شام میں ترکی کی فوجی کارروائی: اردوغان کا کرد جنگجوؤں کے ’سر کچلنے‘ کے عزم کا اظہار

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ اگر کرد جنگجو منگل کی شام تک شمالی شام میں مجوزہ محفوظ زون والے علاقے سے نہ نکلے تو ترکی ان کے ’سروں کو کچل‘ دے گا۔

یاد رہے کہ ترکی نے جمعرات کو پانچ دن کے لیے اپنے فوجی آپریشن کو اس مقصد کے تحت معطل کردیا تھا تاکہ اس علاقے سے کرد جنگجو بحفاظت نکل کر واپس جا سکیں۔

ترکی کرد جنگجوؤں کو دہشتگرد سمجھتا ہے اور شام کے اندر ایک محفوظ زون بنانے کا خواہاں ہے جہاں شامی پناہ گزینوں کو واپس بسایا جاسکے۔

اس معاہدے کے باوجود راس العین میں فائرنگ کاسلسلہ جاری رہا۔

تاہم سنیچر کو فریقین نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

ترکی کے مرکزی صوبے کیسری میں سنیچر کو ٹیلی ویژن پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ جنگ بندی کی شرط کے مطابق اگر منگل کی شام تک کرد جنگجو اس علاقے سے واپس نہیں لوٹے ’تو ہم اپنی کارروائیوں کا آغاز وہیں سے کریں گے جہاں سے ہم نے یہ فوجی آپریشن معطل کیا تھا۔

اور ہم پھر دہشت گردوں کے سروں کو کچلنا شروع کر دیں گے۔‘

ترک رہنما اگلے ہفتے روس کے صدر ویلادیمر پوتن کے ساتھ بات کرنے والے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو ترکی ’اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کرے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

اس سے پہلے ترکی اور کرد افواج نے ایک دوسرے پر شمالی شام میں جاری عارضی جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

ترکی کی وزارتِ دفاع نے کرد افواج پر گذشتہ 36 گھنٹوں کے دوران 14 ’اشتعال انگیز‘ حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے تاہم اس کا اصرار ہے کہ ترک افواج اس معاہدے کی مکمل پاسداری کر رہی ہیں۔

دوسری جانب کردوں کی زیرقیادت سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے ترکی پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

ایس ڈی ایف نے ترکی پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ محصور قصبے سے شہریوں اور زخمی افراد کے انخلا کے لیے محفوظ راہداری بنانے میں ناکام رہا ہے۔

ایس ڈی ایف نے سنیچر کو امریکی نائب صدر مائیک پینس پر زور دیا کہ وہ ترکی پر دباؤ ڈالیں کہ وہ عام شہریوں کو منتقل کرنے کی اجازت دے۔

ایک بیان میں ایس ڈی ایف نے کہا ’امریکی فریق کے ساتھ مستقل رابطے اور ان کی طرف سے اس مسئلے کو حل کرنے کے وعدے کے باوجود اس میں کوئی قابل زکر پیشرفت نہیں ہو سکی ہے۔‘

برطانیہ میں قائم سیرین آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس (ایس او ایچ آر) نے الزام عائد کیا ہے کہ انسانی امداد کی فراہمی کو بھی راس العین میں داخل ہونے سے روکا گیا ہے۔

برطانوی ادارے ایس او ایچ آر نے جمعے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی کی شمالی شام میں کی جانے والی کارروائیوں میں اب تک 86 شہری ہلاک جبکہ 160,000 سے 300,000 افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ اس نے کرد جنگجوؤں کو شمالی شام سے نکلنے کا موقع دینے کے لیے ترکی کے ساتھ پانچ روزہ جنگ بندی کا معاہدہ کیا تھا۔

یہ معاہدہ امریکی نائب صدر مائیک پینس اور ترک صدر رجب طیب اردوغان کے درمیان انقرہ ہونے والی ملاقات میں طے پایا تھا۔

امریکی نائب صدر مائیک پینس کے مطابق معاہدے کے تحت پانچ دن کے لیے جنگ بندی ہو گی اور امریکہ کرد جنگجوؤں کو وہاں سے نکلنے میں مدد فراہم کرے گا۔

ترکی اس علاقے میں ایک ’محفوظ زون‘ بنانا چاہتا ہے جہاں کرد ملیشیا کا وجود نہ ہو اور جہاں ترکی آنے والے تقریباً 36 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو رکھا جائے۔

حملے کا سبب کیا بنا؟

واضح رہے کہ ترکی نے نو اکتوبر کو صدر ٹرمپ کی جانب سے شمال مشرقی شام سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے فیصلے کے بعد کردوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ان کا مقصد شام کی سرحد کے ساتھ 480 کلومیٹر ایک 'محفوظ زون' بنانا ہے جو کرد میلیشا سے پاک ہو اور یہ شامی مہاجرین کے لیے گھر بھی ہو سکتا ہے۔

شام سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد صدر ٹرمپ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے ترکی کو کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے لیے گرین سگنل ملا ہے۔

صدر ٹرمپ پر زیادہ تنقید ان کی اپنی پارٹی کی جانب سے کی جا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ کی ریپبلیکن پارٹی کے 129 ممبران نے ڈیمو کریٹس کے ساتھ مل کر صدر کے اس اقدام کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

ادھر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس نے جنگی جرائم اور دیگر خلاف ورزیوں کے ’ثبوت‘ اکٹھے کیے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے ترکی سے ان الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ترکی کی اتحادی فوجوں نے شام میں سفید فاسفورس کا استعمال کیا ہے جو ایک کیمیائی ہتھیار ہے اور جو بری طرح سے سے جلا دیتا ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) نے کہا ہے کہ وہ ان دعووؤں سے بخوبی واقف ہے اور وہ اس متعلق شواہد اکٹھا کر رہی ہے۔