آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
یوکرین میں صدر کی ویڈیو کے بدلے یرغمالی رہا
یونکرینی شہر لتسک میں ایک بس میں دس افراد کو یرغمال بنانے والے شخص نے صدر مملکت کے سامنے ایک غیر معمولی شرط رکھی اور پھر یرغمالیوں کی آزادی کے لیے صدر کو اغواکار کا غیر معمولی مطالبہ پورا کرنا پڑا۔
لتسک میں ایک بس میں یرغمال بنائے جانے والے دس افراد کو آزاد کروا لیا گیا ہے۔ صدر کی مداخلت اور سکیورٹی فورسز کی مدد سے اغوا کار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اغوا کار کی گرفتاری سے قبل صدر ویلاودیمیر زیلینسکی اس کا مطالبہ ماننے پر راضی ہو گئے۔ اغوا کار کا مطالبہ تھا کہ صدر ایک ویڈیو جاری کر کے کہیں کہ ’ہر شخص کو 2015 میں آنے والی فلم ارتھلنگز دیکھنی چاہیے۔‘
پولیس کے مطابق اس 44 سالہ اغواکار کا نام میکسم کریووش ہے۔ اسے ماضی میں بھی سزا ہو چکی ہے۔
یرغمال افراد کی رہائی کے بعد یوکرین کے وزیر داخلہ آرسن آوا کوو نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ 'سبھی لوگ خیریت سے ہیں۔'
اغواکار سے مذاکرات کے لیے آواکوو خود لتسک گئے تھے۔
صدر مملکت سے مطالبہ کیا تھا؟
اس پورے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے صدر زیلینسکی نے کہا لتسک میں جاری واردات کے سبب انھیں سویٹزرلینڈ کے صدر کے ساتھ اپنی ملاقات کو بار بار روکنا پڑا۔
انھوں نے کہا کہ اغوا کار کے مطالبات ایسے تھے جن سے یہ سمجھنا بہت مشکل ہو رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ صدر کی میڈیا ٹیم کی جناب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں انھوں نے کہا کہ ’مجھے اس سمجھنے میں وقت لگا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ متعدد ماہرین نے اس دوران مسلح سکیورٹی اہلکاروں سے بات کی۔ ایک خصوصی حملے کے بارے میں بھی بات ہوئی، لیکن وہ بہت خطرناک راستہ تھا۔ اس لیے اسے مسترد کر دیا گیا۔
صدر زیلینسکی اغوا کار کے مطالبے کے تحت اس سے بات کرنے کے لیے راضی ہو گئے۔
دونوں کے درمیان تقریباً دس منٹ تک بات ہوئی۔ اس گفتگو میں یہ طے ہوا کہ وہ ایک ویڈیو کے بدلے تین یرغمال افراد کو چھوڑ دے گا جس میں ایک زخمی شخص، ایک حاملہ خاتون اور ایک بچہ شامل تھے۔
اس کے بعد صدر نے اپنے فیس بک پیج پر فلم ارتھلنگس کے حوالے سے ایک ویڈیو پوسٹ کی۔ اس فلم میں داستان گو کا کردار ہواخن فینکس نے ادا کیا ہے۔ یہ جانوروں کے حقوق کے بارے میں ایک دستاویزی فلم ہے جسے متعدد فلمی میلوں میں ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔
اس فلم میں پوشیدہ کیمروں کی مدد سے دکھایا گیا ہے کہ جانوروں پر منحصر دنیا کی بڑی بڑی صنعتیں کیا کچھ کرتی ہیں۔
صدر زیلینسکی نے بتایا کہ ’اغواکار نے کہا تھا کہ وہ سوشل میڈیا پر ویڈیو کے شیئر کیے جانے کے آدھا گھنٹے بعد باقی سبھی یرغمال افراد کو بھی چھوڑ دے گا۔ سب کچھ ویسا ہی ہوا۔ اس نے تیس، چالیس منٹ کے اندر سب کو آزاد کر دیا۔‘
صدر زیلینسکی نے کہا کہ اس پورے آپریشن کے ودران سب سے بڑی کوشش یہ تھی کہ کسی کی جان کا کوئی نقصان نا ہو۔
آپریشن کا آغاز منگل کی صبح نو بجے بس کے محاصرے کے ساتھ ہوا۔ ایک ایسا موقع بھی آیا جب اغوا کار نے گولیاں چلائیں اور دھماکہ خیز مواد پھینکا، جو پھٹا نہیں۔
اس کے مطالبات میں یہ بات بھی شامل تھی کہ سینیئر سیاستدان عوام کو بتائیں کہ وہ ایک دہشتگرد ہے۔
سکیورٹی اہلکاروں کے بس کو گھیر لینے کے گھنٹوں بعد تک ماحول میں کشیدگی رہی اور اغواکار سے بات چیت کی کوشش کی جاتی رہی۔
اہلکاروں کے مطابق اغواکار نے یہ بھی کہا تھا کہ اس نے شہر میں ایک مقام پر بم رکھ چھوڑا ہے جسے وہ ریموٹ کی مدد سے کنٹرول کر سکتا ہے۔
اس کے بعد پولیس نے سٹی سینٹر خالی کروا لیا اور شہریوں سے کہا کہ وہ اپنے گھروں اور دفاتر سے باہر نا نکلیں۔
یہ واضح نہیں ہے کہ پولیس کو ایسا کوئی بم شہر میں ملا یا نہیں۔
وزیر داخلہ آواکوو نے بتایا کہ اغوا کار کے پاس بندوقیں اور دیگر اسلحہ تھا اور وہ سنگین خطرہ ثابت ہو سکتا تھا۔
انھوں نے صحافیوں سے کہا کہ کریووش کو اس واردات کے لیے طویل سزا ہو گی۔
اہلکاروں کے مطابق کریووش ماضی میں دھوکا دہی اور غیر قانونی ہتھیاروں کے لین دین کے معاملے میں دس برس جیل میں کاٹ چکا ہے۔