کینیا میں غلط مریض کے دماغ کا آپریشن

کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ہسپتال کے عملے میں شامل چار افراد کو غلط مریض کے دماغ کا آپریشن کرنے کی پاداش میں معطل کر دیا گیا ہے۔

ان کے پاس ایک مریض لایا گیا جس کے دماغ میں خون جمنے کی وجہ سے آپریشن کرنا تھا جبکہ دوسرے مریض کے سر میں سوجن ہوگئی تھی جس کے علاج کے لیے آپریشن کی ضرورت نہیں تھی۔

لیکن حیران کن طور پر ان مریضوں کی شناخت میں غلط فہمی کی وجہ سے سوجن والے مریض کے سر کا آپریشن کر دیا گیا۔

مقامی اخبار 'ڈیلی نیشن' کی خبر کے مطابق ڈاکٹروں کو اپنی غلطی کا احساس 'آپریشن شروع کرنے کے کچھ گھنٹوں کے بعد ہوا جب انھیں مریض کے دماغ میں خون جمنے کے علامات نظر نہیں آئیں۔'

کینیاٹا نیشنل ہسپتال کے سربراہ نے کہا کہ 'مریض صحتیاب ہو رہا ہے اور اس واقعے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔‘

کینیا میں طبی عمل کی نگرانی کرنے والے بورڈ کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ایسا واقعہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ بورڈ نے ہسپتال سے رپورٹ طلب کی ہے اور اس کے بارے میں میٹنگ رکھنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے۔

ہسپتال کی سربراہ للی کوروس نے کہا کہ انھیں 'اس واقعے پر بہت شرمندگی ہے اور وہ پوری کوشش کر رہی ہیں کہ متاثرہ مریض کی حفاظت اور دیکھ بھال کی جائے۔'

للی کوروس نے بتایا کہ عملے میں شامل چاروں افراد کو معطل کر دیا گیا ہے اور اس میں شامل دماغ کے سرجن کو شو کاز نوٹس بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

لیکن ہسپتال کے اس فیصلے پر دوسرے ڈاکٹروں نے اپنے احتجاج کا مظاہرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ جس شخص نے مریضوں پر شناخت کرنے والے نشانات لگائے ہیں اس کو سزا ملنی چاہیے تھی۔

دوسری جانب ڈاکٹروں کی یونین نے عملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں عملے کی شدید کمی کی وجہ سے موجودہ عملہ سخت دباؤ کا شکار رہتا ہے۔

مقامی اخبار کی مطابق یہ معجزہ ہے کہ دونوں مریضوں کی جان خطرے سے باہر ہے۔

یاد رہے کہ اسی ہسپتال میں حاملہ مریضوں کے ساتھ جنسی ہراسگی واقعات ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں اور فروری میں ایک عورت نے نوزائیدہ بچے کو چوری کر لیا۔

کینیا کا مرکزی ہسپتال ہونے کی حیثیت سے اس ہسپتال میں مریضوں کی ایک بڑی تعداد آتی ہے اور انتظامیہ کی شکایت ہے کہ ان کے پاس پیسوں کی قلت ہونے کی وجہ سے نئی مشینری خریدنے کی سکت نہیں ہے اور نہ ہی وہ مریضوں کو مکمل توجہ کے ساتھ علاج معالجہ فراہم کر سکتے ہیں۔