ٹیکساس کے باشندے کو سانپ کے کٹے ہوئے سر نے بھی ڈس لیا

امریکی ریاست ٹیکسس کے رہائشی کو 26 بار زہر کا توڑ کرنے والی دوا اس وقت دی گئی جب ان کو سانپ کے کٹے ہوئے سر نے کاٹ لیا۔

اس شخص کی اہلیہ جینیفر سٹکلیف نے مقامی چینل کے تھری ٹی وی کو بتایا کہ ان کے شوہر باغیچے میں کام کر رہے تھے کہ انھوں نے ایک چار فٹ لمبا کھڑ کھڑانے والا سانپ دیکھا۔ انھوں نے فوراً اس کا سر کاٹ دیا۔

’جب وہ سانپ کے باقیات کو تلف کرنے کے لیے اٹھانے لگے تو سانپ کے سر نے انہیں کاٹ لیا۔‘

اس سانپ کے مرنے کے بعد بھی اس کے کاٹنے کی اضطراری حرکت کافی گھنٹوں تک قائم رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جینیفر کے مطابق کاٹے جانے کے بعد ان کے شوہر کو دورے پڑنے لگے۔ انھیں فوری طور پر ہیلی کاپٹر میں قریبی ہسپتال پہنچایا گیا جہاں انھیں زہر مار دوا کروفیب دی گئی۔

اس واقعے کے ایک ہفتے بعد اب جا کر جینیفر سٹکلیف کے خاوند کی حالت سنبھلی ہے، تاہم ان کے گردے متاثر ہوئے ہیں۔

یونیورٹسی آف ایریزونا میں زہر کا اثر ختم کرنے کی ماہر ڈاکٹر لیزلے بوئیر نے سانپوں کو مارنے کی کوشش کرنے اور بالخصوص انھیں کاٹ کر مارنے کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ایک تو یہ جانوروں کے ساتھ سفاکانہ سلوک ہے اور دوسرا اس کے بعد آپ کو اس کے جسم کا ایک چھوٹا حصہ اٹھانا پڑتا ہے جو کہ زہریلا ہوتا ہے۔‘