'ایک بیرسٹر نے شیف بننا کیوں پسند کیا'

،تصویر کا ذریعہMowgli Street Food
- مصنف, گگن سبروال
- عہدہ, بی بی سی نیوز
بی بی سی کے ہفتے وار پروگرام ’دی باس‘ سیریز میں کامیاب کاروباری شخصیات کے حالات زندگی پر نظر ڈالی جاتی ہے۔ اسی سلسلے میں بی ہم نے مواگی سٹریٹ فوڈ کی خالق نشا کٹونا سے بات کی۔
بیس برس تک وکالت کے پیشے سے منسلک رہنے والی نشا کٹونا نے جب اپنا ریسٹورنٹ کھولنے کا فیصلہ کیا تو ان کے خاندان اور دوستوں کا خیال تھا کہ وہ ادھیڑ عمری کے بحران سے گزر رہی ہیں۔
نشا کٹونا کو اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ ایک کامیاب پیشے کو چھوڑ رہی ہیں اور اسے گھر کے قرضے کی ماہانہ قسط بھی ادا کرنی ہیں۔ لیکن وہ ایک لمبےعرصے سے شیف بننے کا خواب رکھتی تھیں۔ شیف بننے کی خواہش نے نشا کٹونا کی نیندیں حرام کرنی شروع کر دیں۔ نشا کٹونا نے 2014 میں یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ وکالت کو چھوڑ کر شیف بنیں گیں۔ انھوں نے لیورپول میں مواگلی فوڈ سٹریٹ نام کا ریسٹورانٹ کھول لیا۔

،تصویر کا ذریعہMowgli Street Food
مواگلی ریسٹورانٹ جو مستند انڈین کھانوں میں مہارت رکھتا ہے اس نے بہت جلد کامیابی کی منزلیں طے کیں اور صرف چار برس میں اس کی سالانہ فروخت دس ملین پونڈ تک پہنچ چکی ہے۔
نشا کٹونا اپنے ریسٹورانٹ کے نام کے بارے بتاتی ہیں:’مواگلی میری بیٹیوں کا پیار کا نام ہے۔‘ مواگلی کا لفظی مطلب ہے ’جنگلی بچہ‘ ۔ نشا کہتی ہیں کہ مواگلی کا نام جنگل بک کے کردار سے تعلق نہیں ہے۔
میری بیٹیوں نے اس ریسٹورانٹ کا لاگو تیار کیا اور ریسٹورانٹ کا نام ان کے پیار کے نام پر رکھ دیا ۔ نشا کٹونا ایک انڈین تارک وطن کی بیٹی ہیں جو ساٹھ کی دہائی میں لنکاشائر میں آ کر بسے۔
نشا ہمیشہ انڈین کھانوں کی دیوانی تھیں اور اپنی چھٹیوں کو ایسے پلان کرتی تھیں تاکہ وہ نئے نئے کھانوں کو چکھ سکیں۔
یہ بھی پڑھیئے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے ساری دنیا بھر سے کھانے پکانے کی ترکیبیں سیکھی ہیں لیکن انھوں نے کبھی بھی پروفیشنل شیف سے نہیں سیکھا بلکہ انہوں نے عام طور پر نانیوں، دادیوں سے کھانا پکانے کے گر سیکھیے ہیں۔
اپنا ریسٹورانٹ کھولنے سے پہلے نشا کٹونا نے اپنے یوٹیوب چینل پر کھانا پکانے کی تربیت دینی شروع کی۔ انھوں نے اپنا ریسٹورانٹ کھولنے سے پہلے بہت تحقیق کی اور بہت وقت ریسٹورانٹس کے باورچی خانوں میں کھڑے ہو کر یہ دیکھتی تھیں کہ وہاں کیسے کام ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMowgli Street Food
نشا کٹونا کہتی ہیں کہ مواگلی میں وہ یہ دکھاتی ہیں کہ انڈین گھروں یا گلیوں میں کھانا کیسے کھایا جاتا ہے اور ان کا ریسٹورانٹ برطانیہ کے روایتی کری ہاؤسز سے مختلف ہے۔
وہ کہتی ہیں ان کی ڈشیں پکوان کی گھریلو ترکیبوں پر مبنی ہیں وہ سادہ، تازہ اور نفیس ہیں۔
’میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میری دادای کیسے کھانا پکاتی تھیں اور ہم انڈین گھر میں کیسے کھانا کھاتے ہیں۔ ہمارے گھروں میں نہ تو بالٹی ہوتا ہے نہ ہی بھونا، نہ ہی گھر میں نان ہوتے ہیں اور نہ ہی پریاں۔‘
نشا کٹونا انڈین کھانے پکانے کے بارے میں تین کتابیں، پیمپ مائی رائس ، سپائس ٹری اور مواگلی سٹریٹ فوڈ ، لکھ چکی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMowgli Street Food
وہ کہتی ہیں : ’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں نے انڈین کھانے سے متعلق اپنی پہلی کتاب لکھی تو اس سے پہلے میں نے کبھی کتاب نہیں لکھی تھی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں اسے کیسے شائع کراؤں گی۔
’پھر میں نے جیمی اولیور کی کھانوں کی کتاب دیکھی۔ انہوں نے جن کا شکریہ ادا کیا تھا ان کے بارے میں دیکھا۔ وہیں سے مجھے جیمی اولیور کے ایجنٹ کا معلوم ہوا اور میں نے ای میل کے ذریعے اپنی کتاب کی تجویز بھیجی۔ مجھے دس منٹوں میں جواب آ گیا کہ کیا ہم پیر کو مل سکتی ہیں؟
اور پھرمیری کتاب کا معاہدہ ہو گیا۔
نشا کٹونا کا تعلق تارکین وطن کی دوسری نسل سے ہے جو ستر کی دھائی کے برطانیہ میں پلی بڑھی ہیں اور جس کی وجہ سے ان کی ’جلد کافی موٹی‘ ہو چکی تھی۔ وہ لیورپول میں پہلی ایشیائی خاتون بیرسٹر تھیں۔ نشا کہتی ہیں کہ ریسٹورانٹ کھولنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ ’میں اس دباؤ کے لیے تیار نہ تھیں جو مردوں کے غلبے والے پیشے میں عورتوں کو سامنے کرنا پڑتا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں: ’جب میں اپنا ریستوران کھڑا کر رہی تھی تو بعض اوقات اپنے خاندان اور دوستوں نے اس کے بارے میں حقارت کا مظاہرہ کیا کیونکہ اب میرے پاس بیٹیوں کے لیے وقت کم تھا۔
’مجھے ایسا لگا کہ اگر میں مرد ہوتی تو مجھے یہ تنقید سننے کو نہ ملتی۔ بدقسمتی سے آج کے دور میں بھی کاروباری خواتین کو اپنی جگہ بنانے کے لیے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔‘
موگلی سٹریٹ فوڈ کی پہلی برانچ کھلنے کے چار سال کے اندر لیورپول، مانچسٹر، برمنگھم اور آکسفورڈ میں مواگلی کی سات برانچیں کھل چکی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایشیئن کیٹرنگ فیڈریشن کے سربراہ یاور خان کہتے ہیں: ’صرف یہ حقیقت کہ نشا کٹونا صرف چار سالوں میں ایک نہیں، دو نہیں بلکہ سات ریسٹورانٹ کھول چکی ہیں، ظاہر کرتا ہے کہ مقابلے کی اس مارکیٹ میں وہ کچھ تو ٹھیک کر رہی ہیں۔‘
یاور خان کہتے ہیں چالیس برس سے زیادہ کی عمر میں اپنا کیریئر تبدیل کرنے کا مطلب ہے کہ وہ نہ صرف بلاصلاحیت ہیں بلکہ حوصلہ مند بھی۔’ جنوبی ایشیائی خواتین کو اپنے ریسٹورانٹ اور کری ہاؤسز کھولنے کے لیے نشا کٹونا جیسےرول ماڈلز کی ضرورت ہے۔‘
رواں سال نشا کٹونا کو ایک اور اعزاز حاصل ہوا اور انھیں برطانوی فوڈ انڈسٹری کی خدمات کے صلے میں ایم بی ای کے اعزاز سے نوازا گیا۔
نشا کٹونا ملنے والے ایوراڈ کے بارے کہتی ہیں کہ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میری ماں کی دال کو شاہی قبولیت ملی ہو۔








