ سروس کی جانب سے ہراس کیے جانے اور اس ہاتھی کے بارے میں بتایا۔
مگر کورینا زسائن وٹگنسٹائن اس ہاتھی کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتیں، جسے بادشاہ نے 11 اپریل 2012 کو شکار کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ہاتھی کا وزن پانچ ٹن تھا، عمر 50 سال تھی اور اس کی ٹسک (دیکھانے کے دانت) ایک میٹر سے زیادہ لمبے تھے۔
وہ ہاتھی کے بارے میں ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کر سکتیں۔ جب ان سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا مجھے بالکل معلوم نہیں۔
کورینا کی پیدائش ڈنمارک میں ہوئی اور وہ جرمنی میں پلی بڑھیں۔ ہاں وہ بادشاہ کے ساتھ سفاری پر تھیں مگر ان کا کہنا ہے کہ جب شوٹنگ ہوئی تو وہ ذرا فاصلے پر تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتی ہیں ’میں نے اسے بعد میں دیکھا کیونکہ ہر کوئی شکار کو دیکھنے جاتا ہے۔ میں ایک شکاری ہوں مگر میں نے کبھی کسی ہاتھی کو نہیں مارا اور نہ ہی کبھی ماروں گی۔ میرے لیے یہ سارا تجربہ ایک طرح سے پریشان کن تھا۔‘
افریقی ملک بوٹسوانا میں یہ سفاری بادشاہ کی جانب سے کورینا کے بیٹے کی دسویں سالگرہ کا تحفہ تھا۔ یوہان کارلوس کورینا کے ساتھ اپنے رومانوی رشتے کے دوران ان کے بیٹے کے قریب ہو گئے تھے۔ جب 2004 سے 2009 کے دوران یہ رومانوی رشتہ جاری تھا تو ہسپانوی عوام کو اس کے بارے میں بالکل معلوم نہیں تھا۔ سنہ 1962 سے بادشاہ کارلوس ملکہ صوفیہ سے شادی شدہ تھے۔

،تصویر کا ذریعہCorinna zu Sayn-Wittgenstein
کورینا کہتی ہیں کہ وہ اس سفاری پر جانے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتی تھیں۔ ’مجھے لگتا تھا کہ بادشاہ چاہ رہے تھے کہ میں پھر سے ان کے قریب ہو جاؤں مگر میں اس غلط خیال کو تقویت نہیں دینا چاہتی تھی۔ مجھے تو ایسا لگ رہا تھا کہ یہ چھٹی مہنگی پڑے گی۔‘
اور شاید کورینا کا یہ خیال درست ہی تھا۔ 13 اپریل 2012 کو بادشاہ اپنے پرتعیش خیمے میں گِر پڑے اور ان کی کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی۔
میڈریڈ واپس پہنچنے پر میڈیا اس سفاری کی کہانی پر ایسے لپکا جیسے بھوکا شیر ہرن پر لپکتا ہے۔ ہاتھی کے شکار کی کہانی کے ساتھ ہی بادشاہ کے داماد کی کرپشن کی کہانی سامنے آ گئی جو ابھی جیل میں تھے۔
ادھر سپین میں 23 فیصد بے روزگاری چل رہی تھی۔ اپنی ٹانگ کے آپریشن کے بعد جب بادشاہ عوام میں آئے تو ان سے اس بارے میں پوچھا گیا جس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ان سے غلطی ہوئی اور آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بادشاہ یوہان کارلوس ایک ایسی شخصیت تھے جن کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا تھا۔ اس کی وجہ سپین کی خون ریز تاریخ میں ان کا کردار تھا۔ ریاست کے سربراہ فرانسسکو فرانکو کی 1975 میں وفات کے بعد بادشاہ کارلوس ملک کو آمریت سے جمہوریت کی جانب لے کر گئے اور 1981 میں انھوں نے ایک بغاوت کا بھی سامنا کیا تھا مگر اب بادشاہت کی مقبولیت کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
سپین میں بادشاہت کے حامی اور دائیں بازو کے اخبار اے بی سی کے سابق مدیر ہوزے آنتونیو کہتے ہیں ’بوٹسوانا کے دورے کا بحران اس وجہ سے بڑھ گیا کیونکہ اس سے متعدد باتیں سامنے آنے لگ گئیں۔‘
’پہلی بات تو یہ کہ بادشاہ کھلے عام ملکہ صوفیہ سے بے وفائی کر رہے تھے۔ دوسرا یہ سب ایک مالی بحران کے دوران ہوا اور بادشاہ نے ایک ایسے ملک کا دورہ کیا جس کے ساتھ سپین کے کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں تو ایسے میں سپین کا سربراہ ہسپانوی حکومت کے ریڈار سے غائب تھا۔ تیسرا یہ کہ یہ ایک انتہائی مہنگا دورہ تھا اور ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے اخراجات کس نے اٹھائے۔ اس سب سے بادشاہ کی ساکھ کو کافی نقصان ہوا۔‘

بادشاہ کارلوس اور کورینا کی ملاقات فروری 2004 میں ایک شوٹنگ پارٹی میں ہوئی۔ وہ کہتی ہیں ’بادشاہ کو اپنی شاٹ گن استعمال کرنے میں مشکل ہو رہی تھی۔ مجھے اس بارے میں کافی معلوم ہے تو اس لیے میں بتا سکی کہ مسئلہ کہاں ہے۔ میرے خیال میں وہ کافی حیران ہوئے تھے۔‘
اور اس رومانوی رشتے کے آگے بڑھنے میں بہت وقت لگا۔
کورینا کہتی ہیں ’شروع میں ہم کئی ماہ تک صرف فون پر بات کرتے رہے۔ ہماری پہلی ڈیٹ گرمیوں کی ابتدا میں ہوئی۔ ہم بہت ہنسے۔ ہماری دلچسپی بہت سے یکساں معاملات میں تھی جیسے کہ سیاست، تاریخ، اچھا کھانا، شراب۔‘

،تصویر کا ذریعہAlamy
’میں اس وقت لندن میں رہتی تھی اور میں نے اپنا نیا بزنس شروع کیا تھا۔ اور میں دو بچوں کی ماں تھی جنھیں اکیلی پال رہی تھی۔ اسی لیے ہم میڈریڈ میں ایک کوٹیج میں ملتے تھے یا پھر اکھٹے سفر کرتے تھے۔‘
’پہلے سال میں یہ زیادہ مشکل تھا کیونکہ میں بہت مصروف تھی اور ان کا ایجنڈا بھی کافی بھرا ہوا تھا مگر وہ دن میں دس دس بار فون کرتے تھے۔ یہ فوراً ایک انتہائی گہرا اور معنی خیز رشتہ بن گیا۔‘
ایک موقع پر کورینا نے بادشاہ سے یہ بھی پوچھا تھا کہ ملکہ صوفیہ کا اس سب کے بارے میں کیا خیال ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ بادشاہ نے کہا ’ان دونوں کے درمیان ایک معاہدہ ہے کہ وہ شاہی خاندان کی نمائندگی اکھٹے کریں مگر اس کے علاوہ وہ بالکل علیحدہ زندگی گزارتے ہیں اور بادشاہ ابھی ابھی کسی اور خاتون کے ساتھ ایک 20 سالہ رومانوی رشتے سے نکلے تھے جن کی ان کے دل میں خاص جگہ تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بادشاہ اور کورینا ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے تھے۔ کورینا بادشاہ کے دوستوں سے ملنے لگیں اور بادشاہ ان کے بچوں سے ملے۔
2009 میں کورینا کے والد سے ملنے بادشاہ کارلوس گئے۔
وہ کہتی ہیں ’میرے والد نے مجھے فون کیا اور بتایا کہ بادشاہ ملنے آئے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں اور مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے میرے والد کو یہ بھی بتایا کہ وہ ایسا فوراً نہیں کر سکتے اور اس میں وقت لگے گا۔ مگر وہ میرے والد کو یہ بتایا چاہتے تھے کہ وہ میرے بارے میں سنجیدہ ہیں۔‘
اور کورینا کا کہنا ہے کہ اسی سال کے آغاز میں بادشاہ کارلوس نے انھیں شادی کی پیشکش کی تھی۔
وہ کہتی ہیں ’ظاہر ہے کہ جب ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک انتہائی جذباتی لمحہ ہوتا ہے۔ اور مجھے ان سے محبت ہو چکی تھی۔ مگر مجھے آگے نظر آ رہا تھا، میں ایک سیاسی تجزیہ کار ہوں، کہ یہ آسان نہ ہوگا۔ اور اس سے شاہی خاندان میں بھی عدم استحکام آ سکتا ہے۔‘
’اسی لیے میں نے اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ میں نے اسے بس رشتے کی سنجیدگی کی علامت کے طور پر لیا بجائے اس کے کہ اس کا آگے کچھ ہو گا۔‘
مگر یہ رومانوی رشتہ اسی سال کے آخر تک ختم ہو جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’میرے والد کو پتے کا کیسنر تھا اور انھیں جینے کے لیے صرف چند ہی ماہ دیے گئے تھے۔ اسی لیے میں نے سوچا کہ میں ان کے ساتھ زیادہ وقت گزاروں۔ اور میں اس وقت شدید حیران ہوئی کہ جب میرے والد کے جنازے کے فوراً بعد ہی مجھے بادشاہ نے بتایا کہ گذشتہ تین برسوں سے ان کا ایک اور خاتون سے بھی رومانوی رشتہ تھا۔‘
’میں بالکل تباہ ہو گئی۔ یہ وہ آخری چیز تھی جس کی مجھے توقع تھی۔ مجھے اپنے والد کی موت کے بعد جذباتی سپورٹ کی ضرورت تھی اور میں اس بات کی توقع بھی نہیں کر رہی تھی کہ مجھے شادی کا پیغام دینے کے بعد، میرے باپ سے ملنے کے بعد وہ ایسا کریں گے۔ میں کئی ماہ تک بیمار رہی۔‘
کورینا کہتی ہیں کہ ان کا خیال تھا کہ ملکہ صوفیہ کے علاوہ وہ بادشاہ کی زندگی میں واحد خاتون تھیں۔
’میں نے انھیں یہ واضح کر دیا کہ میں اس بات کو برداشت نہیں کر سکتی کہ وہ دیگر خواتین کے ساتھ رشتے استوار کریں اور میرے خیال میں انھیں بھی اس بات کا افسوس تھا مگر یہ ایک ایسی چیز تھی جسے میں بھول نہیں سکتی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ ان کے درمیان رشتہ ختم ہو چکا تھا مگر دونوں پھر بھی دوست رہے۔ شاید اس کی وجہ کیونکہ بادشاہ کورینا کے بچوں کے قریب ہو چکے تھے۔ 2009 کے آخر میں بادشاہ نے ان سے ملاقات کے لیے کہا۔
’انھوں نے مجھے ایک بری خبر سنائی۔ ان کے پھیپھڑوں میں ٹیومر کی تشخیص ہوئی تھی اور انھیں یقین تھا کہ یہ کیسنر ہے۔ وہ خوفزدہ تھے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے گھر والوں کو اس بارے میں علم نہیں۔ میں انھیں چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔ تو میں اس وقت کے دوران جب ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی، ان کے انتہائی قریبی اور وفادار دوست کی طرح ان کے ساتھ رہی۔‘
جب سنہ 2010 میں ان کا آپریشن ہونا تھا، تو انھوں نے زسائن وٹگنسٹائن کو اپنے ساتھ ہسپتال میں رکنے کے لیے کہا۔
وہ کہتی ہیں ’میں آپریشن سے پہلے ان کے بستر کے نزدیک ایک کاؤچ پر سوئی کیونکہ وہ آپریشن کے بارے میں کافی پریشان تھے۔
لیکن بائیوپسی سے پتا چلا کہ ٹیومر ہلکی نوعیت کا تھا۔ پھر بادشاہ کا خاندان آ گیا۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
وہ یاد کرتی ہیں کہ بادشاہ کے عملے کے ایک رکن نے انھیں سختی سے وہاں سے جانے کو کہا۔ ’جب ملکہ صوفیا اور کچھ درباریوں کو علم ہوا کہ بادشاہ میرے بارے میں کتنا سنجیدہ تھے تو ایک قسم کی دشمنی شروع ہو گئی۔‘
زسائن وٹگنسٹائن کہتی ہیں کہ اس کے باوجود ہوان کارلوس کے ساتھ ان کی دوستی جاری رہی۔
وہ کہتی ہیں ’ان کے آپریشن سے صحت یابی کافی آہستہ آہستہ ہوئی۔ تو میں وقتاً فوقتاً ان کو دیکھنے کے لیے میڈریڈ جاتی تھی۔‘

جو ہمیں سنہ 2012 میں واپس لے جاتا ہے۔۔۔ بوٹسوانا، ایم مردہ ہاتھی اور بادشاہ کا فریکچر کولہا۔
زسائن وٹگنسٹائن کہتی ہیں ’یہ بات کبھی نہیں بتائی گئی کہ ان کی وطن واپسی کا انتظام دراصل میں نے کیا تھا کیونکہ ایسا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔‘
’ہم نے ایک پرائیویٹ جہاز میں سفر کیا اور مجھے اس بات کا اچھے سے علم تھا کہ بادشاہ کی طبیعت کوئی اچھی نہیں۔ ان کے ساتھ دو ڈاکٹرز تھے جس کی وجہ سے میں خوفزدہ تھی۔ تو میں نے جہاز کو قریب میں ہی رکھا۔ یہ بہت بڑی ذمہ داری تھی۔۔۔ انھیں سرجری کے لیے تیار کیا گیا اور میں بہت زیادہ پریشان تھی کہ ہم انھیں زندہ گھر نہیں لے جا سکیں گے۔‘
بہت جلد ہی سفاری کی کہانی میڈیا میں سنسنی خیز خبر بن گئی اور زسائن وٹگنسٹائن کا ماننا ہی کہ اس کی پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتی ہیں ’میرے خیال میں یہ سفر اس حادثے سے قطع نظر بھی لیک ہو جاتا۔ سنہ 2011 کے اختتام پر بادشاہ کے داماد اور بیٹی سے وابستہ سکینڈل سامنے آنے لگے اور مجھے لگتا ہے کہ اس نے سٹیبلشمنٹ اور شاہی خاندان کے اندر مختلف دھڑوں کو متحرک کردیا۔‘
وہ کہتی ہیں ’محل کے اندر ایسی قوتیں متحرک تھیں جو ہوان کارلوس کو منتقل کرنے پر کام کر رہی تھیں۔‘
شاہی پارٹی بوٹسوانا سے رات گئے واپس میڈریڈ پہنچی۔ بادشاہ ہوان کارلوس کو سیدھا ہسپتال بھیج دیا گیا۔
زسائن وٹگنسٹائن کہتی ہیں ’اس سفر سے واپسی کے فوراً بعد مجھ پر سخت نگرانی رکھی جانے لگی۔‘
’یہ اس مہم کی شروعات تھی جس میں مجھے ایک برے کردار کی طرح دکھایا جانے لگا جو ایک بڑے معاشی بحران کے دوران ایک شاندار آدمی کو بہکا کر اس سفر پر لے گئی۔‘
زسائن وٹگنسٹائن کا دعویٰ ہے کہ افریقہ کے اس سفر کے بعد ہی انھیں سپین کی انٹیلیجنس سروس سے غیر موزوں توجہ ملنے لگی۔ وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ پہلے موناکو میں ان کے فلیٹ کو نشانہ بنایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتی ہیں ’جب میں سفر کر رہی تھی تو اپارٹمنٹ پر قبضہ کیا۔ مجھے اچانک ہی سکیورٹی کمپنی سے پیغامات ملنے لگے کہ سپین میں میرے دوستوں نے ان سے رابطہ کیا ہے۔ اور میں بادشاہ کو میسج کر رہی تھی کہ یہ لوگ کون ہیں، یہ کیا ہو رہا ہے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ ایسا میری خفیہ فوٹوگرافروں سے حفاظت کے لیے کیا جا رہا ہے۔‘
لیکن اگر وہ میری سکیورٹی کے بارے میں فکر مند تھے تو انھیں اپنے اور میرے دوست شہزادہ البرٹ(موناکو کے شہزادے) سے رابطہ کرنا چاہیے تھا اور کہنا چاہیے تھا کہ ہمیں کچھ سکیورٹی خدشات ہیں کیا آپ کورینا کے فلیٹ پر نظر رکھ سکتے ہیں۔‘
تو وہ کیا ڈھونڈ رہے تھے؟ ’دستاویزات۔۔۔ اور بہت اچھے طریقے سے۔۔۔ وہ ہفتوں وہاں رہے۔‘ وہ کہتی ہیں انھیں نہیں معلوم کہ وہ کس طرح کے کاغذات ڈھونڈ رہے تھے۔
زسائن وٹگنسٹائن کہتی ہیں کہ برازیل میں ایک کاروباری سفر کے دوران ان کا پیچھا کیا گیا۔ اور یہ کہ انھیں موت کی ایک گمنام دھمکی بھی موصول ہوئی جس میں انھیں بتایا گیا کہ موناکو اور نائس کے درمیان بہت سی سرنگیں ہیں، جس سے دراصل انھیں شہزادی ڈیانا کو ہلاک کرنے والے حادثے کا حوالہ دیا گیا۔
زسائن وٹگنسٹائن کہتی ہیں کہ سوئزرلینڈ میں ان کے اپارٹمنٹ میں شہزادی کی موت کے بارے میں ایک کتاب بھی چھوڑی گئی۔ وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ سنہ 2012 میں ہسپانوی انٹیلیجنس کے سربراہ فیلکس سانز رولڈان نے لندن میں ان سے ملاقات کی۔
وہ بتاتی ہیں ’انھوں نے کہا کہ بادشاہ نے انھیں بھیجا ہے۔ ’بنیادی وارننگ میڈیا سے بات نہ کرنے کے بارے میں تھی۔‘
’انھوں نے کہا کہ اگر میں ان ہدایات پر عمل نہیں کرتی تو وہ میری اور میرے بچوں کی جسمانی حفاظت کی گارنٹی نہیں دے سکتے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی نے سی این آئی کے ذریعے فیلکس سانز رولڈان (جو اب ہسپانوی انٹیلیجنس کے سربراہ نہیں رہے) سے ان سنجیدہ الزامات سے متعلق بات کرنے کے لیے رابطہ کیا لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اور ہسپانوی کمپنی ایبرڈرولا، جس کے مشاورتی پینل کا فیلکس سانز رولڈان حصہ ہیں، نے ہمارا ان سے رابطہ کرانے سے انکار کر دیا۔
یقینی طور پر فیلکس سانز رولڈان بادشاہ یوہان کارلوس کے بہت قریب جانے جاتے تھے۔
ماہر برائے ہسپانوی انٹیلیجنس سروس فرنانڈو رویڈا کہتے ہیں ’جب فیلکس سانز کو سی این آئی کا ڈائریکٹر تعینات کیا گیا تو بادشاہ اور ان کے درمیان گہری دوستی ہو گئی۔ انھوں نے بادشاہ کی مکمل طور پر حفاظت کی۔‘
وہ کہتے ہیں ’لیکن فیلکس سانز سی این آئی کے پہلے سربراہ نہیں تھے جنھوں نے بادشاہ کو یہ بتایا کہ کورینا کے ساتھ تعلق بہت منفی تھا اور یہ کہ کورنیا پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔‘
تو زسائن وٹگنسٹائن کے ہراسانی کے دعووں کے بارے میں ان کا کیا کہنا ہے؟ وہ کہتے ہیں ’کوئی نہیں جانتا یہ سچ ہے کہ نہیں۔‘
’لیکن مجھے اس سے حیرت نہیں ہوئی، کیونکہ اگر انٹیلیجنس سروس کو لگا کہ سپین کی سکیورٹی کو خطرہ ہے تو وہ کسی سے دستاویزات واپس لینے کے لیے تمام تراکیب استعمال کریں گے۔‘

سپین میں یوہان کارلوس ہاتھی کی وجہ سے ہونے والی بدنامی ختم کرنے کے قابل نہیں تھے۔ سنہ 2014 میں انھوں نے اپنے بیٹے فیلیپ کے حق میں دستبرداری کر دی۔ بطور ایمریٹس بادشاہ، وہ پھر بھی سرکاری مصروفیات، کاروباری دوروں اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے بین الاقوامی سفر میں مصروف رہے۔
استغاثہ نے خاص طور پر ہوان کارلوس کے مشرق وسطیٰ میں قریبی تعلقات کی سخت چھان بین کی۔ عدالتی انکوائریوں کا آغاز ایک ہسپانوی پولیس افسر کی ریکارڈنگ منظر عام پر آنے کے بعد ہوا جس نے یوہان کارلوس کی زسائن وٹگنسٹائن سمیت دیگر امیر اور طاقتور افراد سے بات چیت کو ریکارڈ کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 2018 میں اس ریکارڈنگ کو پسپانوی میڈیا میں شائع کیا گیا۔ ان میں سے ایک ریکارڈنگ میں ایک نسوانی آواز ہسپانوی زبان میں بادشاہ کے بارے میں پوچھتی ہے: ’وہ پیسے کیسے حاصل کرتا ہے؟ وہ ایک جہاز لیتا ہے اور عرب ممالک میں جاتا ہے۔۔۔ اور پیسوں سے بھرے سوٹ کیس کے ساتھ واپس آتا ہے۔۔۔ کبھی کبھی 50 لاکھ کے ساتھ۔ ان کے پاس پیسے گننے کی ایک مشین ہے جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔‘
زسائن وٹگنسٹائن نے کبھی یہ تصدیق نہیں کی کہ ریکارڈنگ میں ان کی آواز تھی لیکن اس ٹیپ میں ہونے والے انکشافات سنسنی خیز تھے جو سوئزرلینڈ اور پھر حال ہی میں تحقیقات کے آغاز کی وجہ بنے۔
100 ملین ڈالر کی ادائیگی جو مرحوم سعودی بادشاہ کی طرف سے ہوئی اور جسے پانامہ میں قائم ایک غیر ملکی کمپنی سے منسلک ایک سوئس اکاؤنٹ میں رکھا گیا۔ اس کا فائدہ یوہان کارلوس کو ہوا۔
سوئس استغاثہ ان تین افراد کی تحقیقات کر رہا ہے جن کا سابق بادشاہ سے تعلق تھا۔ اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا یہ رقم تین سال بعد سعودی عرب میں تیز رفتار ریلوے لنک تعمیر کرنے کے لیے ایک ہسپانوی کمپنی سے بڑے پیمانے پر معاہدہ کرنے سے منسلک تھی یا نہیں۔
سپین میں سپریم کورٹ نے بھی بادشاہ یوہان کارلوس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے لیکن یہ تحقیقات صرف ان مبینہ غلط کاموں کا جائزہ لے سکتی ہیں جو انھوں نے سنہ 2014 میں دستبردار ہونے کے بعد کیے، جب وہ استغاثہ سے استثنیٰ کھو چکے تھے۔
پھر اگست 2020 کے شروع میں، جب ان کو تحقیقات سے منسلک ہوئے ہفتوں گزر چکے تھے، سابق بادشاہ نے اچانک اعلان کیا کہ وہ سپین چھوڑ چکے ہیں۔ ان کے ٹھکانے کے بارے میں دو ہفتوں کی قیاس آرائی کے بعد ہسپانوی شاہی محل نے کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔
تو اس سب میں کورینا زسائن وٹگنسٹائن کہاں فٹ ہوتی ہیں؟ وہ ان افراد میں سے ایک ہیں جن کی تفتیش سوئس استغاشہ کر رہی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سنہ 2012 میں بوٹسوانا کے واقعے کے بعد، اس وقت کے بادشاہ یوہان کارلوس نے سعودی عرب سے ملنے والی 100 ملین ڈالر کی رقم سے بچ جانے والے 65 ملین ڈالر کورینا کو ٹرانسفر کیے تھے۔
وہ کہتی ہیں ’میں بہت حیران ہوئی کیونکہ یہ یقینی طور پر بہت فراخدلی والا تحفہ تھا۔ اگرچہ میں کہوں گی کہ ان کی زندگی کے دوران ہی سنہ 2011 میں انھوں نے اپنی وصیت کے بارے میں بات کی۔ انھوں نے اپنی موت اور وہ اپنی وصیت میں کیا چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں، اس پر بات کرنا شروع کر دی تھی۔
وہ دعویٰ کرتی ہیں ’انھوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ وہ میرا خیال رکھنا چاہتے ہیں لیکن کسی قسم کی کوئی رقم زیر بحث نہیں آئی۔ انھیں پریشانی تھی کہ کہ ان کا خاندان ان کی خواہشات کا احترام نہیں کرے گا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ موناکو میں ان کے فلیٹ کی توڑ پھوڑ کے بعد انھیں پیسے وصول ہوئے تھے اور سی این آئی کے سربراہ نے ان سے ملاقات کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتی ہیں کہ رقم کی ٹرانسفر کے بعد بادشاہ کا شکریہ ادا کرنے وہ میڈریڈ گئیں اور بادشاہ نے انھیں بتایا کہ ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ اس کے لیے خود کو قصوروار سمجھتے ہیں۔
’میرے خیال میں وہ یہ سمجھ کر بہت صدمے میں تھے کہ مجھے کس قدر دباؤ میں رکھا گیا اور کس حد تک میری شناخت کو تباہ کیا گیا۔‘
سوئس استغاثہ کو دیے گئے بیان میں کورینا زسائن وٹگنسٹائن نے کہا ہے کہ بادشاہ نے انھیں یہ رقم محبت کے طور پر دی تھی۔
’میرے خیال میں یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ میں ان کے لیے کیا معنی رکھتی ہوں، میرا بیٹا ان کے لیے کیا معنی رکھتا تھا۔ یہ ان کے بدترین لمحات کے دوران ان کی دیکھ بھال کرنے کے کا شکریہ تھا۔‘
وہ اس بات پر اصرار کرتی ہیں کہ بادشاہ نے یہ رقم ان کو دے کر اسے چھپانے کی کوشش نہیں کی جبکہ 2014 میں، انھوں نے یہ رقم واپس بھی طلب کی تھی۔
وہ کہتی ہیں ’سنہ 2014 میں انھوں نے مجھے واپس حاصل کرنے کی بہت کوششیں کیں۔ ایک موقع پر جب انھیں لگا کہ میں واپس نہیں آؤں گی تو وہ پھٹ پڑے۔ انھوں نے سب کچھ واپس مانگا۔ میرے خیال میں یہ ایک طرح سے کرب کا اظہار تھا۔‘
’لہذا انھوں نے سوئس کارروائی میں اس بات کی تصدیق کی کہ انھوں نے حقیقت میں کبھی بھی رقم واپس نہیں مانگی اور یہ کہ میں نے کبھی بھی ان سے رقم نہیں لی۔‘
یوہان کارلوس کے زسائن وٹگنسٹائن کو لاکھوں یورو کے تحفے نے سپین میں غصے اور اشتعال کو جنم دیا۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی جب سپین کو کورونا وائرس کی بدترین وبا کا سامنا تھا۔
بارسلونا کی ایک نوجوان وکیل ایویٹے ٹورنٹ نے آن لائن ایک پیٹیشن کا آغاز کیا جس میں یہ رقم فوری طور پر ہسپانوی صحت عامہ کے نظام میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
ایویٹے ٹورنٹ کہتی ہیں ’تھکا ہارا طبی عملہ ہزاروں گھنٹے کم سے کم وسائل کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ یہ رقم ان کے مختص کرنا سب سی درست چیز ہو گی۔‘

،تصویر کا ذریعہIvette Torrent
تقریباً 250،000 افراد نے اس پیٹیشن پر دستخط کیے۔ تو ٹورنٹ کے خیال میں بادشاہ کی جانب سے تحفے میں دی گئی اس رقم کے ساتھ ان کی سابقہ محبوبہ کو کیا کرنا چاہیے؟
وہ کہتی ہیں ’مجھے نہیں معلوم کہ آیا یہ پیسہ غیر قانونی ہے لیکن اگر تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ یہ پیسہ غیر قانونی ہے تو انھیں یہ واپس کر دینا چاہیے۔‘
اور اس بارے میں زسائن وٹگنسٹائن کا کیا کہنا ہے؟
وہ کہتی ہیں ’میں یہ سوئس پراسیکیوٹر پر چھوڑتی ہوں۔ اس معاملے پر مجھ پر دباؤ ڈالنا آگے بڑھنے کا درست طریقہ نہیں۔‘
’کیونکہ میرے خیال میں اس کیس میں سب کو سب کچھ واپس کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے جو چیز غیر معمولی محسوس ہوتی ہے وہ یہ کہ فیملی انٹرپرائز کے 40 برسوں کے طریقہ کار کو ایک فرد کی توجہ پر مرکوز کیا جا رہا ہے۔ اور وہ میں ہوں۔۔۔ کیونکہ دوسرے دائرہ اختیار میں سینکڑوں دوسرے اکاؤنٹ ہوں گے۔‘
کورینا زسائن وٹگنسٹائن نے بی بی سی کو گذشتہ کچھ برسوں میں ان کے ساتھ برطانیہ میں پیش آنے والے واقعات سے متعلق پولیس جرائم نمبروں کی فہرست فراہم کی ہے۔
وہ کہتی ہیں ’ہراسانی کبھی ختم نہیں ہوئی، اگر کچھ ہوا ہے تو وہ اس میں شدت آنا ہے۔‘
’لیکن ہم برطانیہ میں ہونے والی کارروائی میں اس کے بارے میں بات کریں گے۔ بدسلوکی کی اس مہم کے تمام عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے۔ یوہان کارلوس مدعی ہوں گے لیکن وہ صرف اکیلے مدعی نہیں ہوں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہFernando Rueda
ہسپانوی انٹیلیجنس کے ماہر فرنینڈو ریوڈا کورینا کے دوعوں پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں ’ایسی صورت میں جب چیزیں عوامی سطح پر سامنے آ چکی ہیں ہسپانوی خفیہ سروسز کے لیے برطانیہ میں انھیں ہراس کرنا اب کوئی معنی نہیں رکھتا۔ وہ خود کو ایک شکار کے طور پر پیش کر کے اپنا دفاع کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں ’کورینا کا مسئلہ یہ ہے کہ انھیں قانونی مقدمات کا سامنا ہے اور انھیں یہ بتانا ہو گا کہ یہ 60 ملین یورو کہاں سے آئے۔ ان پر الزام عائد کیا جا سکتا ہے اور وہ جیل جا سکتی ہیں لیکن ہسپانوی قانون کے مطابق یوہان کارلوس پر الزام عائد نہیں ہو سکتا۔‘
عدالتی معاملات کے باوجود زسائن وٹگنسٹائن کا کہنا ہے کہ انھیں بادشاہ کے ساتھ اپنے ابتدائی تعلق کے بارے میں کوئی افسوس نہیں۔
وہ کہتی ہیں ’مجھے یوہان کارلوس کے ساتھ رومانوی تعلق پر کوئی پچھتاوا نہیں۔ ان کے لیے میرے جذبات کافی مخلص تھے اور اس سب نے جو موڑ اختیار کیا مجھے اس پر شدید افسوس ہے۔‘











