آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شام میں ترکی کی فوجی کارروائی: کردوں کا ترکی سے نمٹنے کے لیے شامی فوج سے معاہدہ
شام میں کردوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے ترکی کی جانب سے ان کے خلاف جاری کارروائی کو روکنے کے لیے اپنی فوج کو شمالی سرحد پر بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے شام کی 'غیر مستحکم' صورت حال اور وہاں سے اپنی باقی تمام فوج کو نکالنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
اس سے قبل شام کے سرکاری میڈیا نے بتایا تھا کہ فوج کو شمال میں تعینات کر دیا گیا ہے۔
ترکی کی جانب سے کردوں کے خلاف کی جانے والی اس کارروائی کا مقصد کرد افواج کو اس سرحدی علاقے سے نکالنا ہے۔
واضح رہے کہ ایس ڈی ایف اس علاقے میں امریکہ کی حریف رہی ہیں۔
ترکی نے کردوں کی زیرِ قیادت شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے زیر کنٹرول علاقوں پر گذشتہ پانچ دنوں کے دوران شدید بمباری کی ہے جس میں دونوں جانب سے درجنوں عام شہری اور جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کردوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں 130,000 سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ یہ تعداد جلد ہی تین گنا ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب کرد حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو ترکی کی جانب سے کیے گئے حملے کے دوران شام کے شمالی علاقے میں واقع عین عیسیٰ نامی کیمپ سے دولتِ اسلامیہ سے وابستہ سینکڑوں غیر ملکی قیدی فرار ہو گئے۔
کرد حکام نے مطابق دولت اسلامیہ سے وابستہ جنگجوؤں کے 800 کے قریب رشتہ دار اس کیمپ سے فرار ہوئے۔
عین عیسیٰ کیمپ میں تقریباً 12,000 افراد موجود تھے جن میں 1,000 کے قریب خواتین اور بچے وہ تھے جن کے جہادی گروہوں سے تعلقات تھے۔
ایس ڈی ایف نے گذشتہ ہفتے متنبہ کیا تھا کہ اگر ترکی کی جانب سے ان کے خلاف حملے جاری رہے تو وہ دولتِ اسلامیہ کے قیدیوں کی نگرانی کو ترجیح نہیں دیں گے۔
ترکی کی جانب سے بدھ کو شروع کی جانے والی ان کارروائیوں اور امریکی فوج کے انخلا کی بین الاقوامی سطح پر تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ ایس ڈی ایف شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں مغرب کی اہم اتحادی رہی ہیں۔
لیکن ترکی کرد گروہوں کو 'دہشت گرد' قرار دیتا ہے اور وہ اس علاقے میں ایک 'محفوظ زون' بنانا چاہتا ہے جہاں کردوں کا وجود نہ ہو اور جہاں ترکی آنے والے 30 لاکھ سے زیادہ شامی پناہ گزینوں کو رکھا جائے۔
ہم معاہدے کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
شمالی شام میں کردوں کی زیر قیادت انتظامیہ نے کہا ہے کہ معاہدے کے مطابق شامی فوج کو پوری سرحد پر تعینات کیا جائے گا۔
ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تعیناتی ایس ڈی ایف کو ’اس جارحیت کا مقابلہ کرنے اور ان علاقوں کو آزاد کروانے میں مدد فراہم کرے گی جن میں ترک فوج اور کرائے کے سپاہی داخل ہوئے تھے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس اقدام سے ترک فوج کے زیر قبضہ شام کے باقی شہروں کو بھی آزاد کرانے کی راہ ہموار ہو گی۔‘
اس علاقے میں اپنے طویل مدتی امریکی شراکت داروں کے فوجی تحفظ کو کھونے کے بعد یہ معاہدہ کردوں کے لیے اتحاد میں ایک اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔
تاہم ایس ڈی ایف کے سربراہ مظلوم عبدی نے خارجہ پالیسی میگزین کے ایک مضمون میں اسد حکومت اور اس کے روسی اتحادیوں کے ساتھ ’تکلیف دہ سمجھوتے‘ ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
وہ لکھتے ہیں ’ہمیں ان کے وعدوں پر اعتماد نہیں ہے۔ سچ پوچھیں تو یہ جاننا مشکل ہے کہ کس پر اعتماد کیا جائے۔‘
’لیکن اگر ہمیں سمجھوتوں اور اپنے لوگوں کی نسل کشی کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے تو ہم یقینا اپنے لوگوں کے لیے زندگی کا انتخاب کریں گے۔‘
واضح رہے کہ شامی حکومت اور کردوں کے درمیان یہ معاہدہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس خطے سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس نے ترکی کو کردوں کے خلاف کارروائی کا راستہ فراہم کیا تھا۔
تازہ ترین امریکی انخلا کیا ہے؟
اس سے قبل امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے اعلان کیا تھا کہ پینٹاگون ترکی کی شمالی شام میں کردوں کے خلاف جاری کارروائی میں تیزی آنے کے بعد اپنی تمام افواج کو وہاں سے نکال رہا ہے۔
مارک ایسپر نے اتوار کو سی بی ایس کے پروگرام فیس دی نیشن کو بتایا کہ شام کی صورت حال انتہائی 'غیر مستحکم' ہوتی جا رہی ہے۔
انھوں نے سی بی ایس کے فیس دی نیشن پروگرام کو بتایا 'پچھلے 24 کے دوران ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ترکی جنوب اور مغرب کی جانب اپنے حملوں کو مزید آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔'
مارک ایسپر نے کہا کہ شمالی شام سے تقریباً 1,000 امریکی فوجیوں کی واپسی کا فیصلہ ان کی قومی سلامتی کی ٹیم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کے بعد کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق ایس ڈی ایف ترکی کے حملے کو پسپا کرنے کے لیے شامی حکومت اور اس کے اتحادی روس کے ساتھ 'معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔'
امریکی وزیر دفاع کے اس تبصرے کے گھنٹوں بعد شام نے کہا تھا کہ ’ترک جارحیت کا مقابلہ کرنے‘ کے لیے شمال میں فوج تعینات کی جا رہی ہے۔
ترکی کی عسکری کارروائیوں کی تازہ صورتِ حال کیا ہے؟
سنیچر کو راس العین کے آس پاس ہونی والی جھڑپوں میں شدت پیدا ہو گئی۔ دونوں فریقین کی جانب سے سب سے اہم سرحدی شہر پر قبضے کے متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔
ترکی کا کہنا ہے کہ وہ راس العین پر قبضہ کر چکا ہے لیکن ایس ڈی ایف نے اس کی تردید کی ہے۔
راس العین اور تلہ آباد ترکی کے دو اہم اہداف میں شامل ہیں۔
ہلاکتوں کی تعداد کیا ہے؟
سرحد کی دونوں جانب عام شہریوں کی ہلاکت کی تعداد بڑھ رہی ہے:
- برطانیہ میں قائم سیرین آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس (ایس او ایچ آر) کے مطابق کم از کم 50 شہری اور 100 سے زیادہ کرد جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔
- ترکی کے مطابق، جنوبی ترکی میں 17 شہری ہلاک ہو گئے ہیں جن میں ایک شامی بچہ بھی شامل ہے۔
- ایک ترک فوجی کے علاوہ ترکی کے اتحادی باغیوں کے ساتھ لڑنے والے 50 ترک جنگجو جنھیں شامی قومی فوج کے نام سے جانا جاتا ہے، کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔
ترک کارروائی پر کیسا ردِ عمل سامنے آ رہا ہے؟
ترکی پر عسکری کارروائیاں روکنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے لیکن صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ حملے جاری رہیں گے۔
فرانس کی وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کی جانب سے سنیچر کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ترکی کو ہتھیاروں کی تمام برآمدات معطل کردے گا۔
اس سے قبل جرمنی نے اعلان کیا تھا کہ وہ نیٹو اتحادی کو اپنے ہتھیاروں کی فروخت میں کمی لا رہے ہیں۔
برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے بھی صدر اردغان کو ٹیلیفون پر متنبہ کیا تھا کہ ان کا آپریشن شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف ہونے والی پیشرفت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔