آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ہانگ کانگ: دھوکے سے اجنبی کے ساتھ شادی
ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والی ایک 21 سالہ خاتون کا کہنا ہے کہ ’جعلی‘ شادی کی ایک تقریب کے دوران دھوکے سے ان کی شادی ایک مکمل طور پر اجنبی شخص سے کر دی گئی ہے۔
متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا تھا کہ شادی کی تقریب کے دوران انھیں دلہن کا کردار نبھانا ہو گا۔
خاتون کا مزید کہنا تھا کہ شادی کی تقریب کے دوران انھوں نے اور اجنبی شخص نے شادی کے لیے مخصوص دستاویزات پر دستخط کیے۔
مذکورہ خاتون کو ہانگ کانگ واپس پہنچنے پر اس حقیقت کا علم ہوا جس کے بعد انھوں نے متعلقہ حکام سے قانونی مدد طلب کی۔
یہ بھی پڑھیے
مقامی پولیس اس جرم کا ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ خاتون کی مدد کرنے سے قاصر ہے جس کے بعد انھوں نے ہانگ کانگ کی فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز (ایف ٹی یو) سے رابطہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایف ٹی یو کے ڈائریکٹر ٹونگ کامیگیو نے بی بی سی کو بتایا ’یہ شادی میں دھوکہ دہی کی نئی قسم ہے‘۔
’میں مایوسی محسوس کر رہا ہوں اور یقین نہیں کر سکتا کہ جدید ہانگ کانگ میں یہ ہو رہا ہے‘۔
’فائدہ اٹھایا‘
21 سالہ خاتون جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا نے مئی میں فیس بک پر ایک میک اپ آرٹسٹ اپرنٹس شپ کے لیے نوکری کا ایک اشتہار دیکھا۔
لیکن اس نوکری کے لیے اپلائی کرنے کے بعد مذکورہ کمپنی نے اس خاتون کو قائل کیا کہ وہ میک اپ آرٹسٹ کی بجائے شادی کے لیے منصوبہ بندی کرنے والا رول ادا کریں۔
اس مقصد کے لیے کمپنی نے خاتون کو ہانگ کانگ میں ایک ہفتے کی مفت تربیت دی۔ اس کے بعد انھیں بتایا کہ انھیں چین کے صوبے فیوجان میں کورس پاس کرنے کے لیے ایک جعلی شادی کی تقریب میں شرکت کرنا ہو گی۔
خاتون نے جولائی میں ایک مقامی حکومت کے مرکز میں شادی کی ایک دستاویز پر دستخط کیے۔
ساؤتھ چائینا مارننگ پوسٹ نامی اخبار کے مطابق کمپنی نے خاتون کو بتایا کہ ان کی شادی بعد میں ’باطل‘ ہو جائے گی۔
لیکن ہانگ کانگ پہنچنے کے بعد ان کی ایک ہم جماعت نے انھیں قائل کیا کہ یہ ایک دھوکہ تھا۔
مذکورہ خاتون اب شادی شدہ ہیں اور شاید وہ طلاق کے لیے اپلائی کریں۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ ان کی شادی کس سے ہوئی ہے یا وہ شخص ان سے شادی کے بعد ہانگ کانگ میں داخل ہوا۔
ایف ٹی یو کے ڈائریکٹر ٹونگ کامیگیو کے مطابق اس خاتون کا فائدہ اٹھایا گیا کیونکہ وہ اس حالات کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھیں۔
ٹونگ کامیگیو کا مزید کہنا تھا ’ان کا سب سے بڑا نقصان ان کی شادی کا ریکارڈ ہے جو ان کے لیے نفسیاتی طور نقصان دہ ہے‘۔
ہانگ کانگ کی پولیس ہر سال شادی میں دھوکہ دہی سے متعلق اوسطً 1000 کیس دیکھتی ہے۔
واضح رہے کہ چین کے باشندے ہانگ کانگ کی خاتون سے شادی کرنے کے بعد وہاں رہائش رکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔