آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ڈیووس 2020: کیا سوئٹزرلینڈ میں ہونے والا ورلڈ اکنامک فورم محض اشرافیہ کی محفل ہے؟
- مصنف, ڈینیل تھامس
- عہدہ, بزنس رپورٹر، بی بی سی نیوز
اس ہفتے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں دنیا کی بڑی کاروباری شخصیات، سیاست دان اور بعض معروف اداکار ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) میں موجود ہوں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نوجوان ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور اوبر کے چیف ایگزیکٹیو دارا خوسروشاہی مہمانِ خصوصی میں شامل ہیں۔
لیکن اس پُرکشش تقریب کا مقصد کیا ہے اور آیا یہ محض اشرافیہ کی ایک محفل ہے؟
یہ بھی پڑھیے
ورلڈ اکنامک فورم کیا ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 1971 میں جب ڈبلیو ای ایف کی بنیاد رکھی گئی تو اس کا مقصد ’دنیا میں بہتری لانا تھا۔‘
ہر سال ورلڈ اکنامک فارم کی تقریب ڈیووس کے الپائن ریزارٹ میں منعقد کی جاتی ہے۔ اس کانفرس کے ذریعے کاروباری سربراہان کو اسی کمرے میں بٹھایا جاتا ہے جہاں سیاست، خیرات اور تعلیم کے شعبوں کے بڑے نام موجود ہوتے ہیں۔
ان میں سے کئی لوگ اپنے ممالک میں سرمایہ کاری کے لیے نجی ملاقاتیں بھی کرتے ہیں اور اس تقریب کے بہانے انھیں کاروباری کے مواقع مل جاتے ہیں۔
دنیا کی امیر اور مقبول شخصیات اکثر اس تقریب کو اپنے عالمی ایجنڈے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ چاہے آپ گذشتہ تقاریب کے دوران شہزادہ ولیم کی ذہنی صحت پر تقریر سن لیں یا ڈیوڈ ایٹنبرا کی ماحول کو درپیش خطرات پر تنبیہ کی مثال لے لیں۔
ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں کون آتا ہے؟
ڈبلیو ای ایف میں تقریباً تین ہزار لوگ شرکت کرتے ہیں۔ ان میں ایک تہائی افراد کاروبار سے وابستہ ہوتے ہیں۔ یہاں شرکت کرنے کے لیے آپ کو دعوت نامہ درکار ہوتا ہے جس کی کوئی قیمت نہیں۔
یا اگر آپ ڈبلیو ای ایف کے رکن ہیں تب بھی آپ اس تقریب کا حصہ بن سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے آپ کو چار لاکھ 80 ہزار پاؤنڈز دینے ہوتے ہیں۔
دنیا کے بڑے رہنماؤں کے علاوہ یہاں اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے سربراہان موجود ہوتے ہیں جبکہ اس تقریب میں بڑی کمپنیوں جیسے کوکا کولا، گولڈ مین ساچز اور آئی بی ایم کے مالکان بھی شرکت کرتے ہیں۔
اس تقریب میں ارب پتی کاروباری شخصیت جارج سوروس، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، فیس بک کے بانی مارک زکربرگ اور یوٹو بینڈ کے گلوکار بونو باقاعدگی سے شرکت کرتے رہتے ہیں۔
ڈیووس کی تقریب کے ناقدین بھی ہیں؟
یہ تقریب محض طاقت اور شخصیات کو اپنی طرف نہیں کھینچتی۔
گذشتہ سال ڈیووس کی تقریب میں ڈچ تاریخ دان روٹگر بریگمین نے پینل استعمال کرتے ہوئے بعض شرکا کو ٹیکس ادا نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
اکثر اس تقریب کے دوران ڈیووس اور سوئٹزرلینڈ کے دیگر شہروں میں مظاہرے بھی ہوتے ہیں۔
یوکرین کی تنظیم فیمن نے دنیا کی معیشت پر مردوں کے غلبے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ اور سنہ 2012 میں ’آکوپائے وال سٹریٹ‘ (یعنی وال سٹریٹ پر قبضہ کرو) مہم نے دنیا میں عدم مساوات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 50 مظاہرین کے رہنے کے لیے برف کے گھر بنائے تھے۔
کیا یہ تقریب محض اشرافیہ کے لیے ہے؟
سنہ 2007 اور 2008 کے مالی بحران کے دوران ڈیوس کی تقریب میں آنا لازم اور بھلے کا کام تصور کیا جاتا تھا۔
لیکن ناقدین کا دعویٰ ہے کہ یہ تقریب دنیا کے امیر ترین افراد کی علامت ہے اور وہ انھیں مالی بحران کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔
گذشتہ سال ٹائم میگزین کے ایڈیٹر آنند گردھراس نے ڈیوس کی تقریب کو ’جدید دنیا تورنے والے لوگوں کے ایک خاندان کی دعوت‘ سے تشبیہ دیا تھا۔‘
تمام شرکا کے لیے ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کے بعد اندر رسائی کا ایک پیمانہ نہیں ہوتا۔ شرکا کو رنگ برنگے بیج دیے جاتے ہیں تاکہ اس بات کا خیال رہے کہ کون کس سے مل سکتا ہے۔
لوگوں کی فہرست میں سب سے اول درجے کے مہمانوں کو سفید رنگ کا بیج دیا جاتا ہے جس پر ایک خاص نشان ہوتا ہے۔ اس سے انھیں تمام جگہوں میں جانے کی رسائی مل جاتی ہے۔
سب سے نچلے درجے کے مہمانوں کو ’ہوٹل‘ بیج دیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کے لیے کانفرنس کے مرکز میں آنا ممنوع ہے۔
اس کانفرنس میں مردوں کی تعداد کا غلبہ رہتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے سب سے امیر مردوں کے لیے ’ڈیوس مین‘ کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔
گذشتہ سال ڈیووس کی کانفرنس میں کل 22 فیصد خواتین تھیں جبکہ یہ تعداد 2015 میں صرف 17 فیصد تھی۔
اس تقریب کے کچھ نمایاں پہلو کانفرنس کی پرکشش جگہ، یہاں ہیلی کاپٹرز میں مہمانوں کی آمدورفت اور اشرافیہ کی دعوتیں ہوتی ہیں۔ ان باتوں کی وجہ سے ’امیر ترین لوگوں کی محفل‘ کا یہ دعویٰ مضبوط ہو جاتا ہے۔
لیکن ڈبلیو ای ایف کا مؤقف ہے کہ یہاں صرف بڑے رہنماؤں کو بھلے کام کے لیے اکٹھا کیا جاتا ہے۔
اخبار فائنینشل ٹائمز میں معاشی مبصر مارٹن ولف کہتے ہیں: ’اشرافیہ ہمیشہ نئی معلومات سے بے خبر ہوتے ہیں۔ یہ ان کی فطرت ہے لیکن یہ ناممکن ہے کہ دنیا ان کے بغیر چل سکے۔ یہ ضروری ہے کہ ان لوگوں کی باقاعدگی سے ملاقاتیں ہوں تاکہ انھیں معلوم ہو سکے کہ باقی کیا سوچ رہے ہیں۔‘
ڈیووس کی کانفرس سے کوئی کامیابی بھی ہوئی ہے؟
اس تقریب سے کئی کمپنیوں کو ماحولیاتی مسائل کو اجاگر کرنا اور تنوع کو فروغ دینا مقصود ہوتا ہے۔
اس کانفرنس نے کچھ بڑی کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔
سنہ 1988 میں ترکی کے وزیراعظم ترگت اوزل (جو بعد میں صدر بن گئے تھے) نے یونان کے وزیر اعظم اینڈریس پیپنڈریو سے ایک اہم ملاقات کی تھی جس کی مدد سے دونوں ممالک جنگ کے خطرے سے بچ گئے تھے۔
سنہ 2000 کے دوران ویکسین کے ذریعے بیماریوں سے نجات کے اتحاد گلوبل الائنس فار ویکسینز اینڈ ایمیونائزیشن (گاوی) نے اس کانفرنس کو لاکھوں بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کی مہم متعارف کرانے کے لیے استعمال کیا تھا۔
ورلڈ اکنامک فورم میں اس سال کیا ہوگا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی تقریر سے توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں۔ وہ گذشتہ سال اس تقریب میں شامل نہیں ہوئے تھے۔
یہ توقع ہے کہ وہ منگل کو تقریر کریں گے۔ یہ وہی دن ہے جب امریکی سینیٹ میں ان کے مواخذے کی کارروائی کا آغاز ہو گا۔
دوسری طرف گریٹا تھنبرگ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک پیغام پیش کریں گی۔ وہ ڈیوس میں سرکاری ذریعہ آمدورفت کے استعمال کے بجائے پیدل چل کر الپائن ریزارٹ پہنچیں گی۔
دیگر بڑے ناموں میں فن لینڈ کی وزیراعظم سنا مرین ہیں جو دسمبر 2019 میں 34 سال کی عمر میں دنیا کی سب سے کم عمر وزیراعظم منتخب ہوئی تھیں۔
اور بالی وڈ اداکارہ دیپیکا پڈوکون بھی ڈیووس کی تقریب میں شرکت کریں گی جہاں وہ ذہنی دباؤ اور ڈپریشن پر بات کریں گی۔