امریکہ کی سپریم کورٹ نے ریاست اوکلاہوما کے نصف علاقے کو قدیم باشندوں کی ملکیت قرار دیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ امریکی ریاست اوکلاہوما کا نصف سے زیادہ علاقہ ’نیٹیو امریکنز‘ یعنی ایسے افراد کی ملکیت ہے جن کی آبائی سرزمین امریکہ ہے۔
اس فیصلے کے ساتھ ہی ایک نابالغ بچی کو ریپ کرنے کے جرم میں سزا یافتہ نیٹیو امریکی شخص کی سزا بھی ختم ہو گئی ہے۔
نو ججوں پر مشمتل ایک بینچ نے چار کے مقابلے میں پانچ ووٹ سے یہ فیصلہ سنایا جس کے مطابق ریاست کا دوسرا سب سے بڑا شہر ٹلسا بھی اب ان مقامی افراد کی ملکیت ہوگا۔
جمسی میکگرٹ نامی مقامی شخص کو سنہ 1997 میں ایک بچی کو ریپ کرنے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔ انھوں نے سزا کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
اپنی اپیل میں جمسی نے نیٹو امریکی قبیلے ’مسکوگی نیشن‘ کے دعوؤں کا حوالے دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ واقعہ اس جگہ پیش آیا جو نیٹو امریکیوں کی ملکیت ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کا مطلب کیا ہے؟
جمعرات کو سنائے گئے فیصلے کو ملک کی حالیہ دہائیوں میں دیے جانے والے بڑے فیصلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ وہ قبائلی باشندے جنھیں مختلف جرائم کے تحت ریاستی عدالتوں سے سزائیں ملی ہیں وہ ان کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ تاہم فیصلہ صرف اسی وقت چیلنج ہو سکے گا اگر جرم اس زمین پر ہوا ہے جہاں کی ملکیت کا فیصلہ سپریم کورٹ نے اب کیا ہے۔

اس صورت میں اب صرف وفاقی حکام کے پاس یہ حق ہے کہ وہ ایسے علاقوں میں ہونے والے جرائم کے خلاف نیٹیو امریکیوں پر مقدمہ چلائیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وہ قبائل جو ان مقامات کی حدود میں رہتے ہیں وہ شاید اب ریاست کو ٹیکس ادا کرنے سے چھوٹ حاصل کر لیں گے۔
تیس لاکھ ایکڑ پر مشتمل اس علاقے میں 18 لاکھ افراد رہائش پزیر ہیں جس میں سے 15 فیصد نیٹیو امریکی ہیں۔
ریپ کیس میں کیا ہوا؟
اس فیصلے سے جمسی میکگرٹ کو ریپ کیس میں ملنے والی سزا بھی ختم ہو گئی تاہم وفاقی عدالت میں ان پر کیس چلایا جا سکتا ہے۔
71 سالہ جمسی کو 1997 میں ایک چار سالہ بچی کے ریپ کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔
سپریم کورٹ میں انھوں نے اپنے جرم سے انکار نہیں کیا لیکن کہا کہ صرف وفاقی حکام کے پاس یہ حق ہے کہ وہ ان پر مقدمہ چلائیں۔










