فوجی بغاوت کے بعد سوڈان کے صدر عمر البشیر کی حراست، آئین معطل، تین ماہ کے لیے ایمرجنسی

تیس سال تک ملک پر حکومت چلانے والے سوڈان کے صدر عمر البشیر کو ان کے عہدے سے ہٹا کر حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ملک کے وزیر دفاع عود ابن عوف نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ سوڈان کی فوج نے ملک کے انتظامی امور سنبھال لیے ہیں اور دو سال کے عرصے میں ملک میں انتقال اقتدار کے عمل کو مکمل کیا جائے گا جس کے بعد عام انتخابات منعقد ہوں گے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ اس وقت ملک میں تین ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کی جا رہی ہے۔

سنہ 1989 سے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے صدر عمر البشیر کے خلاف سوڈان میں گذشتہ کئی ماہ سے مظاہرے ہو رہے تھے۔

وزیر دفاع عود ابن عوف نے کہا کہ سابق صدر کو 'محفوظ' مقام پر رکھاجائے گا لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ملک کے آئین کو عارضی طور پر معطل کیا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سوڈان کی سرحدیں اگلے اعلان کیے جانے تک بند ہیں جبکہ ملک کی فضائی حدود اگلے24 گھنٹے کے لیے بند کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ سابق صدر کے نام عالمی عدالت برائے جرائم کی جانب سے حراست میں لیے جانے کا عالمی وارنٹ جاری کیا گیا ہے جس میں ان پر الزام ہے کہ وہ سوڈان کے علاقے دارفر میں جنگی جرائم کے مرتکب پائے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اس سے قبل سرکاری ٹی وی پر کہا گیا تھا کہ مسلح افواج صدر عمر البشیر کے 30 سالہ دور حکومت کے خلاف کئی مہینوں سے جاری احتجاج اور ان کے خلاف مسلح بغاوت کی قیاس آرائیوں سے متعلق اہم اعلان کریں گی۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق ’مسلح افواج بہت جلد ایک اہم بیان جاری کریں گی۔ اس کے لیے تیار ہو جائیں۔‘

ادھر دارالحکومت خرطوم میں وزارت دفاع کے دفتر کے باہر ہزاروں افراد کے حکومت مخالف مظاہرے کے بعد فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شہر کی اہم شاہراؤں پر بھی فوج اور سکیورٹی ایجینسی کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

ملک میں ابھی اس اعلان کا انتظار جاری تھا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد خرطوم میں موجود وزارت دفاع کے دفتر کے باہر جاری دھرنے میں شامل ہو گئی۔ جہاں مظاہرین نے ’یہ (حکومت) گر چکی ہے، ہم جیت گئے‘ کے نعرے لگائے۔

روئٹرز کے مطابق العربیہ ٹی وی کا کہنا ہے کہ صدر عمر البشیر استعفی دے چکے ہیں جبکہ وزیر دفاع سمیت کئی حکومتی اہلکاروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے تاہم اس حوالے سے کوئی تصدیق موجود نہیں ہے۔

صدر عمر البشیر نے 1989 میں فوجی بغاوت کے بعد ملک کی باگ ڈور سنبھالی تھی جبکہ سوڈان کی معیشت کئی سالوں سے مشکلات میں ہے۔

سوڈان ایک طویل عرصے سے تنہائی کا شکار ہے جب 1993 میں امریکہ نے صدر عمر البشیر کی حکومت کو اسلامی عسکریت پسندوں کو پناہ دینے پر دہشت گردی کی امداد کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

چار سال بعد واشنگٹن نے سوڈان پر پابندیوں کا بھی اعلان کیا تھا۔

جرائم کی عالمی عدالت میں عمر البشیر پر سوڈان میں 2003 میں شروع ہونے والی بغاوت میں نسلی کشی کے الزامات بھی ہیں۔

حالیہ بحران اس وقت شروع ہوا جب گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہزاروں مظاہرین نے خرطوم میں وزارت دفاع کے دفتر کے باہر ڈیرے ڈال لیے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں عمر البشیر کی رہائش ہے۔

تاہم منگل کے روز فوجیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان اس وقت تصادم ہوا جب فوجی اہلکاروں نے مظاہرین کی حفاظت جبکہ سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔

روئٹرز کے مطابق وزیر اطلاعات نے پولیس رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس تصادم میں چھ فوجی اہلکاروں سمیت 11 افراد مارے گئے۔

افریقہ میں بی بی سی کے مدیر ول روس کے مطابق سوڈان میں لوگ بے چینی سے فوج کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔

ملک میں گزشتہ کئی ماہ سے صدر عمر البشیر کو اقتدار سے الگ کرنے کے لیے مظاہرے جاری ہیں۔

قیاس آرائیاں ہیں کہ فوری طور پر ان کا استعفی آ جائے گا لیکن اس بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

خرطوم میں ہزاروں مظاہرین جمع ہیں جبکہ اہم شاہراوں پر فوج تعیناتی کی بھی اطلاعات ہیں۔ ریڈیو اسٹیشنز کو موسیقی چلانے سے روک دیا گیا ہے۔

احتجاج کے منتظمین کی جانب سے لوگوں کو سڑکوں پر آنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ نمائندوں کے مطابق مظاہرین صرف صدر کو ہٹانے سے نہیں بلکہ پوری حکومت کے خاتمے سے ہی مطمئن ہوں گے۔

سوڈان کی تاریخ میں فوج کا کردار

1956 میں سوڈان کی آزادی کے بعد سے ہی ملک کی سیاست میں مسلح افواج نے اہم کردار ادا کیا ہے:

  • آزادی کے صرف دو سال بعد ہی 1958 میں چیف آف سٹاف میجر جنرل ابراہیم آبود نے ایک خونی بغاوت کے بعد اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
  • 1964 کی ایک مقبول بغاوت نے فوج کو اقتدار چھوڑنے پر مجور کر دیا۔
  • تاہم 1969 میں کرنل جعفر النیمیری کی سربراہی میں ایک اور بغاوت کے بعد اقتدار واپس فوج کے پاس آگیا۔ جعفر النیمیری کو خود کئی بغاوتوں کا سامنا رہا۔
  • 1985 میں لیفٹیننٹ جنرل عبد الرحمان سوار الدحاب کی سربراہی میں فوجی سربراہان کے ایک گروہ نے النیمیری کو اقتدار سے نکال باہر کیا۔
  • ایک سال بعد الدحاب نے تمام اختیارات منتخب حکومت کے وزیراعظم الصادق الماہدی کے حوالے کر دیے۔
  • تین سال بعد جون 1989 میں بریگیڈیئر عمر البشیر کی سربراہی میں اسلامی فوجی سربراہان نے الماہدی کے غیر مستحکم اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔
  • 30 سال سے عمر البشیر اقتدار میں ہیں اور ان کی حکومت کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔