سعودی تنصیبات پر حملے: ’ایرانی ہتھیاروں کے استعمال کا اشارہ ملا ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس کی تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملے کی ابتدائی تحقیقات میں یہ اشارہ ملا ہے کہ استعمال کیے جانے والے ہتھیار ایرانی تھے تاہم ابھی یہ پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ حملے کا ذریعہ کون ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ بیان پیر کو سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہوا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس سے آرامکو کمپنی کی پیداور میں 50 فیصد تعطل آیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور سعودی عرب اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ماہرین کو دعوت دیتا ہے کہ وہ زمینی صورتحال کا جائزہ لیں اور تحقیقات میں شامل ہوں۔
’ریاست نتائج کی بنیاد پر تحفظ اور استحکام کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ریاست اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ اپنے لوگوں اور سرزمین کا دفاع اور جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
'ایران کے ملوث ہونے کے امریکی ثبوت جاری'
اس سے قبل امریکہ نے سعودی تیل تنصیبات پر حملے میں ایران کے ملوث ہونے کے دعوے کے ثبوت میں کچھ سیٹلائٹ تصاویر اور خفیہ معلومات جاری کی ہیں۔
سعودی عرب میں بقیق اور خریص کے علاقوں میں سعودی تیل کمپنی 'آرامکو' کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں دنیا میں تیل صاف کرنے کا سب سے بڑا کارخانہ بھی متاثر ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
سنیچر کو ہونے والے ان حملوں کی ذمہ داری یمن کے حوثی باغیوں نے قبول کی تھی جبکہ ایران ان میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کرتا ہے۔
تاہم اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر امریکی حکام نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ ان حملوں کی سمت اور حد دیکھنے کے بعد ان کے پیچھے حوثی باغیوں کا ہاتھ ہونے پر شکوک پیدا ہو گئے ہیں۔
نیویارک ٹائمز سے بات کرنے والے امریکی حکام کا کہنا تھا کہ بقیق میں تیل صاف کرنے کے کارخانے اور خریض میں تیل کے کنوؤں پر ہونے والے ان حملوں میں ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال کیا گیا تاہم سب اپنے نشانے پر نہیں لگے۔
ایک اہلکار کے مطابق ان مقامات پر 19 اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور یہ حملے مغرب اور شمال مغرب سے کیے گئے جبکہ یمن سعودی عرب کے جنوب میں واقع ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کیے جانے کے باوجود امریکی حکام نے ایران کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اتوار کو ایک ٹویٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ امریکہ جانتا ہے کہ مجرم کون ہے اور وہ ان حملوں کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہیں لیکن وہ سعودیوں سے یہ سننے کے منتظر ہیں کہ اس حملے کے پیچھے کون ملوث تھا اور وہ کس طرح آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
ایران کی جانب سے امریکہ کے تازہ الزامات پر ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف پہلے ہی امریکہ کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کے اس الزام کو ’صریحاً دھوکے بازی‘ قرار دے چکے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے تہران کا ہاتھ تھا۔
تیل کی عالمی منڈی پر اثرات
سعودی عرب میں سنیچر کو تیل کی تنصیبات پر حملوں کا اثر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دیکھنے میں آیا ہے اور پیر کو بازار کھلتے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت گذشتہ چار ماہ کی بلند ترین سطح کو جا پہنچی۔
سعودی تنصیبات کے مکمل طور پر بحال ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں اور ان حملوں کی وجہ سے تیل کی عالمی رسد میں فوری طور پر پانچ فیصد کمی آ گئی ہے۔
پیر کو عالمی منڈی میں کاروبار کے آغاز پر ہی خام تیل کے بیرل کی قیمت میں 19 فیصد اضافہ ہوا اور وہ 71.95 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی۔ اس کے علاوہ تیل کی قیمت کا دوسرا اہم پیمانہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں 15 فیصد اضافہ ہوا اور وہ 63.34 ڈالر تک پہنچ گئی۔
تاہم بعد میں صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی ذخائر سے تیل جاری کرنے پر قیمت میں تھوڑی کمی آئی تاہم اب بھی اس میں دس فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے اور یہ 66.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ بلوم برگ کے مطابق ایک دن کے کاروبار میں یہ 1988 کے بعد ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ان حملوں سے تیل کی فراہمی کس طرح متاثر ہو گی؟
سعودی کمپنی آرامکو کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں پیداوار میں 5.7 ملین بیرل روزانہ کی کمی دیکھی گئی ہے۔ یاد رہے کہ یہ واقعات ایک ایسے وقت پیش آ رہے ہیں جب آرامکو خود کو سٹاک مارکیٹ میں متعارف کروانے والی ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی لسٹنگ ہوگی۔
ان حملوں کی ٹی وی پر نشر ہونے والی ویڈیو میں بقیق میں ڈرون حملے کے بعد آرامکو کے تیل کے دنیا کے سب سے بڑے پراسیسنگ پلانٹ پر لگی آگ کو دیکھا جا سکتا ہے جبکہ خریص میں دوسرے حملے سے بھی کافی نقصان ہوا ہے۔
سعودیوں نے ان حملوں کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم انھوں نے تیل کی پیداوار سے متعلق چند اشارے دئیے ہیں۔
سعودی عرب کے وزیرِ توانائی شہزادہ عبد العزیز بن سلمان کا کہنا تھا کہ ذخیرہ اندوز کیے گئے تیل کا استعمال کرتے ہوئے پیداوار میں کمی کا کچھ ازالہ کیا جا سکے گا۔
یاد رہے سعودی عرب دنیا میں تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جو سات لاکھ بیرل یومیہ سے زیادہ تیل برآمد کرتا ہے۔
لندن میں انٹرفیکس انرجی کے تجزیہ کار ابھیشیک کمار کے مطابق ’سعودی حکام نے آگ پر قابو پانے کا دعوی کیا ہے، لیکن یہ معاملہ آگ بجھائے جانے سے کہیں دور ہے۔ عقیق اور خوریص میں تیل تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان بہت بڑے پیمانے کا ہے اور تیل کی فراہمی کو معمول پر لائے جانے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔‘
توقع کی جارہی ہے کہ برآمدات کو معمول کے مطابق جاری رکھنے کے لیے رواں ہفتے سعودی عرب اپنے ذخیرہ شدہ تیل کا استعمال کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم نیو یارک میں آر بی سی کیپیٹل مارکیٹس میں انرجی سٹرٹیجی کے منیجنگ ڈائریکٹر مائیکل ٹران کا کہنا تھا ’اگر تیل کی برآمدات معمول پر آ بھی جاتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی تقریبا چھ فیصد پیداوار کو نظرانداز کرنے کا خطرہ اب کوئی قیاس آرائی نہیں رہی۔‘
حملوں کے پیچھے کون ہو سکتا ہے؟
اگرچہ امریکہ نے ان حملوں کی ذمہ داری تہران پر عائد کی تھی تاہم امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق ماہرین اس بات کا جائزہ بھی لے رہے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے ایران یا عراق میں موجود ان کے حمایتی ہو سکتے ہیں جنھوں نے ڈرونز کی جگہ کروز میزائل استعمال کیے۔
گذشتہ ماہ شیبہ میں قدرتی گیس کو مائع بنانے والی تنصیبات پر اور مئی میں دیگر تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کے لیے حوثی جنگجوؤں کو سعودی عرب کی جانب سے موردِ الزام ٹھہرایا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سنہ 2015 میں جب حوثی باغیوں نے صدر عبدالربہ منصور ہادی کو دارالحکومت صنعا سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا تھا، تب سے یمن میں خانہ جنگی جاری ہے۔
سعودی عرب اور مغربی ممالک کا فوجی اتحاد یمنی حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ جبکہ یمن میں حوثی باغیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔
سعودی عرب نے باغیوں کے خلاف علاقائی ممالک کے ایک اتحاد کی قیادت بھی کی ہے۔ اتحاد کی جانب سے تقریباً روزانہ فضائی حملے کیے جاتے ہیں جبکہ حوثی اکثر سعودی عرب میں میزائل فائر کرتے ہیں۔
مگر خطے میں تناؤ کے دیگر ذرائع بھی ہیں اور اکثر ان کی بنیاد سعودی عرب اور ایران کے درمیان دشمنی کی وجہ سے ہوتی ہے۔
سعودی عرب اور امریکہ دونوں ہی نے ایران پر جون اور جولائی میں خلیج میں ہونے والے دو آئل ٹینکروں پر حملوں کا الزام عائد کیا۔
تہران کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔
مئی میں دو سعودی پرچم بردار ٹینکروں سمیت چار ٹینکر خلیجِ عمان میں متحدہ عرب امارات کی بحری حدود میں دھماکوں سے نقصان کے شکار ہوئے تھے۔
سعودی عرب اور اس وقت امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن نے ایران پر الزام عائد کیا تھا۔ تاہم تہران کی جانب سے ان الزامات کو 'مضحکہ خیز' قرار دیا۔
اہم ترین بحری راستوں میں تناؤ میں جون میں اس وقت اضافہ ہوگیا جب ایران نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک امریکی جاسوس ڈرون کو مار گرایا۔
اس کے ایک ماہ بعد امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب میں فوجی تعینات کرے گا۔











