جنوبی کیلی فورنیا میں دو دہائیوں کا شدید ترین زلزلہ

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں جمعرات کو آنے والے شدید زلزلے کو گذشتہ دو دہائیوں کا شدید ترین زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ریکٹر سکیل پر اس زلزلے کی شدت 6.4 ریکارڈ کی گئی۔ یہ زلزلہ کیلی فورنیا کے شہر رج کریسٹ کے قریب آیا جو کہ لاس اینجلس سے 240 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔

آگ بجھانے والے عملے نے شہر میں جمعے کو لوگوں کو طبی امداد مہیا کرنے کے علاوہ زلزلے کے نتیجے میں لگنی والی آگ کا بھی مقابلہ کیا۔

مقامی پروفیسر جان رنڈل نے بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے رج کریسٹ میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے زلزلہ زیادہ آبادی والے بڑے شہروں سے دور آیا۔

کیلی فورنیا میں آنے والے زلزلے کی وجہ سے شاہراہوں میں گڑھے جبکہ بحلی کی تاریں گرنے سے گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں اور مکانوں کی دیواریں میں شگاف پڑ گئے ہیں۔

کرن کاؤنٹی ڈیپارٹمنٹ سروس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ رج کریسٹ کے علاقائی ہسپتال کو خالی کروا لیا گیا ہے جبکہ انھوں نے آگ لگنے سے زخمی ہونے والے دو درجن واقعات میں طبی امداد فراہم کی ہے۔

زلزلے نے امریکی نیوی کی بم ٹیسٹ کرنے والی والی جگہ چائینا لیک کو بھی نقصان پہنچایا جہاں امریکی ہتھیاروں اور ہوائی جہازوں کی پڑتال کی جاتی ہے۔

ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’زلزلے کی وجہ سے کافی نقصان ہوا جس میں آگ کا لگنا، پانی کا لیک ہونا اور مضر اشیا کا پھیلا ہوا مواد شامل تھا۔

کیلی فورنیا کے گورنر کے دفتر کے ہنگامی امداد کے ترجمان بریڈ الیگزینڈر نے جمعرات کو کہا کہ فائر انجن اور امدادی ٹیمیں رج کریسٹ کے علاقے میں لوگوں کو امداد فراہم کر رہی ہیں۔

کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسوم نے متاثرہ علاقوں کے لیے ہنگامی امداد کا اعلان کیا ہے۔

رج کریسٹ کی گورنر پیگی بریڈن کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ عمارتوں سے گرنے والی اشیا سے زخمی ہوئے ہیں اور گیس لائنز ٹوٹ گئی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا ’ہم زلزوں کے عادی ہیں لیکن اتنے پیمانے پر آنے والے زلزلوں کے نہیں۔‘