’میر ے دوست میرے لیے پریشان تھے، مجھے مدد کی ضرورت تھی'

- مصنف, ارم عباسی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
امریکہ میں سفید فام طلبہ کے مقابلے میں ایشیائی طالب علموں میں خودکشی کرنے کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔
ایشیا اینڈ پیسفیک آئی لینڈر کے ایک سروے کے مطابق اپنی جان لینے والوں میں زیادہ تعداد جنوبی ایشیائی خواتین کی ہے۔ ان ہلا دینے والے اعداد و ُشمار کے باوجود امریکہ میں بسنے والی جنوبی ایشیائی برادری ذہنی امراض سے جڑی شرم کی وجہ سے سیاہ فام آبادی کے مقابلے مین تین گناہ کم مدد حاصل کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔
پریانکا کے والدین دو دہائی قبل چنائی سے امریکہ آۓ لیکن اس کے باوجود انہیں کافی وقت لگا کہ وہ اپنی بیٹی کی ذہنی بیماری کو ایک حقیقت تسلیم کر سکیں۔
ذہنی امراض کے حوالے سے جاننے کے لیے مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پچیس سالہ پریانکا امریکی ریاست ٹیکساس میں پیدا ہوئیں۔ پڑھائی کے بعد نوکری کے لیے وہ کیلیفورنیا منتقل ہو گئیں جہاں ایک بڑی ٹیکنالوجی کمپنی میں وہ کام کرنے لگیں۔ پیسے اچھے تھے مگر سکون نہ تھا۔
نوکری کے چند برس بعد ہی انہیں ڈیپریشن ہوگیا ۔ بے ایریا کی تیز زندگی نے انہیں ذہنی امراض میں مبتلا کر دیا لیکن والدین کو اس بارے میں سمجھنا آسان نہ تھا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: 'جب میں نے اپنے ابو کو بتایا کہ میں اپنی نوکری سے خوش نہیں تو مجھے دیکھنے لگے اور بولے میں بھی انڈیا سے امریکہ ایک ڈالر جیب میں لے کر آیا تھا۔ مجھے بھی میری پہلی نوکری بالکل پسند نہیں تھی لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور چپ کر کہ لگا رہا۔ پہلے مجھے لگا وہ صحیح کہہ رہے ہیں اور شاید مسئلہ مجھ میں ہے اور میں ہی کام چور ہوں مگر ایسا نہیں تھا۔ میں ذہنی دباؤ میں تھی۔ مجھے دفتر جانے سے ڈر لگنے لگا اور میں مسلسل خوف کی کیفیت میں رہنے لگی۔ میں نے دوست چھوڑ دیے اور خود کو تنہا کر لیا۔ میر ے دوست میرے لیے پریشان تھے۔ مجھے مدد کی ضرورت تھی۔'

پریانکا اب ذہنی امراض کے ڈاکٹر کے پاس جا رہی ہیں اور پہلے سے بہتر محسوس کر رہی اور اب انہوں نے نوکری چھوڑ دی ہے اور وہ شکاگو میں طب کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔
دوسری جانب پچیس سالہ نبیر شکاگو کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ وہ دو سال پہلے بھارتی ریاست آسام سے امریکہ آئے۔ جب میں ان سے ملی تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور وہ اپنی کارکردگی سے خاصے مطمئن نظر آئے۔ لیکن گزشتہ برس وہ پڑھائی کی وجہ سے اتنے ذہنی دباو کا شکار ہو گئے کہ اپنی جان لینے کے بارے میں سوچنے لگے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوے بولے، 'میں انڈیا میں سکول میں ہمیشہ پہلی پوزیشن حاصل کرتا آیا ہوں۔ خاندان اور محلے والے پچپن سے ہی کہتے آئے ہیں کہ میں بڑا ہو کر ضرور کچھ خاص کروں گا مگر جب میں امریکہ میں پی ایچ ڈی کے لیے آیا تو مجھے لگا میں تو ایک عام سا طالب علم ہوں۔ میں سب سے پیچھے رہ جاؤں گا اور بس یہی سوچ سوچ کر میں پاگل ہو گیا۔'

نبیر کی حالت اتنی خراب ہو گئی کہ وہ 2017 میں وہ پڑھائی روک کر تین ماہ کے لیے واپس انڈیا چلے گئے مگر کوئی آفاقہ نہ ہوا۔ انہوں نے بتایا 'جب میں نے اپنے والدین کو بتایا تو ان کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ آخر ڈیپریشن یا اینگزائٹی ہوتا کیا ہے۔
کیونکہ ایشیائی والدین ہیں تو انہیں اس بارے میں معلوم ہی نہ تھا۔ لیکن اکلوتی اولاد کے لیے وہ بہت گھبرا گیے۔ لیکن بھگوان کا شکر ہے کہ اب ٹھیک ہوں۔'

مدد حاصل کرنے کے بعد اب نبیر زندگی سے سرشار ہیں اور پڑھائی پر بھی مکمل توجہ دے رہے ہیں۔ وہ پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد واپس بھارت جائیں گے تاکہ اپنے والدین کا خیال رکھ سکیں۔
ان مثالوں کو دیکھتے ہوئے ذہنی امراض سے متعلق جنوبی ایشیائی برادری میں جڑے معاشرتی تعصب سے نمٹنے کے لیے پریانکا نےآئی ایم شکتی کے نام سے ایک تنظیم شروع کی ہے جو سیمینار اور ورک شاپس کے ذریعے والدین اور نوجوانوں میں آگاہی پھیلا رہی ہے۔
اس بارے میں بات کرتے ہوئے پریانکا نے کہا کہ 'میں نہیں چاہتی کہ جس قرب سے میں گزری ہوں، میرے باقی ساتھی بھی گزریں۔ آج کے دور میں کئی جنوبی ایشیائی والدین ذہنی امراض کی حقیقت کو مان رہے ہیں مگر اب بھی کافی کام باقی ہے۔ اسی لیے ہم نے یہ سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ لوگ مدد حاصل کرنے سے نہ شرمائیں، ہماری اس ویب سائٹ پر خفیہ طریقہ سے بھی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔'









