ہانگ کانگ میں ڈریگن کی آگ کا جشن، تصاویر میں

جس طرح برصغیر میں منت مانی جاتی ہے، اسی طرح 19ویں صدی میں تائی ہینگ گاؤں کے لوگوں نے اپنے علاقے کی قسمت سنوارنے کے لیے ڈریگن ڈانس کی روایت قائم کی تھی۔ آج ان کے گاؤں کو ہانگ کانگ نگل چکا ہے لیکن یہ صدیوں پرانی روایت اب بھی قائم ہے۔

ہانگ کانگ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن19ویں صدی میں موجودہ ہانگ کانگ کی جگہ تائی ہینگ نامی ایک گاؤں ہوا کرتا تھا جس کے لوگوں نے اپنی قسمت سنوارنے کے غرض سے ڈریگن ڈانس کی ’منت مانی۔‘
ہانگ کانگ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپہلے ایک شدید سمندری طوفان نے ان کے گاؤں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، پھر ایک اژدھے نے گاؤں والوں کے مویشی ملیا میٹ کر دیے۔ رہی سہی کسر ایک مہلک طاعون نے پوری کر دی۔
ہانگ کانگ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتائی ہینگ کے لوگوں کی بس ہو چکی تھی۔ پھر ایک مقامی پیر نے انھیں مشورہ دیا کہ آپ لوگ علاقے کے سالانہ میلے پر تین دن اور تین راتوں تک مسلسل ناچ کر اپنے گاؤں کی پھوٹی قسمت سنوار سکتے ہیں
ہانگ کانگ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگاؤں کے لوگوں نے ایک دیو ہیکل ڈریگن تشکیل دیا۔ اسے تنکوں اور گھاس پھوس سے لادا گیا اور اس پر بےتہاشہ اگربتیاں سجا کر انھیں جلا دیا گیا
ہانگ کانگ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگاؤں کے لوگ اپنے ’فائر ڈریگن‘ کے ساتھ تین دن اور تین راتوں تک ناچتے رہے
ہانگ کانگ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناور آخر کار ان کی قسمت بدل گئی۔ طاعون کا زور بھی ٹوٹا اور طوفان سے ہونے والی تباہی کا بھی ازالہ ہو گیا
ہانگ کانگ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا بھر سے لوگ ڈریگن ناچ دیکھنے ہانگ کانگ کا رخ کرتے ہیں