عالمی یومِ خوراک: کیا آپ ان 11 کراہت انگیز کھانوں میں سے کوئی چکھنا چاہیں گے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بہت سے لوگوں کو کلبلاتے ہوئے کیڑوں سے لدا ہوا پنیر دیکھ کر گھن آئے گی۔ لیکن اگر اٹلی کے جزیرے سارڈینیا کے لوگوں سے پوچھیں تو ان کے منھ میں پانی آ جائے گا۔
مختلف ثقافتوں کے کھانوں کا تنوع ایک نئی نمائش کا موضوع ہے جو نئے کھلنے والے ’کراہت انگیز کھانوں کے عجائب گھر‘ میں پیش کی جا رہی ہے۔
یہ عجائب گھر سویڈن کے شہر مالمو میں واقع ہے اور نمائش 31 اکتوبر تک جاری رہے گی جس کے بعد یہ دنیا کے دوسرے حصوں کا رخ کرے گی۔
ثقافتی تنوع
اس نمائش کا مشن خوراک کے بارے میں ہمارے تصورات کو بدلنا ہے۔
نمائش کے منتظم اور ماہرِ نفسیات سیموئل ویسٹ کہتے ہیں کہ ’خوراک ہماری ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہے اور اس کا بڑا انحصار ان حالات پر ہے جن میں پلے بڑھے ہوں۔
’کراہت یا گھن کا ارتقائی مقصد ہمیں بیماری اور غیر محفوظ خوراک سے بچانا ہے، لیکن جہاں گھِن کا احساس بین الاقوامی ہے، ہمیں کس قسم کی خوراک سے گھن آتی ہے، وہ احساس بین الاقوامی نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ویسٹ اور ان کے ساتھی اینڈرز اہرن کراہت انگیز کھانوں کی تلاش میں دنیا کے مختلف حصوں میں گئے۔
انھیں کل 300 ایسی غذائیں ملیں جن میں سے انھوں نے نمائش کے لیے 80 کا انتخاب کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیا آپ اتنے بہادر ہیں ان میں سے کچھ غذائیں اپنے منھ میں ڈال سکتے ہیں؟
کیڑوں بھرا پنیر (اٹلی)

،تصویر کا ذریعہAnja Barte Telin
اٹلی کے جزیرے سارڈینیا میں پیکورینو پنیر کو کاٹ کر باہر چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ اس میں مکھیاں انڈے دے سکیں۔
ان انڈوں سے لاروا جنم لیتے ہیں۔ لیکن اس قسم کا پنیر کھانے والوں کو اپنی آنکھیں چھلانگیں لگاتے ہوئے لاروا سے بچانا پڑتی ہیں۔ زندہ کیڑے کھانا تھوڑا سا خطرناک بھی ہے کیوں کہ یہ معدے میں زندہ رہ سکتے ہیں اور بعض اوقات آنتوں کی دیواروں میں سوراخ کر سکتے ہیں۔
بیل کا عضو (چین)

،تصویر کا ذریعہAnja Barte Telin
چین میں بیل کے عضو کے بارے میں تصور ہے کہ اس سے قوتِ باہ میں اضافہ ہوتا ہے۔
بھنے ہوئے جھینگر (یوگینڈا)

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افریقہ کے کئی ملکوں میں بھنے جھینگر کو ہلکے پھلکے کھانے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ شوقین لوگ انھیں بیئر کے ساتھ کھاتے ہیں۔
چیونٹی کے انڈے (میکسیکو)

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاریخ دانوں کے مطابق میکسیکو میں صدیوں سے چیونٹیوں کے انڈے کھائے جا رہے ہیں۔ عام طور پر انھیں مصالحوں کے ساتھ پکایا جاتا ہے اور ساتھ میں چٹنی بھی کھائی جاتی ہے۔
کوبرا سانپ کا دل (ویت نام)

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس خوراک کا شمار بھی ان کھانوں میں ہوتا ہے جنھیں مخصوص قوت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
سانپ کو ابالا جاتا ہے اور دل نکالنے کے بعد گوشت بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ دل کو ووڈکا شراب اور سانپ کے خون کا ساتھ کھایا جاتا ہے۔
بھیڑ کی آنکھ (ایران، افغانستان، عراق)

،تصویر کا ذریعہMo Styles
تہران، بغداد اور کابل میں بھیڑ کے جسم کا کوئی حصہ ضائع نہیں جانے دیا جاتا اور آنکھوں کے علاوہ مغز، آنتیں اور کُھر تک نہیں چھوڑے جاتے۔
سؤر کا ابلا ہوا خون (برطانیہ)

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ روایتی برطانوی کھانا ہے جس میں اس جانور کے خون اور چربی کو جئی کے آٹے میں ملا کر پکایا جاتا ہے اور اسے بلیک پڈنگ کہتے ہیں۔
مینڈک کا رس (پیرو)

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیرو میں ٹٹیکاکا نامی مینڈک کو انڈے، شہد اور مصالحہ جات میں ملا کر پکایا جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے اندر بھی ’مخصوص‘ طاقت موجود ہے جس کی وجہ سے اسے ’پیرو کی ویاگرا‘ بھی کہا جاتا ہے۔
مرغی کے سینے کی پڈنگ (ترکی)

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میٹھے میں مرغی کا گوشت؟
ترکی میں تاوک گوگسو نامی خوراک عثمانی دور سے امرا کی خوراک سمجھی جاتی ہے۔ یہ خوراک مرغی کے سینے کے گوشت، شہد، دودھ، چاول، دارچینی، آٹے اور چینی کو ملا کر پکائی جاتی ہے۔
چوہے کی شراب (چینی)

،تصویر کا ذریعہMo Styles
یہ شراب تیار کرنے میں ایک سال کا عرصہ لگتا ہے اور اس میں چوہے کے مردہ بچے استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن یہ خوراک سے زیادہ دوا ہے اور اسے دمہ اور جگر کی بیماریوں کے لیے پیا جاتا ہے۔
مچھلی کی جنسی رطوبت (روس)

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس ڈش کا نام مولوکا ہے اور یہ روس میں عام ملتی ہے۔ اس میں وہ رطوبت استعمال ہوتی ہے جس کی مدد سے مچھلی افزائشِ نسل کرتی ہے۔










