جواد ظریف پر پابندیاں امریکہ کی بچگانہ حرکت ہے: حسن روحانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکہ کی جانب سے ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف پر پابندیاں عائد کیے جانے کو ایک 'بچگانہ حرکت` قرار دیا ہے۔
جمعرات کو ایرانی شہر تبریز میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ملے جلے اشارے دے رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ 'امریکیوں نے بچگانہ حرکتیں شروع کر دی ہیں۔ وہ ہر روز یہ کہتے ہیں کہ وہ پیشگی شرائط کے بغیر ایران سے بات کرنا چاہتے ہیں اور پھر اسی ملک کے وزیرِ خارجہ پر پابندیاں لگا دیتے ہیں'۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کے دشمن 'اتنے مضطرب ہو چکے ہیں کہ وہ ڈھنگ سے سوچ بھی نہیں سکتے۔'
ایرانی وزیر خارجہ پر پابندیاں امریکی محکمۂ خزانہ کی جانب سے عائد کی گئی ہیں جن کے تحت امریکہ میں موجودگی کی صورت میں ان کے اثاثے منجمد ہو جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزارت خزانہ کے سیکریٹری سٹیون منوچن نے پابندی کی وجوہات بتاتے ہوئے جواد ظریف پر الزامات عائد کیے کہ 'وہ ایران کے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے ایجنڈے کو پھیلاتے ہیں۔'
دوسری جانب جواد ظریف نے ٹوئٹر کا سہارا لیتے ہوئے اپنا ردعمل دیا اور کہا کہ امریکہ نے ان پر پابندیاں اس لیے عائد کی ہیں کیونکہ وہ انھیں اپنے ایجنڈے کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔
انھوں نے لکھا کہ ’امریکہ نے مجھ پر اس لیے پابندی عائد کی ہے کیونکہ میں دنیا بھر میں ایران کی ترجمانی کرتا ہوں۔ کیا سچ اتنا تکلیف دہ ہے؟ اس پابندی کا مجھ پر یا میرے خاندان پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ ایران سے باہر میرے کوئی اثاثے نہیں ہیں۔ مجھ کو اپنے ایجنڈے کے لیے اتنا بڑا خطرہ تصور کرنے پر آپ کا شکریہ۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
امریکی پابندیوں پر ردعمل دیتے ہوئے ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے وزیر خارجہ پر پابندیاں ان کی مذاکراتی صلاحیتوں کے خوف سے عائد کی ہیں۔
عباس موسوی نے ٹوئٹر پر لکھا ’امریکی جواد ظریف کی منطق اور مذاکرات کے فن سے شدید خوف زدہ ہیں۔‘
واضح رہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے سے خود کو گذشتہ سال الگ کر لیا تھا۔
تاہم خلیجی خطے میں ہونے والے حالیہ واقعات پر یہ خدشہ اٹھ پڑا تھا کہ کہیں اس اہم ترین حصے میں کوئی جھڑپ نہ شروع ہو جائے۔
بدھ کو امریکہ نے چین، روس اور دیگر یورپی ممالک کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے بات چیت کرنے کی چھوٹ میں اضافہ کیا تاہم وائٹ ہاؤس کے سکیورٹی کے مشیر جان بولٹن کے مطابق یہ چھوٹ صرف 90 دن کی ہے۔
امریکہ نے کیا کہا ہے؟
جواد ظریف پر پابندیاں لگائے جانے پر وزارت خزانہ کے سیکریٹری سٹیون منوچن نے مزید کہا کہ 'اس فیصلے سے امریکہ دنیا بھر کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ ایران کا رویہ ناقابل قبول ہے۔
ایران اپنے ملک کے شہریوں کو سوشل میڈیا تک رسائی دینے سے روکتا ہے اور جواد ظریف ایران کے پروپگینڈا کا دنیا بھر میں اسی سوشل میڈیا کی مدد سے پرچار کرتے ہیں۔'
البتہ بی بی سی کے واشنگٹن ڈی سی کے نامہ نگار گیری ڈوناہیو نے کہا ہے کہ ان پابندیوں کے باوجود جواد ظریف اقوام متحدہ کا دورہ کرنے نیویارک آ سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جوہری معاہدے کا کیا ہوگا؟
سنہ 2015 کے تاریخ ساز جوہری معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کے بعد بقیہ ممالک جن میں چین، فرانس، روس، جرمنی اور برطانیہ شامل ہیں، نے امریکی فیصلے کی مذمت کی اور کہا کہ وہ معاہدے کی پوری پاسداری کریں گے۔
گذشتہ ہفتے یورپی ملک آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ان ممالک کے درمیان مذاکرات ہوئے تاکہ جوہری معاہدے کو بچایا جا سکے۔
میٹنگ کے بعد ایران کی جانب سے ایک سینئیر اہلکار نے کہا کہ ملاقات 'تعمیری ماحول' میں ہوئی۔












