آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کورونا وائرس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں بڑھتا غصہ
- مصنف, جیرمی بوین
- عہدہ, ایڈیٹر بی بی سی مشرق وسطیٰ
مشرق وسطیٰ کے لیے کورونا وائرس کی عالمی وبا سے پریشان ہونے کی بہت سی وجوحات ہیں مگر جہاں تک اس کا مقابلہ کرنے کی بات ہے تو اس خطے کو باقی جگہوں کے مقابلے میں فوقیت حاصل ہے۔ اس خطے کی زیادہ تر آبادی کم عمر ہے۔
کچھ اندازوں کے مطابق 60 فیصد کی عمر 30 سال سے کم ہے۔ اس وجہ سے ان کو کورونا وائرس لگنے کا امکان باقیوں کی نسبت کم ہے، ایسے ممالک جن کی آبادی میں بڑی عمر کے افراد کی تعداد زیادہ ہے وہاں اس بیماری سے زیادہ اموات ہو رہی ہیں۔
خطے کے بیشتر ممالک نے جب باقی جگہ حالات دیکھے تو انھیں کرفیو اور سماجی فاصلوں کے نفاذ کے لیے وقت مل گیا مگر یہیں اس خطے کو باقی دنیا پر حاصل فوقیت ختم ہو گئی۔ کئی برسوں کے عدم استحکام کی وجہ سے نظام میں کمزوریاں بڑھ گئی ہیں اور جو اس عالمی وبا کی وجہ سے مزید بڑھیں گی۔
طبی سہولیات کہیں ہیں اور کہیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسرائیل کے ہسپتال دنیا کے بہترین ہسپتالوں کی طرح ہیں۔ یمن، شام اور لیبیا میں نظام صحت جو پہلے بھی اتنا اچھا نہیں تھا اُسے کئی برسوں کی جنگ کی وجہ سے یا شدید نقصان پہنچا ہے یا کچھ جگہوں پر یہ نظام تباہ ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق یمن پہلے ہی دنیا کے بد ترین انسانی بحران کا شکار ہے اب یہاں کووڈ 19 کے کیس ہیں جو تیزی سے مفلسی کا شکار گنجان آبادیوں والے علاقوں میں پھیلیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملک کے جنوب میں عدن سیاسی کشمکش کا شکار ہے۔ کووڈ 19 سے دو اموات کے اعلان کے بعد بھی شہری کرفیو کو نظر انداز کرتے ہوئے مارکیٹوں اور مسجدوں کا رخ کر رہے ہیں۔
پریشان کن حالات کی توقع
وہی نوجوان نسل جس کا اس وبا سے بچنے کا امکان سب سے زیادہ ہے، بیماری کے پھیلنے سے پہلے اپنی حکومتوں کے خلاف مظاہرے کر رہی تھی۔
ہر ملک کے شہریوں کے حکام سے شکوے الگ الگ ہیں مگر مشرق وسطی کے عرب حصوں میں مظاہروں کی وجہ بدعنوانی، اقربا پروری اور ملک میں اصلاحات ہیں۔ بدعنوان مقتدر طبقے پر عوامی خزانے سے اُس رقم کے لوٹنے کا الزام ہے جو عوام کی فلاح پر خرچ ہونی چاہیے تھی جن میں ہسپتال کا شمار بھی ہوتا ہے۔
الجزائر، لبنان اور عراق میں ایک صدر اور دو وزرائے اعظم کو عہدے سے ہٹنے پر مجبور کیا گیا۔ مظاہرین نے دارالحکومتوں کے مرکزی علاقوں پر دھرنے دیے اور ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔ عراق میں مظاہرین میں سے چھ سو گولیاں لگنے سے ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے لیکن اس کے باوجود وہ وہاں سے نہیں ہٹے۔
نوجوان افراد جنھوں نے مہینوں سڑکیں خالی نہیں کیں اُن کے لیے قسمت کی ستم ضریفی یہ کہ کورونا وائرس نے انھیں گھروں کے اندر رہنے پر مجبور کر دیا۔
جب وہ باہر نکلیں گے تو انھیں احساس ہو گا کہ وہ معیشت جو انھیں نوکریاں دینے میں بری طرح ناکام رہی ہے، اب مزید برے حالوں میں ہے۔
اس کا نتیجہ ہو گا مزید غصہ جو اس بیماری کی وجہ سے بڑھا مگر جس کی وجہ بیماری نہیں۔ حکام کے پاس زیادہ راستے نہیں بچیں گے۔
معاشی اثرات
عالمی سطح پر ہونے والے شٹ ڈاؤن کی وجہ سے پہلے ہی مشرق وسطی کی معیشتوں کو دھچکا لگا ہے۔
لبنان کی تباہ حال معیشت جس نے مظاہرین کو مفلسی کا شکار کیا وائرس کے آنے سے پہلے مکمل بربادی کے دہانے پر تھی۔ مظاہرین نے وہاں بینکوں کی عمارتیں جلائیں اور ان کا گھیراؤ کیا۔
مشرق وسطی کے بڑے ممالک کو اپنے عزائم جن میں خطرناک اور اکٽر مہنگی خارجہ پالیسی شامل ہوتی ہے ان پر نظر ٽانی کی ضرورت پڑے گی۔ اب شاید وہ دن گئے جن میں اٽرو رسوخ کو خریدا جا سکتا تھا اور پراکسی جنگیں لڑی جاتی تھیں۔
عالمی امور پر نظر رکھنے والے ادارے چیٹم ہاؤز میں مشرق وسطی پروگرام کی سربراہ لینا خاطب کے خیال میں خطے میں سعودی عرب اور ایران جیسی بڑی طاقتوں کو خطے میں اپنے اٽروروسوخ کے پھیلاؤ کے بارے میں اپنے حساب کتاب دوبارہ جڑنے پڑیں گے۔
اُن کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ کس چیز کو فوقیت دیں۔ انھیں ایسی قربانیاں دینی پڑیں گی جن کی ماضی میں انھیں توقع نہیں ہو گی جیسا کہ یمن اور شام۔
کورونا وائرس کے معاشی اٽرات سب کے لیے نقصان دہ ہوں گے، چاہے وہ تیل کی وجہ سے بننے والے خلیجی ارب پتی ہوں یا مصر میں روز کما کر کھانے والے مزدور۔
غریب ممالک میں لاکھوں افراد کا گزارا روز کمائی کر کے ہوتا ہے۔ اگر وہ کرفیو کے دوران کام نہیں کر پاتے تو اُن کے پاس کھانے کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔
ایران وبا کے بعد تجارت کے لیے اپنی سرحدیں کھول رہا ہے جس میں ملک کی جانب سے پیش کیے گئے اندازوں کے مطابق 97 ہزار کیسز میں سے 6 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ وائرس ایک ایسے وقت آیا جب امریکہ کی جانب سے دوبارہ لگائی گئی حالیہ پابندیاں ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہی تھیں۔
مشرق وسطی کی معیشت کا ایک بڑا حصہ مذہب کی خاطر زیارت کے لیے آنے والے لوگ ہوتے ہیں۔
عراق کو کئی ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے اس کا انحصار ایران سے آنے والے لاکھوں شیعہ زائرین پر ہوتا ہے۔ سعودی عرب کے شہر مکہ پر کرفیو لگا ہوا ہے اور اس بات کا پورا امکان ہے کہ جولائی میں حج منسوخ کر دیا جائے گا۔
بڑھتا ہوا غصہ
تیل کی قیمتوں میں بے انتہا تنزل کی وجہ سے ایسے ممالک کی آمدن میں بہت کمی آئی ہے جو پہلے ناقابل تسخیر دکھائی دیتی تھیں۔
سعودی عرب کا انتہائی مہنگا منصوبہ جس کا مقصد ملک کی معیشت کا تیل پر انحصار ختم کرانا تھا اب قابل عمل نظر نہیں آ رہا کیونکہ ملک کے پاس اس کے لیے مالی استطاعت نہیں۔
الجزائر کی 60 فیصد آمدن تیل اور گیس کے ذخائر سے تھی اور اب ملکی اخراجات میں ایک تہائی کمی لائی جا رہی ہے۔ الجزائر میں ہر ہفتے مظاہروں کا سلسلہ ’ہراک‘ ایک سال سے جاری تھا اور اسے مارچ میں وائرس کی وجہ سے روکا گیا تھا۔ لیکن جیسے ہی ملک میں عوامی سرمایہ کاری میں کمی کے نتائج محسوس ہونگے مظاہرین پھر سڑکوں پر نکل آئیں گے۔
سنہ 2011 میں عرب دنیا میں آنے والی بیداری کی لہر نوجوان نسل کے بل بوتے پر آئی تھی جن کے خیال میں اُن سے اُن کا مستقبل چھینا جا رہا تھا۔ تبدیلی کی جو امیدیں وہ لے کر آئے وہ یا تو ضائع ہو گئیں یا انھیں کچل دیا گیا مگر وبا سے پہلے لوگوں میں ایک بار پھر غصہ بڑھ رہا تھا۔
وائرس سے جو نقصان ہوا ہے وہ ایک نئے سیاسی طوفان کی وجہ بن سکتا ہے۔