امریکی ریاست یوٹاہ: ’ذومعنی جملوں‘ کے استعمال پر مفت کنڈومز کی تقسیم بند

کنڈوم

،تصویر کا ذریعہGetty creative

،تصویر کا کیپشنیہ فیصلہ پیکجنگ پر موجود جنسی طور پر ذومعنی جملوں کی وجہ سے کیا گیا ہے (فائل فوٹو)

امریکہ کی ریاست یوٹاہ کے گورنر گیری ہربرٹ نے ایک لاکھ کنڈومز کی مفت تقسیم کو روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ پیکجنگ پر موجود جنسی طور پر ذومعنی جملوں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

اس میں یوٹاہ اور اس کے دارالحکومت سالٹ لیک سٹی کے مخففین کو SL,UT کی ترتیب سے لکھا گیا ہے جبکہ ’یوٹاہ کے غاروں میں گھومیں‘ بھی ایک پیکٹ پر تحریر ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

یہ یوٹاہ کے محکمہ صحت کی جانب سے ایچ آئی وی کے انسداد اور محفوظ سیکس کے فروغ کی مہم کے لیے تیار کیے گئے تھے۔

مگر اب محکمے نے اس ’اشتعال انگیز پیکجنگ‘ پر معذرت کر لی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے گیری ہربرٹ کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ وہ ’یوٹاہ کے محکمہ صحت کی جانب سے ریاست کے رہنے والوں کو ایچ آئی وی کے بارے میں آگاہ کرنے کی اہمیت سے واقف ہیں۔‘

’مگر وہ ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے شروع ہونے والی مہم میں جنسی اشاروں کی حمایت نہیں کرتے، اور ہمارے دفتر نے محکمے سے کہا ہے کہ وہ مہم کی برانڈنگ دوبارہ کریں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

اس کے جواب میں محکمہ صحت نے ٹویٹ کیا کہ ’ڈیزائنز کی منظوری کے لیے ضروری مراحل پورے نہیں کیے گئے تھے‘ اور انھوں نے اس مہم میں شامل سب تنظیموں پر زور دیا کہ وہ فوراً ان کنڈومز کی تقسیم روک دیں۔

محکمے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ ’ایچ آئی وی کے انسداد کی مہم چلانے کے لیے‘ اب بھی پرعزم ہیں اور وہ یہ کام ’ایسے انداز میں کرنا چاہتے ہیں جو ٹیکس دہندگان کی رقوم کی عزت کرتا ہو۔‘

محکمے نے ان کنڈومز کو امریکہ کی اس مغربی ریاست میں کئی طبی مراکز کے ذریعے تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

ایچ آئی وی ایسا وائرس ہے جو انفیکشن کے شکار فرد کا مدافعتی نظام آہستہ آہستہ ختم کر دیتا ہے۔

اس کی علامات میں کمی کے لیے دوائیں موجود ہیں مگر اب تک اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔