آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بنگلہ دیش میں ’حد سے زیادہ‘ ماہی گیری سے مچھلیوں کی مختلف انواع نایاب ہونے لگیں
سائنسدان خبردار کر رہے ہیں کہ بنگلہ دیش کے ساحل پر حد سے زیادہ ماہی گیری سے دنیا کے سب سے بڑے سمندری حیاتیاتی نظام میں مچھلیاں ختم ہو رہی ہے۔
خلیج بنگال میں مچھلیوں کے ذخیرے سے متعلق ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مچھلی کی زیادہ تر انواع کم ہو رہی ہیں، جن میں سے کچھ معدوم ہونے کے قریب ہیں۔
اس رپورٹ کے ایک مصنف سید الرحمان چودھری نے بی بی سی بنگالی کو بتایا: ’خلیج تھائی کی طرح دنیا کے کچھ سمندروں میں مچھلیاں ختم ہو چکی ہیں۔‘
’ہم نہیں چاہتے کہ ہمارا خلیج بنگال بھی اس طرح ختم ہو۔‘
ان معاملات پر نظر رکھنے والے نگرانوں کے مطابق سینکڑوں بڑے جہاز غیر مستحکم شرح پر زیادہ مچھلیاں پکڑ رہے ہیں۔ مقامی ماہی گیروں کے مطابق بڑے جہازوں یا ٹرالروں نے مچھلی کی ان اہم اقسام کو نشانہ بنایا ہے جن پر وہ انحصار کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک وسیلہ خشک ہو رہا ہے
بنگلہ دیش کا شمار دنیا کے گنجان آباد ممالک میں ہوتا ہے اور تقریباً 15 لاکھ افراد کا ذریعہ معاش ماہی گیری سے منسلک ہے جبکہ مجموعی طور پر آبادی کے لیے جانوروں سے پروٹین حاصل کرنے میں مچھلی سب سے اہم ذریعہ ہے۔
لیکن حکومت کی جانب سے جاری ایک تین سالہ رپورٹ کے مطابق سب سے بڑی اور قیمتی انواع جیسے کہ ٹائیگر پران اور انڈین سالمن مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں۔
ماہی گیر جاسم چٹاکانگ کی بندرگاہ پر 35 برس سے ماہی گیری کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صرف چند برس قبل تک انھیں مچھلی پکڑنے کے لیے صرف دو گھنٹے ہی محنت کرنا پڑتی تھی لیکن اب وہ اور ان کے ساتھی تقریباً 20 گھنٹے تک سفر کرتے ہیں۔
جاسم کہتے ہیں: ’مچھلی کی ایسی بہت سی انواع تھیں جو پہلے ہم پکڑتے تھے لیکن آج کل وہ نہیں ملتی۔‘
وہ اور دوسرے مچھیرے اس قلت کا الزام خلیج میں بڑے ٹرالر کی موجودگی پر لگاتے ہیں۔
’ٹرالر پر کوئی کنٹرول نہیں‘
بنگلہ دیش کے ساحل پر مچھلیاں پکڑنے والے تقریباً 270 بڑے جہاز ہیں، جن میں سے سب سے بڑا ٹرالر ہر چکر میں 400 ٹن سے زیادہ مچھلیاں پکڑتا ہے جو کہ ماہی گیروں کے سب سے بڑے جہاز سے 20 گنا زیادہ ہے۔
سید الرحمان چودھری بتاتے ہیں: ’ہمیں واقعی پریشانی لاحق ہے کہ اگر ماہی گیری میں خاطر خواہ کمی نہ کی گئی تو ہم آنے والی نسلوں کے لیے یہ وسائل کھو سکتے ہیں۔‘
حکومت ٹرالر لائسنس سے جو فیس وصول کرتی ہے وہ صنعتی بیڑوں کی مالک مٹھی بھر کمپنیوں کے منافع کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔
یہ کمپنیاں ماہی گیری کے لائسنس کی خرید و فروخت کا کام کرتی ہیں جو حکومت کی جانب سے برسوں پہلے جاری کیے گئے تھے، جس سے محکمہ ماہی گیری کے لیے جہازوں کی تعداد پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔
نئی قانون سازی جو اس محکمے کو پرانے لائسنس منسوخ کرنے کا اختیار دے گی وہ اس وقت پارلیمنٹ کے ذریعے اپنا راستہ بنا رہی ہے۔
لیکن محکمے کے قانون نافذ کرنے والے افسران کو قواعد و ضوابط نافذ کرنے کی کوششوں پر آپریٹرز اکثر عدالت لے جاتے ہیں اور عدالت میں ہارنے کی صورت میں انھیں ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرائے جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔
نیول ٹریڈ ڈپارٹمنٹ کے ایک سینئر عہدیدار کیپٹن محمد غیاث الدین کا کہنا ہے کہ بڑے جہازوں کو اس وقت تک نیا لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا جب تک ذخیرے کے بارے میں ٹھوس معلومات نہیں دی جاتی۔
انھوں نے کہا: ’اگر ایسا ہوتا رہا تو ہم مچھلیوں سے محروم ہو جائیں گے۔‘
مچھلیوں کی بڑھتی ہوئی قلت کے ساتھ ٹرالرز نے ماہی گیروں کی ذریعہ معاش اور بنگلہ دیش میں کھانے کی ایک اہم انواع ہلسہ کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
کامیابی کی ایک کہانی
ہلسہ جو بنگلہ دیش کی قومی مچھلی ہے، وہ واحد قسم ہے جس میں کچھ بہتری کے آثار نمودار ہو رہے ہیں۔
اب کئی برسوں سے حکومت نے ہلسہ کے شکار پر 22 دن کی سالانہ پابندی نافذ کر رکھی ہے جس کا اطلاق ہر برس اکتوبر میں ہوتا ہے۔
اس موسمی پابندی کے سبب ہلسہ کو افزائش نسل کے لیے خلیج سے دریائی راستوں میں نقل مکانی کرنے کا وقت ملتا ہے۔
معاوضے کے طور پر حکومت ماہی گیروں کو تقریباً 44 پاؤنڈ چاول کی سبسڈی دیتی ہے۔ لیکن بہت سے ماہی گیروں کے مطابق اس دوران وہ اپنے خاندان کو پالنے کی جدوجہد کرتے ہیں اور مالی تباہی کا سامنا کرتے ہیں۔
گذشتہ برس مئی میں جب حکومت نے اعلان کیا کہ وہ بغیر کسی سبسڈی کے مزید 65 دن کی پابندی عائد کرنے لگی ہے تو سینکڑوں ماہی گیروں نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔
سید الرحمان چودھری کے مطابق ان پابندیوں سے ہلسہ کی آبادی میں اضافہ تو ہوا لیکن ماہی گیروں کو اس کا پھل نہیں مل رہا۔
وہ کہتے ہیں: ’اگرچہ ہلسہ کے تحفظ کی ان تراکیب سے لاکھوں غریب ماہی گیر متاثر ہو رہے ہیں لیکن اس کے فائدے کا ایک بڑا حصہ صنعتی ٹرالر آپریٹرز کو ہو رہا ہے جو حکومت کو بغیر کوئی آمدن اور سماجی فائدے کے ہزاروں ٹن ہلسہ حاصل کررہے ہیں۔‘
ہلسہ کی پیداوار میں اضافہ بیرون ملک کے ’سپر ٹرالرز‘ کو اپنی طرف کھینچتا ہے جو جدید سازوسامان کی بدولت ہلسہ کے مراکز کی نشاندہی کر کے نشانہ بناتے ہیں۔
ایک نئے خطرے کی آمد
سپر ٹرالروں کی گنجائش موجودہ صنعتی جہازوں سے دگنی ہوتی ہے۔
ان کے سائز اور انجن کی طاقت کی وجہ سے وہ تیزی سے گھومتی ہلسہ کو جلدی سے پکڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان میں موجود آلات اور سامان سمندر کی گہرائی میں مچھلیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ایسے چار بڑے جہاز گذشتہ برس بیرون ملک سے چٹاکانگ پہنچے ہیں۔
بنگلہ دیش کے آپریٹرز نے بندرگاہ میں محصور چار سپر ٹرالر خریدے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ مچھلی کے شکار میں انھیں استعمال کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
ان چار میں سے دو جہاز، سی ویو اور سی ونڈ جن کا بنیادی طور پر تعلق تھائی لینڈ سے ہے، صومالیہ میں غیر قانونی طور پر مچھلی پکڑنے کے لیے انٹرپول کے نوٹیفکیشن میں ہیں۔
بین الاقوامی نگراں تنظیمیں اوشن مائنڈ اور انٹرنیشنل جسٹس مشن (آئی جے ایم) سنہ 2018 سے سپر ٹرالرز کا پیچھا کر رہی ہیں اور انھوں نے سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر کے ذریعے ان دونوں جہازوں کی چٹاگانگ بندرگاہ پر موجودگی کی تصدیق کی ہے۔
بین الاقوامی قانون کے تحت بنگلہ دیش اپنے پانی میں میں سی ویو اور سی ونڈ کی موجودگی کے بارے میں صومالیہ کی حکومت کو آگاہ کرنے کا پابند ہے۔
جب کیپٹن غیاث الدین احمد سے ان جہازوں کی موجودی کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: ’ہم سی ویو اور سی ونڈ جہازوں کی موجودگی سے واقف نہیں ہیں۔‘
’وہ پہلے مرمت کے کام کے بہانے بنگلہ دیش میں داخل ہوئے لیکن بعد میں انھیں ملک سے نکال دیا گیا۔‘
بی بی سی نے اس بارے میں بات کرنے کے لیے بنگلہ دیش کی حکومت سے رابطہ کیا تو ہمیں بتایا گیا کہ محکمہ ماہی گیری کورونا وائرس کی وبا کے باعث بند ہے اور متعلقہ وزیر جواب دینے سے قاصر ہیں۔
لیکن سید الرحمان چودھری سپر ٹرالروں کے مچھلی کے ذخیروں پر اثرات اور بنگلہ دیش میں ماہی گیری کے مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’یہ سپر ٹرالرز سمندری وسائل کے لیے خطرہ ہیں۔‘
’اگر اس طرح کے غیر قانونی جہاز بنگلہ دیش میں داخل ہو سکتے ہیں اور بغیر کسی دشواری کے رجسٹر ہو سکتے ہیں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ بنگلہ دیش بلیک لسٹ جہازوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔‘