سعودی اتحاد کا یمن میں حملہ، ’22 بچے، چار عورتیں ہلاک‘

یمن

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن(فائل فوٹو)

یمن کے حوثی باغیوں نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں لڑنے والے اتحاد نے حملہ کر کے 22 بچوں اور چار عورتوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

حوثی تحریک کے چینل المسیرہ ٹی وی نے کہا کہ یہ حملہ بحیرۂ احمر کی بندرگاہ حدیدہ سے 20 کلومیٹر دور الدرہیمی میں ایک پناہ گزین کیمپ پر ہوا۔

یاد رہے کہ دو ہفتے قبل اتحادیوں کے ایک سکول بس پر حملے میں کم از کم 29 بچے مارے گئے تھے جس پر اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی رہنماؤں نے تنقید کی تھی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

اس حملے کے بعد العربیہ ٹی وی کے مطابق حکام نے کہا تھا کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو سخت سزائیں دی جائیں گی اور متاثرین کو معاوضہ دیا جائے گا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے بھی اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

ادھر جمعرات ہی کو عرب امارات کے خبررساں ادارے ڈبلیو اے ایم نے خبر دی ہے کہ حوثیوں نے اتحادی حملے کے جواب میں ایک میزائل داغا جس سے ایک بچہ ہلاک اور درجنوں شہری زخمی ہو گئے۔

سعودی عرب اور ان کے اتحادی پچھلے تین برس سے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں سے لڑ رہے ہیں۔ حوثی دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے شمال میں بڑے حصے پر قابض ہیں۔

پھندوں سے لیس کشتی تباہ

اس سے قبل سعودی عرب کی قیادت میں لڑنے والے اتحاد نے کہا تھا کہ اس نے بحیرۂ احمر میں ایک پھندے سے لیس کشتی تباہ کر دی ہے جسے یمن کے حوثی باغیوں نے بھیجا تھا۔

الاخباریہ نیوز چینل پر ایک بیان میں اس حملے کے ہدف کا ذکر نہیں کیا گیا، لیکن باغیوں کے خبررساں ادارے صبا نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے پانیوں میں ایک فوجی ہدف کو نشانہ بنایا ہے۔ اس نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

اتحاد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'دہشت گردوں نے پھندوں سے لیس ایک کشتی حدیدہ کی بندرگاہ سے چھوڑی تھی۔'

نقشہ

سعودی عرب کا الزام ہے کہ حوثی ایران کی پشت پناہی میں بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں اور تجارتی راستوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گذشتہ ماہ حوثیوں نے یمن کے ساحل کے قریب ایک سعودی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا تھا، تاہم اسے معمولی نقصان پہنچا تھا۔ اس کے بعد سے سعودی عرب نے دس دنوں کے لیے باب المندب سے تیل کی ترسیل روک دی تھی۔

باب المندب جزیرہ نما عرب اور قرنِ افریقہ کے درمیان انتہائی اہم گزرگاہ ہے جو بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن کو ملاتی ہے۔ یہاں سے ہر روز 48 لاکھ بیرل تیل گزرتا ہے۔