بنگلہ دیش نے دو ماہ سے سمندر میں سفر کرتے روہنگیا پناہ گزینوں کو بچا لیا

بنگلہ دیش کے کوسٹ گارڈ کے مطابق انھوں نے کم از کم 382 ایسے روہنگیا پناہ گزینوں کو بچایا ہے جو تقریباً دو ماہ سے سمندر میں سفر کر رہے تھے۔

حکام کے مطابق اس کشتی پر سوار دو درجن سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے، جو ملائیشیا جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

کچھ اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر ملائیشیا نے اس کشتی کو واپس بھیج دیا تھا تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ پناہ گزین بنگلہ دیش سے آ رہے تھے یا میانمار سے۔

سنہ 2017 میں میانمار کی فوج کے ایک کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ہزاروں روہنگیا مسلمان ہلاک جبکہ سات لاکھ سے زائد ہمسایہ ملک بنگلہ دیش ہجرت کر گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

گوسٹ گارڈ کے ترجمان لیفٹیننٹ شاہ ضیا رحمان نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا: ’ہم نے کم از کم 382 روہنگیا پناہ گزینوں کو مچھلیاں پکڑنے والے ایک بڑے ٹرالر سے ریسکیو کیا ہے اور انھیں تیکناف کے قریب ساحل سمندر پر لایا ہے۔‘

’وہ بھوکے تھے۔ وہ 58 دن سے گھوم رہے تھے اور گذشتہ سات دن سے ہماری حدود کے پانی میں گردش کر رہے تھے۔‘

لیفٹیننٹ رحمان نے بتایا کہ حکام نے اطلاع ملنے کے بعد کشتی کی تلاش کے لیے تین روزہ سرچ آپریشن کا آغاز کیا اور رات کے وقت جنوب مغربی ساحل سے ڈھونڈ لیا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں ساحل سمندر پر کھڑے لاغر افراد کو دیکھا جا سکتا ہے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

لیفٹیننٹ رحمان نے بتایا:’ہم نے وہ جگہ گھیرے میں لے لی ہے جہاں وہ اترے ہیں۔ ہم اس خوف سے ان سے پوچھ گچھ نہیں کر سکتے کہ وہ کورونا وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔‘

دوسری جانب غیر سرکاری تنظیموں نے بنگلہ دیش اور میانمار سے سینکڑوں روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے انٹرنیٹ کی سروس بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

فلاحی ادارے سیو دا چلڈرن، ایکشن ایڈ اورانٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے بارے میں جان بچانے والی معلومات حاصل کرنے کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی اہم ہے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے گذشتہ برس سکیورٹی خدشات کے پیش نظر روہنگیا مسلمانوں کے اپنے سب سے بڑے کیمپ میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی تھی۔