آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جکارتہ بم دھماکے: اپنی ماں کے قاتل سے آپ کیا کہیں گے؟
- مصنف, ربیکا ہینسکی اور ایندانگ نوردین
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس، جکارتہ
آپ ان لوگوں سے کیا کہیں گے جنھوں نے آپ کی والدہ کو مار ڈالا؟ کیا آپ انہیں معاف کرسکتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا سامنا گذشتہ اکتوبر میں ایک دن انڈونیشیا کے ایک جزیرے میں رہنے والی 17 سالہ سارہ سالابیلہ کو کرنا پڑا تھا۔
آئیون سیتاوان اپنی موٹرسائیکل پر سوار تھے۔ وہ جکارتہ میں آسٹریلیا کے سفارت خانے کے سامنے سے گزر رہے تھے۔ ان کی ساری توجہ اپنی بیوی پر تھی جنھوں نے انہیں پیچھے سے تھام رکھا تھا اور ان کے حاملہ پیٹ کا دباؤ وہ اپنی پیٹھ پر محسوس کرسکتے تھے۔ ان کا دوسرا بچہ چند ہفتوں بعد اس دنیا میں آنے والا تھا اور وہ چیک اپ کے لیے ہسپتال جا رہے تھے۔
وہ وقت یاد کرتے ہوئے آئیون بتاتے ہیں کہ اچانک وہاں زوردار دھماکہ ہوا اور وہ دونوں اچھل کر دور جا پڑے۔
بہت دیر تک آئیون کو یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ خودکش دھماکہ تھا جس کے پیچھے عسکریت پسند تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ جمیۂ اسلامیہ کا ہاتھ تھا۔ یہ گروہ انڈونیشیا میں ہونے والے کئی حملوں کا ذمہ دار تھا جن میں 2002 کے بالی دھماکے بھی شامل ہیں۔ بالی دھماکوں کے دوران 202 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
’مجھے صرف خون نظر آیا۔ ہر طرف خون ہی خون۔ میری ایک آنکھ میں کسی دھات کے ٹکڑے آ کر لگے۔‘
ان کی اہلیہ موٹر سائیکل سے بہت دور جا گریں۔ دونوں کو ہسپتال لے جایا گیا اور سخت صدمے کی حالت میں، زخموں سے نڈھال ہیلیلا سیروجا کو دردِ زہ شروع ہو گیا۔
’انہیں فوراً لیبر روم لیجایا گیا۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ کسی طرح وہ بنا کسی آپریشن کے بچہ پیدا کر سکیں۔‘
اسی رات رزقی پیدا ہوئے۔ ان کے نام کا مطلب ہے ’برکت‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آنسو بھری آواز میں آئیون اور ہیلیلا کی پہلی بیٹی سارہ کہتی ہیں ’میری ماں حیرت انگیز حد تک مضبوط خاتون تھیں۔ اگرچہ ان کی ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں لیکن پھر بھی وہ میرے بھائی کو (بغیر کسی اصافی دوا وغیرہ کے ) جنم دینے میں کامیاب ہوگئیں۔ میرے ماں بہت مضبوط عورت تھیں۔‘
لیکن ہیلیلا زخموں سے صحت یاب نہ ہو سکیں اور دو سال بعد، سارہ کی پانچویں سالگرہ کے دن ان کی موت واقع ہو گئی۔
روتے ہوئے وہ کہتی ہیں ’میں نے اپنی سب سے اچھی دوست، روحانی ساتھی، مجھے مکمل کرنے والی شخصیت کو کھو دیا۔‘ اس بارے میں بات کرنا بہت تکلیف دہ ہے۔‘
پہلے ان کا دل انتقام کے جذبے سے بھرا ہوا تھا۔
وہ کہتے ہیں ’میں چاہتا تھا کہ زندہ بچ جانے والے بمبار مر جائیں۔ لیکن میں یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ وہ جلدی مر جائیں۔‘
’میں چاہتا تھا کہ پہلے ان پر تشدد کیا جائے۔ ان کی جلد کو کاٹ کر زخموں پر نمک ڈالا جائے تاکہ انہیں اپنے حملے سے ہونے والے ذہنی اور جسمانی درد کا کچھ اندازہ ہو سکے۔ میں نے اور میرے بچوں نے زندہ رہنے کے لیے بہت مشکل حالات کا سامنا کیا ہے۔‘
یہ اکتوبر 2019 کی بات ہے، سنہ 2004 میں آسٹریلیائی سفارت خانے پر ہونے والے حملے کو 15 سال اور ہیلیلا کی موت کو 13 سال بیت چکے ہیں۔ رزقی اب جونیئر ہائی اسکول جاتے ہیں جبکہ سارہ کے سکول جانے کا وقت حتم ہونے کو ہے۔ ہم آئیون کے ساتھ ایک کشتی پر سوار تھے جو ایک تنگ آبنائے کو عبور کرتے ہوئے جاوا کے ساحل سے دور جنگل سے ڈھکے جزیرے نواساکمبانگان جا رہی ہے۔ یہاں انڈونیشیا کی سب سے زیادہ سکیورٹی والی جیل بنائی گئی ہے۔
ہم سزائے موت کے انتظار میں قید دو افراد سے ملنے جا رہے ہیں۔ ان دونوں افراد کو اس بم دھماکے کا قصوروار پایا گیا ہے جس نے بچوں سے ماں اور آئیون سے ان کی بیوی کو چھین لیا۔
ہلکی ہلکی بارش میں بندرگاہ پر کھڑے آئیون مجھے بتاتے ہیں ’میرا دل بہت زور سے دھڑک رہا ہے ، میں بہت جذباتی ہو رہا ہوں۔ میرے ذہن میں کیا چل رہا ہے، یہ بتانے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔‘
"مجھے بس یہ امید ہے کہ اس سفر کے بعد میں جان سکوں گا کہ بمباروں کے دل میں کیا ہے۔‘
انڈونیشیا کے ڈی ریڈیکل آئزیشن (انسدادِ انتہا پسندی کے پروگرام) کے تحت آئیون پہلے بھی ایک شخص سے مل چکے ہیں۔ یہ پروگرام شدت پسندوں اور ان کے حملوں کا شکار ہونے والے افراد کے درمیان ملاقاتوں کا اہتمام کرتا ہے۔
لیکن ان کے بچوں کے لیے یہ پہلی بار ہے۔ میں نے تقریباً 100 ویں بار آئیون سے پوچھا کہ کیا وہ واقعی ان افراد سے ملنا چاہتے ہیں؟
کراسنگ ڈیوائڈز
دنیا بھر میں بچھڑے ہوئے لوگوں کو اکھٹا کرنے کی کہانیاں پڑھیے:
پورے یقین کے ساتھ وہ کہتے ہیں ’ہاں ، میرے بچوں کے لیے یہ موقع ملنا بہت اہم ہے۔‘
’میں نے ہمیشہ انیں یہ سکھایا ہے کہ غصہ نہیں کرنا۔ لیکن وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کیسے لوگ ہیں جنھوں نے ایسا کام کیا۔ ہم ان سے ملاقات کا یہ موقع چاہتے ہیں۔‘
ایک چیز تو بہت واضح ہے کہ اس خاندان کے افراد ایک دوسرے سے کتنے قریب ہیں۔
17 سالہ سارہ سیاہ سکارف، دھاری دار قمیض اور لمبی پتلون میں ملبوس ہیں۔ ہمارے پورے سفر کے دوران وہ سیلفیاں لیتی رہیں اور اپنی عمر کے دوسرے نوجوانوں کی طرح موبائل فون پرمصروف نظر آئیں۔
لیکن جب وہ اس بارے میں بات کرتی ہے کہ وہ ایسا کیوں کررہی ہے تو ان کی آنکھیں عزم سے بھری نظر آتی ہیں۔
’مجھے امید ہے کہ یہ ملاقات دہشت گردوں کو سوچنے پر مجبور کر دے گی اور وہ خدا سے معافی مانگیں گے۔ اگر واقعی انھیں اپنے کیے پر پچھتاوا ہے تو یہ چیز دوسروں پر اثرانداز ہوسکتی ہے اور امید ہے کہ دوبارہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔‘
ساہ کے پاس ایک بہت چھبتا ہوا سوال ہے جسے پوچھنے کے لیے انہوں نے برسوں انتظار کیا ہے۔
’میں بس یہ جاننا چاہتی ہوں کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟‘
نارنجی جمپ سوٹ میں ملبوس آئیون ڈرموان منٹو عرف روئس، ایک چھوٹے سے ملاقاتی کمرے میں بیٹھے انتظار کر رہے ہیں۔ وہ کمزور نظر آ رہے ہیں اور وہیل چیئر پر بیٹھے ہیں۔ حال ہی میں ان پر فالج کا حملہ ہوا ہے لیکن ان کی ٹانگیں اور ہاتھ ابھی بھی ہتھکڑیوں میں جکڑے ہیں۔
مقدمے کی سماعت کے دوران جب انھیں قصوروار ٹھہرایا گیا، تو انھوں نے کھڑے ہو کر اپنا مکہ لہراتے ہوئے کہا تھا ’میں شکرگزار ہوں کہ مجھے موت کی سزا سنائی گئی ہے۔۔۔ کیونکہ میں ایک شہید کی موت مروں گا۔‘
خیال کیا جاتا ہے کہ آسٹریلیا کے سفارت خانے کو عراق کی جنگ میں امریکہ کے ساتھ آسٹریلیا کے اتحاد کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
ان کی دونوں جانب دو نقاب پوش سکیورٹی اہلکار کھڑے ہیں۔ ماحول میں بہت زیادہ کشیدگی کی کیفیت ہے۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ اگر روئس کچھ بھی کرنے کی کوشش کریں تو ہمیں فوراً دیواروں کی طرف جانا ہو گا۔
آئیون، سارہ اور رزقی انھیں سلام کر کے پلاسٹک کی کرسیوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ کمرے میں پھیلی خاموشی کو آئیون توڑے ہیں۔
وہ کہتے ہیں ’میرے بچے اس شخص سے ملنا چاہتے تھے جس نے ان سے ان کی ماں کو چھین لیا اور ان کے باپ کی ایک آنکھ ناکارہ بنا دی۔‘
عام سے لہجے میں روئس، آئیون سے پوچھتے ہیں کہ دھماکے کے وقت وہ کہاں تھے۔
آئیون نے بتایا کہ ان کی بیوی حاملہ تھیں اور ان دھماکوں کی رات ہی انھوں نے بیٹے کو جنم دیا تھا۔ رزقی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے آئیون کہتے ہیں ’یہ وہی بچہ ہے جسے انھوں نے جنم دیا۔‘ رزقی اپنے ہاتھوں کو گھور رہے ہیں۔
جواب میں روئس کہتے ہیں ’میرا بھی ایک بیٹا ہے۔ میں نے اپنی بیوی اور بیٹے کو برسوں سے نہیں دیکھا۔ میں ان کی کمی بہت محسوس کرتا ہوں۔ میں تو آپ سے بھی بدتر ہوں۔ آپ تو اب بھی اپنے بچوں کے ساتھ ہیں۔ میرا بیٹا مجھے جانتا تک نہیں۔‘
روئس، سارہ اور رزقی کی طرف دیکھتے ہیں، وہ دونوں اپنے ہاتھوں کو گھور رہے ہیں تاکہ انھیں روئس سے نظریں نہ ملانا پڑیں۔
اچانک سب سارہ کی جانب دیکھنے لگتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے وہ کچھ پوچھنا چاہتی ہیں۔
سارہ اس صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور رونے لگتی ہیں۔ آئیون ان کی جانب بڑھ کر ان کا سر اپنے ہاتھوں میں تھام کر انھیں گلے لگا لیتے ہیں۔ اس کے بعد سارہ خاموشی سے روئس سے پوچھتی ہیں کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا؟
اپنی آنسوؤں سے بھری ہوئی آنکھوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’جو وہ کہتے ہیں کہ میں نے کیا، میں نے نہیں کیا۔ میں نے اس کا اعتراف کیوں کیا؟ جواب میری آنکھوں میں دیکھ لیں۔‘
’شاید بڑے ہو کر آپ کو سمجھ آئے گی۔ میں ان حملوں کی حمایت نہیں کرتا جہاں متاثرین میں مسلمان شامل ہوں۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ آپ مسلمانوں کو قتل نہیں کرسکتے۔ کسی مسلمان کو تکلیف دینا غلط ہے۔‘
گفتگو کا حصہ بنتے ہوئے میں نے کہا ’اور اگر متاثرین مسلمان نہ ہوں تو؟‘
فوراً ہی وہ کہتے ہیں ’میں اس کی حمایت بھی نہیں کرتا۔‘
گارڈز، روئس کے دوسرے قیدیوں پر اثر و رسوخ سے پریشان ہیں اس لیے اب انھیں زیادہ سے زیادہ سکیورٹی والی جیل کے ایک الگ سیل میں رکھا جا رہا ہے۔
اس سے قبل وہ بنیاد پرست مبلغ امان عبد الرحمن کے ساتھ سیل میں تھے۔ امان عبد الرحمن وہی ہیں جنھیں نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ پر بیعت کی تھی۔
ان دونوں افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے جیل کے اندر سے 2016 کے جکارتہ بم دھماکے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
آئیون کے جانے سے پہلے، روئس ان کے لیے دعا کرنے کی پیش کش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’تمام انسانوں سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ اگر میں نے آپ سے کسی کے ساتھ کسی بھی طرح کا ظلم کیا ہے تو میں معافی مانگتا ہوں۔ میں بہت تکلیف میں ہوں۔ میں واقعی ایسا محسوس کر رہا ہوں۔‘
باہر نکل کر آئیون اچھی حالت میں نظر نہیں آتے۔ اس ملاقات نے انھیں بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
آنسوؤں کو روکتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’انھیں اب بھی یہی لگتا ہے کہ انھوں نے ٹھیک کیا۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر انھیں دوبارہ موقع ملا تو وہ پھر سے ایسا کریں گے۔‘
’میں بہت مایوس ہوا ہوں۔ انھوں نے بہت تکلیف دی ہے لیکن انھیں اس چیز کا کوئی احساس تک نہیں۔ میں اور کیا کر سکتا ہوں؟‘
ہم ایک فوجی بس میں سوار ہو گئے جس نے ہمیں جزیرے کا چکر لگوایا۔ ایک جگہ پر چند بندر سڑک کنارے درختوں پر جھول رہے تھے۔
اس جزیرے پر دو جیلیں ہیں اور ہم بٹو نامی جیل سے پیرمیسن جیل میں احمد حسن سے ملنے جا رہے ہیں۔ سارہ اور رزقی کی والدہ کو ہلاک کرنے والے حملے میں ان کے کردار کے لیے احمد حسن کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔
اس مقدمے کی سماعت کے دوران فلمائی گئی ویڈیوز میں چاروں جانب سے سکیورٹی گارڈز اور صحافیوں میں گھرے ہوئے حسن کو عدالت سے نکلتے ہوئے اپنا مکا لہراتے غصے سے کیمرے کو گھورتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن آج ہم جس شخص سے مل رہے ہیں وہ ایک مختلف انسان ہے۔
لمبے سے اسلامی چغے میں ملبوس، نمازیوں والی ٹوپی پہنے۔۔۔ وہ کچھ گھبرائے ہوئے نظر آتے ہیں اور بہت دھیمی آواز میں بات کرتے ہیں۔
آئیون ایک بار پہلے بھی ان سے جیل میں مل چکے ہیں۔
انتہائی نرمی سے ان کے گھٹنے پر ہاتھ رکھتے ہوئے آئیون انھیں بتاتے ہیں ’میں اپنے بچوں کو آپ سے ملوانے لایا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ بھی یہ سمجھیں کہ آپ نے وہ دھماکہ کیوں کیا جس میں انھوں نے اپنی والدہ کو کھو دیا اور میری آنکھ ضائع ہو گئی۔‘
حسن نے سنجیدگی سے اپنا سر ہلایا۔
’انھوں نے اپنی والدہ کو بہت کم عمری میں کھو دیا تھا۔ وہ جاننا چاہتے ایسا کیوں ہوا۔‘
’میں نے آپ کے والد کو بتایا تھا اور اب مجھے آپ کو بھی یہ بتانے کا موقع ملا ہے۔ خدا کا شکر ہے جس نے مجھے یہ موقع دیا۔‘
’میرا آپ کے والد کو تکلیف پہنچانے کا کوئی ارداہ نہیں تھا، لیکن وہ وہاں سے گزر رہے تھے۔ اور میرے دوست نے جو بم اٹھایا ہوا تھا وہ اس وقت پھٹ گیا۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ مجھے معاف کرسکیں گے۔‘
ان کی آواز ٹوٹنے لگتی ہے ’میں عیبوں سے بھرا انسان ہوں۔ میں نے بہت غلطیاں کی ہیں۔‘
سارہ انھیں گھور رہی ہیں لیکن شائستگی اور مضبوط لہجے میں وہ کہتی ہیں ’آپ نے ایسا کیوں کیا؟ کیا وجہ تھی؟‘
وہ جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں ’مجھے اور میرے دوستوں کو غلط تعلیم دی گئی تھی اور ہمیں غلط چیزیں سکھائی گئیں۔ کاش ہم سب کچھ سمجھنے اور اس کے متعلق معلومات حاصل کرنے سے پہلے وہ کام نہ کرتے جو ہم نے کیا۔‘
اس کے بعد سارہ انھیں اپنی کہانی سناتی ہیں کہ کس طرح ان کی پانچویں سالگرہ کے دن ان کی والدہ کی موت ہوئی۔۔۔ کیسے وہ چار بجے پارٹی منانے کا سوچ رہے تھے۔۔۔ اور کیسے ساری خوشی، مایوسی میں بدل گئی۔
رزقی کہتے ہیں ’جب میں چھوٹا تھا تو ہمیشہ اپنے والد سے پوچھتا تھا ’میری ماں کہاں ہیں؟ اور وہ مجھے بتاتے تھے کہ وہ اللہ کے گھر ہیں، میں پوچھتا کہ وہ کہاں ہے تو وہ کہتے کہ مسجد خدا کا گھر ہے۔‘
’میں دوڑ کر مسجد چلا جاتا۔ ایک مرتبہ میری دادی مجھے ڈھونڈتے وہاں آگئیں اور میں نے انھیں بتایا کہ میں اپنی والدہ کا انتظار کر رہا ہوں۔ میں اپنی ماں کے گھر آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ لیکن وہ کبھی گھر نہیں آئیں۔‘
حسن نے آنکھیں بند کیں اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ بار بار وہ خدا سے معافی مانگ رہے ہیں۔
آخر کار وہ بولتے ہیں ’خدا چاہتا تھا کہ میں آپ سے ملاقات کروں اور سمجھانے کی کوشش کروں۔‘
’لیکن میرے بچو میں آپ کو نہیں سمجھا سکتا۔ مجھے بہت افسوس ہے۔‘
’میں اپنے آنسوؤں کو نہیں روک سکتا۔ میں سارہ کو اپنی بیٹی سمجھتا ہوں۔ خدا کے لیے مجھے معاف کردیں۔ یہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔‘
اس چھوٹے سے کمرے میں سب رو رہے ہیں۔
بعد میں آئیون بتاتے ہیں کہ حسن کے آنسو ان کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں۔
’جب میں نے حسن کو روتے دیکھا تھا تب سے میں جانتا تھا کہ وہ ایک اچھے انسان ہیں۔ وہ دوسروں کے دکھ اور تکلیف کو محسوس کرسکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اس وقت وہ غلط لوگوں کے غلط خیالات سے متاثر ہوئے ہوں اور اب ان کا دل بدل چکا ہو۔‘
ملاقات کے اختتام پر وہ ایک ساتھ فوٹو بھی کھینچواتے ہیں۔ انھوں نے ہاتھ تھام رکھے ہیں۔ اس کمرے میں معافی کا معیار کتنا اونچا ہے، یہ احساس حیرت انگیز ہے۔
آئیون کہتے ہیں ’میں ہمیشہ یہ کہتا تھا کہ ان کے لیے سزائے موت ٹھیک نہیں، ہماری تکلیف محسوس کرنے کے لیے پہلے انہیں اذیت دی جانی چاہیے۔ لیکن خدا اپنے ان بندوں کو پسند کرتا ہے جو معاف کرنا جانتے ہیں۔‘
ہم آنسو پونچھتے ہوئے کمرے سے باہر نکلے اور فوجی بس میں واپس سوار ہو گئے۔
اس جزیرے پر ایک مشہور ساحل ہے، جیلوں کے پیچھے ایک ایسی جگہ جو قیدی کبھی نہیں دیکھ پاتے۔ اسے پرمیسن بیچ یا وائٹ بیچ کہا جاتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں ملک کی سپیشل فورسز ٹریننگ کرتی ہیں۔
سارہ، رزقی اور آئیون یہ ساحل دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہ ایک ویران مقام ہے جہاں کٹے ہوئے پتھر ہیں۔۔ لہریں ساحل سے ٹکرا رہی ہیں۔ سارہ، رزقی اور آئیون ہاتھ پکڑے ریت پر دوڑ رہے ہیں۔ میں نے اس سے پہلے سارہ کو اس طرح مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا۔
وہ مجھے بتاتی ہیں ’آج کی ملاقات نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے۔‘
’حسن نے معافی مانگی کی اور اپنے کیے پر افسوس کا اظہار کیا۔ میں نے یہ سیکھا کہ کوئی بہت ہی خوفناک کام کرسکتا ہے لیکن پھر وہ بدل بھی سکتا ہے، اور میں نے انہیں معاف کردیا ہے۔‘
’میں اب بھی بہت مسکرا رہی ہوں کیوں کہ میں جو جاننا چاہتی تھی اور بہت عرصے سے پوچھنا چاہتی تھی میں نے وہ پوچھ لیا ہے اور مجھے اس کا جواب مل گیا۔‘
’میرے ذہن سے بہت بڑا بوجھ ہٹ گیا ہے۔‘
باپ کے قاتل کو معافی
سنہ 2002 میں بالی بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے 202 افراد میں گارل کے والد بھی شامل تھے۔ یہاں گارل دھماکہ کرنے والے علی عمرون سے مل رہے ہیں جو اپنے کیے پر شرمندہ ہیں اور معافی مانگتے ہیں۔