آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فلپائن کی سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ چین، فلپائن کی ’بجلی بند‘ کر سکتا ہے
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں پارلیمان کو بتایا گیا ہے کہ چین، فلپائن کو بجلی سپلائی کرنے والے نیشنل گرِڈ کو بند کر سکتا ہے۔
نیشنل ٹرانسمیشن کارپوریشن کے سربراہ نے اس امکان کا اظہار سینیٹ کے اجلاس میں کیا۔
فلپائن کے نیشنل گرِڈ کی کچھ ملکیت سنہ 2009 سے چین کے ہاتھ میں ہے۔ اسی حقیقت کی بنیاد پر ایک سینیٹر نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا چین کے ’بالادستی کے عزائم‘ فلپائن کی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان بحیرۂ جنوبی چین پر عملداری کا تنازع موجود ہے۔
سینیٹر رچرڈ گورڈن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنی گرِڈ کا بظاہر چالیس فیصد ایک ایسی غیرملکی کارپوریشن کے سپرد کر دیا ہے جس کے ساتھ بحیرۂ مغربی فلپائن میں ہمارے ملکی مفادات ٹکراتے ہیں۔‘
سینیٹر گورڈن نے بحیرۂ جنوبی چین کا فلپائنی نام استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ظاہر ہے کہ وہ (ملک) علاقی بالادستی کے عزائم رکھتا ہے۔
سینیٹ کو بتایا گیا کہ اگرچہ بجلی کی فراہمی دور سے بند کی جا سکتی ہے تاہم اس چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے کے دوران بحال کیا جا سکے گا۔
چین کیسے بجلی بند کر سکتا ہے؟
فلپائن کی نیشنل گرِڈ کارپوریشن (این جی سی پی) میں چالیس فی صد حصہ چین کی سٹیٹ گرِڈ کارپوریشن کا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
این جی سی پی ملک کی واحد ٹرانمیشن لائن چلاتی ہے جو شمال سے جنوب تک جاتی ہے۔
گزشتہ ہفتے سینیٹر رِسا ہونٹیوروس نے پوچھا تھا کہ این جی سی پی میں چینی حصے کو دیکھتے ہوئے ’کیا یہ ممکن ہے کہ ملک کے پاور گِرڈ کو باہر سے بند کیا جا سکے۔‘
اس پر سینیٹ کمیٹی برائے توانائی کے چیئرمین شروِن گیٹچالیئن نے سرکاری ملکیت میں قائم گرِڈ کی مالک ٹرانسکو سے رائے طلب کی تھی۔
ٹرانسکو کے صدر میلوِن میٹیبیگ کا جواب تھا کہ ’برقیاتی مواصلات میں ترقی کے پیشِ نظر اس بات کا امکان موجود ہے۔‘
اگر ایسا ہوا تو فلپائن کیا کر سکتا ہے؟
سینیٹر گیٹچالیئن کا کہنا تھا کہ این جی سی پی کی نجکاری کے وقت ضروری حفاظتی تدابیر اختیار کی گئی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ہنگامی حالت میں صدر کے پاس اختیار ہے کہ برقی شعبے کا نظم و نسق سنبھال کر بجلی چویس سے اڑتالیس گھنٹے کے اندر بحال کر دی جائے۔
یہ صورتحال جنگ، بغاوت اور قدرتی آفت کے دوران پیش آ سکتی ہے۔
ان کے بقول ایسے قواعد و ضوابط موجود ہیں جن کے مطابق مفاد عامہ کے شعبوں کا انتظام فلپائن کے شہری سنبھال لیں۔
کیا چین ایسا کہیں اور بھی کر سکتا ہے؟
حالیہ برسوں میں چین نے تیزی سے بیرون ملک سرمایا کاری کی ہے۔
ان میں نجی کمپنیوں کی خریداری، پراپرٹی، مواصلات اور توانائی جیسے شعبے شامل ہیں۔
سینیٹر ہونٹیویروس نے اجلاس کو بتایا کہ ناری گروپ نے کینیا، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ میں پاور گرِڈ کو ریموٹ کنٹرول سے چلانے والا نظام فراہم کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا ’ان ممالک میں ایسے نظام کی موجودگی ایک طرح سے ہمارے لیے یقین دہانی ہو سکتی ہے، یا پھر ایک اہم سبق۔‘