سابق امریکی سفیر نکی ہیلی کا دعویٰ ہے کہ صدر کے دو اہم مشیروں نے ان سے کہا کہ ٹرمپ کے احکام نہ مانو

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سابق سفیر نکی ہیلی نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے دو اہم مشیروں نے ان سے کہا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے احکامات نہ مانیں۔

اپنی نئی کتاب میں نکی ہیلی نے کہا ہے کہ اُس وقت کے وائٹ ہاؤس میں چیف آف سٹاف جان کیلی اور اس وقت کے وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے ان سے کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کے بعض مطالبات کے خلاف مزاحمت کریں۔

انھوں نے مبینہ طور پر نکی ہیلی سے کہا کہ وہ 'ملک کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔'

اس کے متعلق ریکس ٹیلرسن کی جانب سے کوئی فوری ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے جبکہ جان کیلی نے کہا ہے کہ وہ یہ چاہتے تھے کہ صدر کو پوری طرح باخبر رکھا جائے۔

جان کیلی نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو بتایا کہ 'اگر ’مزاحمت‘ اور ’روکنے‘ سے ان کی مراد یہ ہے کہ عملے کی سطح پر نظام بنایا جائے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ صدر کوئی بھی پالیسی فیصلہ کریں تو انھیں اس سے قبل اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا مکمل علم ہو جیسا الزام انھوں نے لگایا ہے میں اس کا مجرم ہوں۔'

ادھر صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر کتاب کے حوالے سے نکی ہیلی کو مبارکباد دیتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ’گڈ لک نکی!‘

کتاب میں وہ کیا کہتی ہیں؟

نکی ہیلی نے کہا ہے کہ جان کیلی اور ریکس ٹیلرسن نے ان سے کہا کہ 'وہ ماتحت نہیں، وہ ملک کو بچانا چاہتے ہیں۔'

یہ کتاب منگل کو منظرِ عام پر آئے گی لیکن اس سے قبل واشنگٹن پوسٹ نے اس کتاب ’وِد آل ڈیو رِسپیکٹ‘ کو دیکھا ہے جس میں نکی ہیلی نے لکھا ہے کہ 'امریکہ کے مفاد میں فیصلے صدر کے نہیں ان کے تھے۔‘

نکی ہیلی نے مزید کہا کہ ریکس ٹیلرسن نے ان سے کہا کہ اگر صدر پر لگام نہیں لگائی گئی تو لوگ مریں گے۔

47 سالہ نکی ہیلی نے کہا کہ انھوں نے ریکس ٹیلرسن اور جان کیلی کی درخواست کو مسترد کر دیا اور اسے ’خطرناک‘ قرار دیا۔

نکی ہیلی نے سی بی ایس کو بتایا کہ 'مجھے بتانے کے بجائے انھیں یہ باتیں صدر سے کہنی چاہیے تھیں نہ کہ مجھے اپنے جانبدار منصوبے میں شامل ہونے کے لیے کہنا چاہیے تھا۔‘

'یہ اس طرح ہونا چاہیے تھا کہ جاؤ جا کر صدر کو بتاؤ کہ تمہارے تضادات کیا ہیں اور اگر جو وہ کر رہے ہیں آپ کو پسند نہیں تو آپ استعفیٰ دے دیں۔ لیکن ایک صدر کی جڑ کھودنا۔۔۔ واقعی خطرناک چیز ہے اور یہ آئین کے خلاف بھی جاتا ہے اور یہ امریکیوں کی خواہشات کے منافی بھی ہے۔'

سابق سفیر نے کہا کہ وہ سنہ 2017 میں ہیلسنکی میں ہونے والی سربراہی کانفرنس کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ صدر کے سلوک پر رضامند نہیں تھیں۔

انھوں نے لکھا کہ سنہ 2017 میں شارلٹس وِل میں سفید فام فوقیت پر مبنی ریلی کے بعد ان (صدر) کا یہ کہنا کہ 'دونوں جانب' اچھے لوگ تھے 'تکلیف دہ اور خطرناک' بات تھی۔

لیکن نکی ہیلی نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے صدر ٹرمپ کی ایسی بہت سی پالیسیوں کی حمایت بھی کی جن کے انتظامیہ میں بہت سے لوگ مخالف تھے۔ ان میں امریکہ کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے نکلنے اور ماحولیات کے پیرس معاہدے سے نکلنے کے فیصلے شامل تھے۔

سی بی ایس کے ساتھ انٹرویو کے دوران انھوں نے ڈیموکریٹس کی جانب سے صدر کے مواخذے کی کارروائی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مواخذہ 'سرکاری حکام کو سزائے موت دینے جیسا ہے۔'