ویمن ڈے: روایتی حدیں توڑنے والی لبنانی فوج کی فائٹر پائلٹس

بی بی سی کی ایلوئیز الانا کے مطابق لبنانی افواج میں کام کرنے والی زیادہ تر خواتین انتظامی یا لاجسٹیکل کام سرانجام دیتی ہیں لیکن اعلیٰ درجے پر فائز کمانڈر اس روایت کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جرنل جوزف عون کہتے ہیں کہ فوج میں عورتوں کے کردار کو مضبوط بنانا اُن کی اہم ترجیحات میں سے ایک ہے لیکن ان کا اصلی مقصد خواتین کو محاذِ جنگ پر بھجوانا ہے۔

لبنان کی برّی فوج میں عورتوں کو محاذ پر جانے کی اجازت نہیں ہے لیکن فضائیہ میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

اب تک چھ خواتین نے لبنانی فضائیہ میں بطور پائلٹ بھرتی کے لیے درخواست دی ہے۔ جائزے اور امتحان کے بعد ان میں سے دو خواتین کا چناؤ کیا گیا۔

یہ خواتین 27 سالہ فرسٹ لیفٹینینٹ شانتال کیلاس اور 26 سالہ فرسٹ لیفٹینینٹ ریتا ظاہر ہیں۔

ریتا کہتی ہیں کہ جب انھوں نے فوج میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تو ان کو بہت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ مردوں کا کام کرنے جا رہی ہیں۔

شانتال کم عمری سے ہی پائلٹ بننا چاہتی تھیں مگر ان کے والدین فکرمند تھے کہ وہ کام کاج اور گھریلو زندگی کو ایک ساتھ سنبھال نہیں پائیں گی۔ سماجی دباؤ کے باوجود وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔

وہ کہتی ہیں ’میرے خیال میں ایک عورت کو اپنے عزائم کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اپنے خاندان اور معاشرے دونوں کی طرف سے درپیش چیلینجز کو سر کرنا پڑتا ہے۔‘

24 سالہ منار اسکندر نہ صرف ایک سارجنٹ ہیں بلکہ وہ فضائیہ کی پہلی خاتون مکینک بھی ہیں۔

اپنے کریئر کے آغاز میں منار کو کرنے کے لیے صرف انتظامی کام ہی دیے جاتے تھے۔ لیکن بعد میں انھوں نے مطالبہ کیا کہ انھیں مکینک کا کام دیا جائے اور اعلیٰ افسران رضامند ہو گئے۔

منار کہتی ہیں `جب میں یہاں پہلی بار آئی تو ساتھی مردوں کا رویہ ہمدردانہ تھا جیسے مجھے مدد کی ضرورت ہو۔ لیکن آہستہ آہستہ میرے کام میں پختگی آتی گئی اور میں ایسے کام بھی کرنے لگی جو وہ خود نہیں کر سکتے تھے۔`

`میرے ہاتھ چھوٹے ہیں تو بعض اوقات میں وہ چیزیں بھی کر سکتی ہوں جو وہ نہیں کر سکتے مثلاً انجن کے ان حصوں تک پہنچنا جہاں ان کے ہاتھ نہیں پہنچتے۔`

شانتال کہتی ہیں کہ لبنانی افواج میں خواتین کے لیے چیزیں بہتری کی طرف جا رہی ہیں۔

`فضائیہ میں تمام لوگ عزم پورا کرنے میں ہماری مدد اور حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے نقطۂ نظر تبدیل ہو رہا ہے اور مرد جنگ میں حصہ لینے والی خواتین اور معاشرے میں خواتین کی آزادی کو قبول کرنے لگے ہیں۔`

تمام تصاویر کے جملہ حقوق ایلوئیز الانا کے نام محفوظ ہیں