آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اردوغان نے پیاز کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے دیا؟
پاکستان میں سبزیوں خاص کر ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافے پر سوشل میڈیا پر طنزیہ مواد شائع کیا جاتا ہے لیکن اس وقت ایسی صورتحال ترکی میں ہے جہاں پیاز کی قیمت میں کئی گنا اضافے پر سوشل میڈیا پر لطیفے شیئر کر رہے ہیں۔
ترکی کو افراط زر اور شرح سود میں اضافہ اور کاروبار میں مندی کے مسئلے کا سامنا تو ہے ہی لیکن اب پیاز کے بحران کی وجہ سے صدر رجب طیب اردوغان نے اس معاملے پر سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے ملک میں ذخیرہ کیے گئے پیاز کو تلاش کرنے کا حکم دیا ہے۔
2018 کے اوائل کے مقابلے میں اس وقت پیاز کی قیمت کئی گنا بڑھ چکی ہے اور زرعی ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی متعدد وجوہات ہیں۔ ماہرین کے مطابق جہاں پیاز ذخیرہ کیا گیا وہ چھاپے مارنا مسئلے کا طویل المدتی حل نہیں ہے۔
دوسری جانب ترکی میں عوام نے سوشل میڈیا پر’ پیاز کے بحران‘ کے حوالے سے طنزیہ پوسٹ کرنا شروع کی ہیں جس میں اب سیاست دان بھی شامل ہو گئے ہیں۔
ترکی میں حزب مخالف جماعت رپبلکن جماعت کے رہنما کمال کلغولو نے مذاق میں کہا ہے کہ’ پیاز کو رونے نہ دیں۔‘
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت کا کہنا ہے کہ انسپیکٹرز نے معاملے کی چھان بین شروع کر دی ہے اور انقرہ میں ذخیرہ کیے گئے 50 ہزار ٹن پیاز برآمد ہوئے ہیں۔
ترک صدر رجب طیب اردوغان نے متنبہ کیا ہے کہ’ آلو اور پیاز، سبزیاں اور پھل ذخیرہ کرنے والوں کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘
اس پر گڈ پارٹی کی رہنما مرال آکسنر نے کہا کہ’اردوغان نے پیاز کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔‘
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سبان دلسز نے کارٹون کے ساتھ ٹویٹ کی۔
’ زبردست ایک پیاز۔۔۔۔ میں قسم سے اس کو کھا رہا ہوں اور بیچ نہیں رہا۔۔۔۔`
کوزے اوندر نے ٹویٹ کی ہے کہ’ میرے پاس پیاز کی ایک بوری ہے اور مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ وہ میرے گھر پر چھاپہ مارنے آ رہے ہیں۔‘
ٹویٹر پر لوگوں نے عالمی خبروں کو موضوع بناتے ہوئے ملک میں پیاز کے بحران پر طنزیہ ٹویٹس بھی کی ہیں جس میں @kacsaatoldu1881 نے لکھا’ چند منٹ پہلے ہی خلائی گاڑی ان سائٹ نے چھ ماہ میں 30 کروڑ میل کا سفر کر کے مریخ پر لینڈ کیا ہے لیکن چند گھنٹے پہلے ہی ایک ایک گودام پر چھاپہ مارا گیا ہے جہاں پیاز رکھے گئے تھے۔‘