اردن: سیاح قدیم شہر پیٹرا کی طرف کیوں کھنچے چلے آ رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAFP
سنہ 2007 میں اردن کے قدیم شہر پیٹرا کو ’دنیا کے سات نئے عجائب‘ میں شامل کیا گیا تھا۔ گذشتہ دو سالوں سے اردن آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور ٹور آپریٹرز اسے مشرق وسطیٰ میں سیاحوں کے لیے محفوظ مقامات میں شمار کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے پیٹرا ڈیولپمنٹ اینڈ ٹورزم اتھارٹی کے چیف کمشنر، سلیمان فراجات کا کہنا تھا ’آج ہم پیٹرا کے روز سٹی آنے والے سیاحوں کی تعداد 10 لاکھ ہونے پر بہت خوش ہیں۔ واقعی، یہ ایک ریکارڈ تعداد ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
سلیمان فراجات کا یہ بھی کہنا تھا ’ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک سال میں 10 لاکھ سیاحوں نے پیٹرا کا دورہ کیا ہے۔ یقیناً اس سے ہم پر سیاحوں کے لیے سہولیات اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے دباؤ بڑھتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پیٹرا آنے والے اکثر سیاح یہاں تک آنے کے لیے اونٹ پر سفر کرتے ہیں۔ اسی لیے آثار قدیمہ والے اس شہر میں اونٹ مالکان سیاحوں کو کرائے پر دینے والے اونٹ ساتھ لیے نظر آتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یہاں تحائف کی خریداری کے لیے مختلف سٹال بھی لگائے گئے ہیں۔ سیاح ’الخزنہ‘ (خزانہ) کہلائی جانے والی عمارت کے سامنے تصاویر بنواتے نظر آتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ قدیم شہر وادی موسیٰ میں پہاڑوں کو کھود کر بنایا گیا ہے۔ چٹانوں کے منفرد رنگ کی وجہ سے اس قدیم شہر کو ’روز سٹی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا ذریعہAFP
۔






