ماں کی بیماری کے باعث ایک باپ کو اپنی بچی کو دودھ پلانا پڑ گیا

باپ بچی کو دودھ پلاتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہMAXAMILLIAN KENDALL NEUBAUER

جب امریکی ریاست وسکانسن کے ایک جوڑے کو اپنے بچے کی پیدائش کے وقت ہسپتال جانا پڑا تو صرف ماں ہی کو ایک تجربے سے نہیں گزرنا پڑا بلکہ باپ کو بھی کچھ ایسا کرنا پڑا جس کا اس نے تصور تک نہیں کیا تھا۔

ایپرل نیوباؤر کے خون کا دباؤ زیادہ تھا اور ڈاکٹروں نے آپریشن کے ذریعے بچی کو دنیا میں لانے کا فیصلہ کیا۔

جب 26 جون کو روزلی نامی بچی پیدا ہوئی تو ایپرل کو دورہ پڑا اور انھیں مزید علاج کے لیے لے جانا پڑا۔ ابھی وہ اپنی بچی کو نہیں دیکھ سکتی تھیں۔

اب سات پاؤنڈ وزنی بچی کو باپ میکسی مِلین کے حوالے کر دیا گیا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’ایک نرس میرے پاس بچی لے آئی اور ہم نرسری میں چلے گئے۔ میں نے قمیص اتار کر بچی کو اپنے ساتھ چمٹا لیا۔

'نرس نے کہا کہ بچی کو ڈبے کا دودھ پلانا پڑے گا اور میں اس نے منھ میں انگلی ڈال دوں تاکہ وہ اسے چوستی رہے۔

'پھر نرس نے کہا کہ میں اگر میں چاہوں تو بچی کے منھ میں اپنی چھاتی دے سکتا ہوں تاکہ اسے ماں کی چھاتی کا دودھ پینے کا تجربہ ہو۔ میں ہر کام کا تجربہ کرنا چاہتا ہوں، اس لیے میں نے کہا، ہاں، کیوں نہیں۔'

نرس نے میکسی ملین کی چھاتی کے ساتھ پلاسٹک کا نِپل لگا دیا جس کے ساتھ ایک ٹیوب لگی ہوئی تھی، جس میں ڈبے کا دودھ آ رہا تھا۔

باپ بچی کو دودھ پلاتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہMAXAMILLIAN KENDALL NEUBAUER

'میں نے خوابوں میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میں کبھی اپنی چھاتی سے اپنے بچے کو دودھ پلاؤں گا۔'

'جب میری ساس نے یہ منظر دیکھا تو انھیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ مجھے اپنی ننھی بچی کے ساتھ ایک تعلق محسوس ہوا۔'

میکسی ملین نے اپنے تجربے کا اظہار فیس بک اور انسٹا گرام پر کیا ہے اور اسے بڑی حد تک مثبت قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اس پر تبصرہ کرنے والوں نے نرس کی تعریف کی ہے۔ البتہ بعض نے کہا ہے کہ یہ عجیب سا لگتا ہے اور اگر ماں دودھ نہیں پلا سکتی تو بوتل سے پلایا جا سکتا ہے۔

اس پوسٹ کو 30 ہزار دفعہ شیئر کیا گیا ہے۔

میکسی ملین کہتے ہیں کہ 'میں بس اچھا باپ بننے کی کوشش کرتا رہا تھا۔'