آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
رئیس جس نے صرف 35.20 پاؤنڈ ٹیکس ادا کیا!
بی بی سی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے والے ایک امیر تاجر نے سنہ 2017 میں انکم ٹیکس کی مد میں صرف 35.20 پاؤنڈز ادا کیے۔
فرینک ٹی مِس اپنے پینٹ ہاؤس کا 14 ہزار پاؤنڈ ماہانہ کرایہ ادا کرتے ہیں اور لندن کے بہترین ریستورانوں میں ہزاروں پاؤنڈ خرچ کرتے نظر آتے ہیں۔
لیکن انھوں نے سنہ 2017 میں اپنی ذاتی آمدن پر انکم ٹیکس کی جو رقم ادا کی وہ محض 35.20 پاؤنڈز تھی اور انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ دنیا بھر میں پھیلی ان کی تجارت سے انھیں بمشکل کوئی آمدن ہوتی ہے۔
فرینک ٹی مِس کے وکیل نے کہا کہ انھوں نے ٹیکس کے اپنے تمام واجبات کی پوری طرح پیروی کی ہے۔
بی بی سی پینوراما اور افریقہ آئی کو ملنے والی دستاویزات بھی یہی ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح مسٹر ٹیمِس یہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔
انھوں نے آمدن کو گوشوارے میں یہ دکھایا کہ مسٹر ٹیمِس کو سنہ 2017 میں ان کے بیرون ممالک ٹرسٹ سے مجموعی طور پر چھ لاکھ ستر ہزار پاؤندز کی آمدن ہوئی۔
یہ ادائیگیاں ڈسٹریبیوشن کہلاتی ہیں اور ان پر ٹیکس واجب الادا ہوتا ہے۔ لیکن اپنا ٹیکس ریٹرنز داخل کرنے سے قبل مسٹر ٹیمِس نے مبینہ طور پر ٹرسٹ سے کہا کہ وہ اس ڈسٹریبیوشن کو ٹیکس سے پاک قرض میں تبدیل کر دے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے لیے کسی سابقہ تاریخ میں قرض کا معاہدہ تیار کیا گیا تاکہ قرض جائز نظر آ سکے۔
ٹیکس جسٹس نیٹورک کے جان کرسٹیئنسین نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ مسٹر ٹیمِس ٹیکس کی ادائیگی میں فریب کر رہے ہیں 'اور یہ تمام نکات بتاتے ہیں کہ وہ ٹیکس میں دھوکہ دینے کے لیے چیزوں کو ادھر ادھر کر رہے ہیں۔ اور اگر یہ معاملہ ہے اور چونکہ یہ سابقہ تاریخوں میں کیا ہے تو پھر بظاہر نظر آنے والے شواہد کی ضروت ہو گی جس سے یہ پتہ چلے کہ یہ ٹیکس کا فراڈ ہے اور اس میں جانچ کی ضرورت ہے۔'
لیک ہونے والی دستاویزات
بی بی سی کی جانچ ٹیم نے اس شخص سے بھی بات کی جو ٹرسٹ چلاتے ہیں اور مسٹر ٹیمِس کو بظاہر ٹیکس چرانے میں مدد کی ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی میٹنگ میں چیئرمین کے طور پر فلپ کیڈول کا نام درج ہے جنھوں نے سابقہ تاریخ میں مشتبہ قرض پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
میٹنگ کی روداد پر ان کے دستخط ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی میٹنگ کبھی ہوئی ہی نہیں اور یہ کہ روداد جعلی ہے۔ 'اس پر میرے دستخط ہیں لیکن میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ایسی کوئی میٹنگ کبھی ہوئی ہی نہیں۔ میں وہاں نہیں تھا۔ اس وقت میں سوئٹزرلینڈ میں بھی نہیں تھا۔'
لیک ہونے والی دستاویز سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اس سے قبل سنہ 2016 میں مسٹر ٹیمِس نے برطانیہ میں انکم ٹیکس میں ایک پیسہ نہیں ادا کیا۔
مسٹر ٹیمِس کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان الزامات کی مکمنہ سخت ترین الفاظ میں تردید کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا: 'مسٹر ٹیمِس نے اپنے تمام واجب الادا ٹیکس کی ہر مرحلے پر پیروی کی ہے اور اس ضمن میں انھوں نے پیشہ ورانہ رائے حاصل کی ہے کہ انھوں نے ایسا کیا ہے۔'
رومانیہ کے تاجر کے لیے تنازع کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ انھیں دو بار ہیروئن کی سپلائی کے لیے سنہ 1990 کی دہائی میں مجرم قرار دیا گیا ہے جبکہ وہ افریقہ میں کان کنی کے کئی ناکام پراجیکٹس میں شامل رہے ہیں۔
فرینک ٹیمِس نے لندن کے جونیئر سٹاک ایکسچینج پر دو کان کنی کی کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ ان میں سے ایک ریگل پیٹرولیم پر اس وقت ایکسچینج کی جانب سے سنہ 2009 میں سب سے زیادہ جرمانہ کیا گیا جب انھوں نے تیل کی ایک دریافت کے بارے میں سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا۔
ریگل پیٹرولیم نے کہا کہ انھیں یونان میں تیل کی دریافت کی امید ہے جبکہ انھیں معلوم تھا کہ جس کنویں کی وہ بات کر رہے ہیں وہ سوکھا ہوا ہے۔
مسٹر ٹیمِس کے وکیل نے کہا کہ ریگل پیٹرولیم میں ان کا چھوٹا سا حصہ ہے اور جب کمپنی پر جرمانہ کیا گیا تھا اس وقت وہ بورڈ کے رکن نہیں تھے۔
انھوں نے کہا: 'مسٹر ٹیمِس کی ذاتی طور پر تفتیش کی گئی تھی اور ریگل پیٹرولیم میں ان کے کردار کے بارے میں ایف سی اے نے انھیں بری الذمہ قرار دیا۔'