ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی فوج کو خلائی فورس کی تشکیل کا حکم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی چھٹی شاخ کے قیام کے لیے کام شروع کرے جو کہ 'خلائی فوج' ہو گی۔
امریکی صدر نے پیر کو کہا کہ اس نئی شاخ کے قیام سے قومی سلامتی اور معیشت کو مدد ملے گی کیونکہ اس سے روزگار ملے گا۔
انھوں نے کہا ’یہ صرف کافی نہیں ہے کہ خلا میں امریکی موجودگی ہو۔ ہم پر لازم ہے کہ خلا میں امریکی غلبہ ہو۔‘
وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے انھوں نے عزم کیا کہ امریکہ ایک بار پھر چاند پر امریکی بھیجے گا اور پھر مریخ پر۔
’میں محکمہ دفاع اور پینٹاگون کو حکم دیتا ہوں کہ فوری طور پر آرمڈ فورسز کی چھٹی شاخ سپیس فورس کے قیام پر کام شروع کریں۔‘

امریکی فوج کی موجودہ شاخیں
- یو ایس آرمی
- یو ایس میرین کور
- یو ایس نیوی
- یو ایس ایئر فورس
- یو ایس کوسٹ گارڈ

انھوں نے مزید کہا کہ یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ چین اور روس کو خلا میں سبقت حاصل ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ وفاقی ایجنسیوں کو احکامات جاری کریں گے کہ سپیس ٹریفک مینجمنٹ کے لیے جدید فریم ورک مرتب کریں۔
فی الحال اس نئی سپیس فورس کے بارے میں مزید تفصیلات مہیا نہیں کی گئی ہیں کہ یہ کیسی ہو گی اور اس کا کام کیا ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ملٹری کی جانب سے نئی شاخ تشکیل دینے کے لیے امریکی کانگریس کی جانب سے قانون کی منظوری ضروری ہے۔

،تصویر کا ذریعہSSPL
نیشنل سپیس کونسل کے اجلاس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بات کرتے ہوئے کہا ’اس بار میں خلا میں محض امریکی جھنڈا لگانے اور قدم کے نشانات نہیں چھوڑوں گا۔ ہم خلا میں طویل مدتی موجودگی قائم کریں گے، معیشت کو توسیع دیں گے اور مریخ پر مشن کی بنیاد رکھیں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ امیر امریکیوں کو راکٹ لانچ کرنے کے لیے سرکاری تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت دے گی تاکہ کمرشل سپیس کی صنعت کو فروغ ملے۔
’اگر امیر امریکی حکومت سے پہلے مریخ کا مشن کر لیتے ہیں تو ہم بڑے خوش ہوں گے اور آپ لوگ بڑے مشہور ہو جائیں گے۔ وہ حکومت کو شکست دیں گے لیکن اس کا سہرا ہمارے سر جائے گا۔‘

ایک پرجوش صدر
بی بی سی کی وائٹ ہاؤس رپورٹر ٹارا میککلوی کا کہنا ہے کہ جس وقت صدر ٹرمپ نے یہ اعلان کیا ہے تو میں دیکھ سکتی تھی کہ وہ لطف اندوز ہو رہے ہیں خاص طور پر اس وقت جب انھوں نے سپیس فورس کے قیام کا اعلان کیا۔ کمرے میں دیگر افراد حیران لگ رہے تھے۔
کمرے میں پچھلی نشستوں میں موجود افراد ہنسنے لگ گئے اور وہ کہہ رہے تھے کہ اس نئی فورس کی تشکیل کے حوالے سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جوزف ڈنفرڈ کا کیا خیال ہے۔
لیکن یہ آئیڈیا بالکل نیا نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی آرمڈ فورسز سے بات کرتے ہوئے سپیس فورس کے بارے میں بات کر چکے ہیں۔ اور سابق وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے سنہ 2000 میں یہ آئیڈیا تھا لیکن اس کا کچھ نہیں بنا۔

ٹرمپ اور ان سے پہلے بھی سپیس فورس کے قیام کی باتیں ہو چکی ہیں اور اس خیال کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سپیس فورس کے قیام سے پینٹاگون کو بہت فائدہ ہو گا۔
تاہم سینیئر ملٹری حکام نے اس خیال کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔
2017 میں کانگریس کو ایک بریفنگ میں امریکی فضائیہ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ گولڈفن نے کہا تھا کہ سپیس فورس کا قیام ہمیں غلط سمت میں لے جائے گا۔
یاد رہے کہ خلا سے متعلق فوجی کارروائیوں کی نگرانی امریکی فضائیہ کرتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی سینیٹر بل نیلسن نے ٹویٹر پر کہا ہے ’شکر ہے صدر کانگریس کے بغیر اس حوالے سے کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ وقت نہیں ہے فضائیہ کو منتشر کرنے کا۔ بہت سارے مشن ہو رہے ہیں۔‘









