برطانیہ کا علاقہ بلیکبرن ایشیائی نژاد خواتین کونسلر کیوں منتخب نہیں کرتا؟

،تصویر کا ذریعہAeman Afzal
بلیکبرن کا شمار انگلینڈ کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں بڑی تعداد میں ایشیائی نژاد باشندے بستے ہیں۔ مقامی حکومتوں میں ایشیائی باشندوں کی بڑی تعداد موجود ہے لیکن وہ تمام کے تمام مرد ہیں۔
بلیکبرن سے آج تک ایک بھی ایشیائی خاتون کونسلر منتخب نہیں ہو پائی ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ ایشیائی عورتیں سیاست میں حصہ لینے کے لیے تیار نہیں۔ صائمہ افضل لیبر پارٹی کی ممبر ہیں اور تین مرتبہ کونسلر کا الیکشن لڑ چکی ہیں لیکن ہر بار دوسری پوزیشن پر آتی ہیں۔
بلیکبرن سے خواتین سیاستدانوں کے کامیاب نہ ہونے کی کئی وجوہات ہیں، لیکن جس پر تقریباً سبھی متفق ہیں وہ ہے ایشیائی مردوں کا عورتوں کے بارے میں رویہ۔
یہ بھی پڑھیئے
صائمہ افضل نے آخری بار 2001 میں الیکشن لڑا۔ لیکن سترہ سال بعد بھی بلیکبرن میں بظاہر کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ صائمہ افضل سترہ برس بعد ایک بار پھر قسمت آزمانے کی تیاری کر رہی ہیں۔
بلیکبرن کی مقامی کونسل میں ممبران کل تعداد 39 ہے جن میں سے19 ایشائی مرد ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صائمہ افضل بتاتی ہیں کہ جب میں الیکشن میں حصہ لیتی ہوں مجھ پر طرح طرح کے اعتراض کیے جاتے ہیں مثلاً میں عورت ہوں، مجھ پر زبردستی کی شادی ختم کرنے کا دھبہ بھی لگا ہوا ہے، اور بعض لوگوں نے تو میری جنس پر بھی سوالات اٹھائے، بلکہ اس سے بھی زیادہ گھناؤنے الزامات لگائے گئے۔'
لنکاشائر کی سابق پولیس کمشنر کا کہنا ہے ایشیائی مرد عورتوں کے انتخابات کے حق میں ہی نہیں ہیں۔
محمد خان 1965 میں پاکستان سے برطانیہ آئے اور پچھلے پچیس برسوں سے علاقے کی لیبر پارٹی کے کونسلر ہیں۔ محمد خان بلیکبرن میں ایشیائی عورتوں کے منتخب نہ ہونے کی وجہ عورتوں کی ترجیحات کو گردانتے ہیں۔ 'ان کی ترجیح (عورتوں) نوکری اور گھر کی دیکھ بھال ہے۔ ہم ان کی بہت حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ آگے آئیں، ان کی تربیت کرتے ہیں اور انھیں بتاتے ہیں کہ نظام کیسے کام کرتا ہے۔'

محمد خان کہتے ہیں' لیکن اس میں کوئی آمدن نہیں ہے، یہ رضاکارانہ کام ہے، ہم انھیں مجبور نہیں کرسکتے۔'
ساٹھ کی دہائی میں بڑی تعداد میں ایشیائی لوگ بلیکبرن آئے اور ٹیکسٹائل کی صنعت میں کام کیا۔ پچاس برس بعد بلیکبرن کا شمار انگلینڈ اور ویلز کی 176 لوکل کونسلوں میں ایشائی آبادی کے تناسب سے گیارہویں نمبر پر ہے لیکن آج تک اس کونسل سے ایک بھی ایشیائی خاتون کونسلر منتخب نہیں ہو سکی ہیں۔
تازہ ترین مردم شماری کے مطابق بلیکبرن کی کل آبادی ایک لاکھ چوہتر ہزار ہے جس میں ایک تہائی ایشیائی نژاد باشندوں کی ہے۔
بلیکبرن سے ممبر پارلیمنٹ کیٹ ہولرن کے خیال میں روایتی ایشیائی خاندانوں کی خواتین کے لیے سیاست میں حصہ لینا بہت مشکل ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ایشیائی خواتین ایسی مقامی تنظیموں میں بھرپور شریک ہوتی ہیں جو فیصلہ سازی میں مددگار ہوتی ہیں۔
ممبر پارلیمنٹ کیٹ ہولرن سمجھتی ہیں کہ برطانیہ کا انداز سیاست جس میں شام کو پارٹی کے اجلاس بھی ہیں، وہ شاید ایشیائی عورتوں کو بھاتا نہیں ہے کیونکہ انھیں گھر کی دیکھ بھال بھی کرنی ہوتی ہے۔







