'اچھا تو تم طالبان ہو؟'

    • مصنف, ارم عباسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو، نیویارک

نیویارک پہنچی تو ایک دوست نے کہا مین ہیٹن میں ایک بہت اچھا ریستوران ہے وہاں ضرور جانا۔ میں بھی کام ختم کر کے دوست کے ساتھ نکل پڑی۔ صرف کھانا ہی نہیں بلکہ نیویارک معیشت، ثقافت، تعلیم، فلم اور فیشن سبھی کا مرکز مانا جاتا ہے۔

اسے گلوبل پاور سٹی کہا جاتا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ امریکہ کا سب سے بڑا شہر ہے۔ ٹائم سکوئر سے گزری تو جیسے تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں ہو۔ ہو بھی کیوں، لوگ اس موسم کا انتظار کرتے ہیں تاکہ چھٹی لے کر امریکہ ٹائم سکوئر کی رونق دیکھنے آ سکیں۔

ڈیجٹل بل بورڈز اور لوگوں کا ہجوم جیسے اس شہر کو کبھی سونے نہیں دیتے۔ آتے جاتے لوگ اپنی آبائی زبانوں میں باتیں کر رہے ہیں۔ امیر شہر کی ترقی کا اندازہ یہاں کی عالی شان اونچی اونچی عمارتوں اور دکانوں سے لگایا جا سکتا۔ راستے میں وہ رہائشی عمارت آئی جس کے بارے میں کہیں پڑھا تھا کہ دنیا کے مہنگے ترین اپارٹمنٹ ہیں اور بیشتر کے مالک روسی باشندے۔ اندر جانے کا خیال آیا مگر سوچا کیا فائدہ دل جلانے کا۔

یہ بھی پڑھیے

اور انہی شیشے کی خوبصورت عمارتوں بیچ ہمارا ریستوران آ گیا۔ ہم نے ٹیبل بک نہیں کرایا تھا تو گھنٹے کا انتظار کرنا پڑا۔ ہم جا کر قطار میں لگ گئے۔ اسی دوران ایک 26 سالہ شخص جو ہم سے قطار میں پیچھے تھا اس نے ہیلو کہا۔ اس کے لباس سے لگ رہا تھا کہ اس کا تعلق کھاتے پیتے گھرانے سے ہے۔ آبائی ملک اس کا آئرلینڈ ہے۔ میری دوست البانیہ سے ہے۔ جب اس کے پوچھنے پر میں نے اپنا ملک پاکستان بتایا تو اس نے ہنس کر کہا، 'اچھا، تو تم طالبان ہو۔'

مجھے اس 'مذاق' پر ہنسی بالکل نہیں آئی اور حیرت بھی ہوئی کہ اسے مذاق کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

اب اسی موضوع ہر ہیں تو یہ بھی بتاتی چلوں کہ جب سے امریکہ میں ہوں اس طرح کا 'مذاق' پہلی بار نہیں ہوا۔ واشنگٹن میں تو ایک لڑکی نے پاکستان کا ذکر سننے کے بعد یہ بھی پوچھ ڈالا کہ 'تمہارے بیک پیک میں کہیں بم تو نہیں؟'

امریکہ میں ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعد نفرت کا اظہار زور و شور سے کرنا عام سی بات بن گئی ہے اور اکثر بڑے شہروں میں ہونے والے ایسے چھوٹے چھوٹے واقعات تعصب کو عیاں کرتے ہیں۔

ظاہر ہے اس سے ان شہروں کی خوبصورتی گھٹتی تو نہیں لیکن جھٹکا ضرور لگتا ہے، چاہے پھر ایسا سویں بار ہی کیوں نہ ہو رہا ہو۔