آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پومپیو کا دورہ افغانستان: ’امریکہ افواج نکالنے کے لیے تیار ہے، وقت کا تعین نہیں کیا‘
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان سے اپنی افواج نکالنے کے لیے تیار ہے، ’لیکن واشنگٹن نے طالبان کو فوج کے انخلا کی کوئی ٹائم لائن نہیں دی ہے۔
پومپیو منگل کو افغانستان کے غیر اعلانیہ دورے پر کابل پہنچے جہاں انھوں نے افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ تینوں رہنماؤں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ افغانستان میں امن قائم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔
مائیک پومپیو کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان امن معاہدے کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے عملی اقدامات کی توقع رکھتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کا دورہ امریکی حکام اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے ساتویں مرحلے کے آغاز سے قبل سامنے آیا۔
امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا ہے کہ انھیں امید ہے کہ افغانستان میں رواں برس 28 ستمبر کو ہونے والے افغان صدارتی انتخابات سے قبل افغانستان میں امن معاہدہ ہو جائے گا۔
افغان چینل تولو نیوز کے مطابق مائیک پومپیو کا کہنا تھا ’مجھے امید ہے کہ یکم ستمبر سے قبل امن معاہدہ ہو جائے گا اور یہی ہمارا مشن ہے۔‘
امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے وقت پر غور کیا جائے گا، جبکہ طالبان سے یہ ضمانت لی جائے گی کہ افغان سرزمین سے مستقبل میں کوئی حملہ نہیں ہو گا۔
واضح رہے کہ افغان فوج کی تربیت، معاونت اور مدد کے لیے امریکا کی سربراہی میں نیٹو مشن کے 20 ہزار غیر ملکی فوجی اہلکار افغانستان میں تعینات ہیں جن میں سے زیادہ تر امریکی ہیں۔
امریکا نے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بدلے میں طالبان سے اس بات کی ضمانت کا مطالبہ کیا تھا کہ دہشت گرد حملوں کے لیے افغانستان کی سرزمین کو استعمال نہیں کیا جائے گا۔
افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات رواں برس جنوری میں دوحا میں شروع ہوئے تھے۔
دوحا مزاکرات میں امریکہ کی نمائندگی امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کر رہے تھے۔