آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
محمد رفیق: ناروے کے پاکستانی ہیرو نے ’حملہ آور کو نیچے گرایا اور ہتھیار اس سے چھین کر دور پھینک دیے‘
ناروے میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز اوسلو کی ایک مسجد میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات دہشت گردی کی ایک ممکنہ کارروائی کے طور پر کی جا رہی ہیں۔
ہفتے کے روز ناروے کے دارالحکومت اوسلو کے نواح میں واقع النور اسلامک سنٹر میں ایک مسلح شخص نے فائرنگ کی تھی۔
مسجد میں موجود ایک شخص محمد رفیق نے بندوق بردار پر قابو پا لیا اور اس دوران وہ معمولی زخمی بھی ہوئے۔ حملے کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق 65 سالہ محمد رفیق پاکستان فضائیہ کے ریٹائرڈ اہلکار ہیں جو کہ حملے کے وقت مسجد میں موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد رفیق نے روئٹرز کو بتایا کہ ’میں نے باہر ہونے والی فائرنگ کی آواز سنی۔ (مبینہ حملہ آور) نے دو افراد پر فائرنگ شروع کر دی۔‘
محمد رفیق کے مطابق انھوں نے مشتبہ حملہ آور پر بزورِ بازو قابو پا لیا، اسے نیچے گرایا اور ہتھیار اس سے چھین کر دور پھینک دیے۔
انھوں نے بتایا کہ اس عمل کے دوران حملہ آور نے اپنی پوری انگلی ان کی آنکھ میں گھسا دی جس سے وہ معمولی زخمی ہوئے۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا حملہ آور نے ان پر گولی چلائی تو محمد رفیق کہتے ہیں کہ اس وقت وہ حملہ آور کو روکنے پر اس قدر توجہ دیے ہوئے تھے کہ آیا اس نے ان پر گولی چلائی یہ تب ہی پتا چلتا اگر گولی انھیں لگ جاتی۔
حملے کے بعد مبینہ حملہ آور کی 17 سالہ سوتیلی بہن کی لاش بھی ایک گھر سے برآمد ہوئی تھی اور پولیس مشتبہ حملہ آور سے قتل کی تحقیقات بھی کر رہی ہے۔
فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص زخمی بھی ہوا تھا۔
اوسلو میں اسسٹنٹ پولیس چیف رون سکجولڈ نے بتایا کہ مبینہ حملہ آور 'لگ بھگ 20 برس کا ہے اور وہ ناروے کا شہری ہے۔' ان کا مزید کہنا تھا کہ مشتبہ حملہ آور پر اپنے ایک رشتہ دار کو قتل کرنے کا شبہ بھی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا مسجد پر حملہ کرنا ایک انفرادی فعل تھا اور اس وقت وہ اکیلے تھے۔
مسجد کے ڈائریکٹر عرفان مشتاق نے مقامی اخبار کو بتایا کہ 'ہماری ایک رکن کو ایک سفید فام شخص نے گولی ماری۔ حملہ آور ہیلمٹ اور یونیفارم پہنا ہوا تھا۔'
عرفان مشتاق نے مقامی چینل ٹی وی 2 کو بعد ازاں بتایا کہ حملہ آور 'کے پاس دو شاٹ گنز جیسے ہتھیار اور ایک پستول تھا۔ وہ ایک شیشے کے دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہوا اور گولیاں چلائیں۔'
عرفان مشتاق نے بتایا کہ حملہ آور جسم پر زرہ بکتر پہنے ہوئے تھا اور مسجد میں موجود لوگوں نے اسے پولیس کی آمد سے قبل ہی پکڑ لیا تھا۔
پولیس ذرائع نے ناروے کے سرکاری ادارے این آر کے کو بتایا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد مسجد سے بڑی تعداد میں ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔
روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ مسجد پر حملے کے بعد ناروے کی اس مسجد میں اضافی سکیورٹی کے اقدامات کیے گئے تھے۔
رواں سال کے آغاز میں کرائسٹ چرچ مسجد پر حملے میں 51 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔