آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ دنیا کو پسند مگر ٹرمپ نہیں: پیو سروے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت امریکہ کے اندر سیاسی تقسیم پیدا کرنے کا سبب رہی ہے لیکن بیرونی دنیا میں ان کا کیا تاثر ہے؟
امریکی تحقیقاتی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق امریکہ سے باہر بیرونی دنیا کے لوگ دنیا کے طاقت ور ترین ملک کے موجودہ صدر کو کسی نظر سے دیکھتے یا ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔
رائے عامہ معلوم کرنے کے ادارنے پیو نے اسی حوالے سے دنیا کے 33 ممالک میں 37 ہزار افراد سے گذشتہ مئی سے اکتوبر کے عرصے کے دوران رابط کیا اور اس بارے میں ان کی رائے معلوم کی۔
عالمی رائے عامہ کا یہ جائزہ صدر ٹرمپ کی طرف سے ایرانی جنرل سلیمانی کی ہلاکت سے پہلے کرایا گیا تھا۔
رپورٹ کے چیدہ چیدہ نکات
ٹرمپ کے بارے میں رائے۔۔۔
سروے میں شامل ملکوں میں سے صرف 29 فیصد ممالک نے سنہ 2017 میں ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد کے عرصے کو نظر میں رکھتے ہوئے صدر ٹرمپ پر اعتماد کا اظہار کیا۔
پیو کا کہنا ہے کہ صدر پر اتنی بڑی تعداد میں عدم اعتماد کے اظہار کی ایک بڑی وجہ ان کی خارجہ پالیسی ہے۔
صدر ٹرمپ کی ماحولیات، محصولات، امیگریشن اور ایران کے بارے میں پالیسیاں عالمی سطح پر انتہائی غیر مقبول ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شمالی کوریا کے مطلق العنان حکمران کم جان ان سے صدر ٹرمپ کے مذاکرات کرنے سے دنیا کے 33 ملکوں میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح کی اوسط 41 فیصد تک ہو گئی تھی۔
۔۔۔اور امریکہ کے بارے میں رائے
پیو کی رپورٹ سے معلوم ہوا کہ صدر ٹرمپ کے برعکس عمومی طور پر امریکہ کے بارے میں دنیا کی رائے مثبت تھی۔
پیو کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکہ کے بارے میں عالمی سطح پر مثبت رائے صدر ٹرمپ کے اقتدار سنھالنے کے بعد ڈرامائی طور پر کم ہوئی اور صدر اوباما کے دورے کے مقابلے میں قابل ذکر حد تک منفی رہی۔
لیکن گذشتہ سال امریکہ کے بارے میں لوگوں کی رائے میں کچھ بہتری آئی جس کی وجہ پیو کے تجزیے کے مطابق جزوی طور پر کچھ ملکوں میں دائیں بازو کے مقبول گروپس میں ان کی مقبولیت میں اضافہ تھا۔
پیو کے سروے سے ظاہر ہوا کہ مجموعی طور پر اسرائیل میں امریکہ کے بارے میں رائے سب سے مثبت پائی گئی جس کی شرح 83 فیصد تھی۔
جنوبی امریکہ کے ملک میکسیکو، مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ میں امریکہ کے بارے میں اکثریت کی رائے منفی تھی۔ ترکی میں صرف پانچ میں ایک شخص کی رائے امریکہ کے بارے میں مثبت تھی۔
رپورٹ سے ظاہر ہوا کہ دنیا کے پانچ بڑے ملکوں کے موجودہ رہنماؤں میں سے مجموعی طور پر کسی کو بھی بہت زیادہ پسند نہیں کیا جاتا۔
تاہم جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل اس فہرست میں سب سے بہتر رہیں اور امریکہ کے صدر اس فہرست میں سب سے نیچے رہے گو کہ روس کے صدر پوتن اور چین کے صدر ژئی کے بارے میں بھی رائے منفی ہی پائی گئی۔
سروے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ٹرمپ دائیں بازو کے حامل نظریات کے لوگوں میں زیادہ مقبول ہیں اور ان خیالات کے لوگوں میں بھی ان کی مقبولیت پچاس فیصد یا اس سے زیادہ صرف چھ ملکوں میں پائی گئی۔
کون سے ملک ٹرمپ کو بہت پسند کرتے ہیں؟
مجموعی طور پر ایسا ہی لگتا ہے کہ عالمی سطح پر لوگوں کو یہ اعتماد نہیں ہے کہ وہ درست فیصلے کریں گے لیکن کچھ ملکوں میں صدر ٹرمپ کو حمایت بھی حاصل ہے۔
صدر ٹرمپ کو سروے میں شامل کیے جانے والی افریقی اقوام میں ماضی میں ان کے غلط اقدامات جس میں ان کے افریقی ملکوں کو 'گندگی کا گٹر' قرار دینے کا بیان بھی شامل ہے، اس کے باوجود ان کی حمایت موجود ہے۔
سکیورٹی اسسٹنٹ مانیٹر کے مطابق کینیا اور نائجیریا جہاں ٹرمپ کی حمایت پائی گئی دونوں ملک ایسے ہیں جن کو امریکی معاشی امداد ملتی ہے۔
پیو کے سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ افریقہ کے جنوبی ممالک میں امریکہ کے بارے میں مثبت سوچ پائی گئی۔
نائجیریا کے صدر محمدو بوہاری افریقہ کے جنوبی خطے میں شامل ملکوں کے صدور میں سے پہلے صدر تھے جن کو سنہ 2018 میں وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا گیا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے صدر اوباما کی پالیسی کے برخلاف نائجریا کو بارہ فوجی طیارے فروخت کیے۔
صدر ٹرمپ کے فلپائن کے رہنما رودریگو دوتیرت کے بارے میں خیالات کی روشنی میں فلپائن کو ملنے والی امداد کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔
سنہ 2017 میں صدر ٹرمپ نے صدر دوتیرت کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ملک میں منشیات کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے زبردست کام کر رہے ہیں۔
دوتیرت نے سنہ 2016 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ملک میں مبینہ طور پر منشیات میں ملوث افراد کے ماورائے عدالت قتل کی حوصلہ افزائی کی ہے جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
اسرائیل میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت خلاف توقع نہیں ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے قریبی تعلقات ہیں اور بن یامین نیتن یاہو کے امریکی صدر اور ان کے خاندان کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔
صدر ٹرمپ اسرائیل کی حمایت میں بہت آگے نکل گئے ہیں اور انھوں نے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت مقدس منتقل کرنے اور گولان کی پہاڑی علاقوں پر اسرائیل کی عمل داری تسلیم کر کے انتہائی اقدامات اٹھائیں ہیں۔
دنیا کے زیادہ تر ملکوں میں ماضی کے امریکی صدور کے مقابلے میں صدر ٹرمپ پر اعتماد کا شدید فقدان دیکھا گیا۔ ان میں ایک سیاسی میلان بھی دیکھا گیا۔
صدر اوباما سے پہلے امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش تھے جن کا تعلق رپبلکن جماعت سے تھا ان کی بھی مقبولیت کا عالمی سطح پر کم و بیش یہ ہی عالم تھا کو رپبلکن جماعت کے موجودہ صدر ٹرمپ کا ہے۔