آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ویتنام میں کم عمر لڑکیاں کیوں غائب ہو رہی ہیں؟
ویتنام کے شمالی علاقے میں لڑکیاں غائب ہو رہی ہیں۔ یہ کم عمر لڑکیاں، جن میں سے کچھ کی عمر تو صرف 13 برس تک ہے ، انھیں اغوا کرنے کے بعد چین لے جایا جاتا ہے جہاں ان کی کم عمری میں شادی کرا دی جاتی ہے۔
بچوں کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیم پلان انٹرنیشنل کے مطابق کمسن بچیوں کو اغوا کر کے زبردستی شادیاں کرانے کا عمل گذشتہ دس سالوں میں آہستگی سے لیکن مسلسل بڑھتا چلا جا رہے ہے۔
فوٹوگرافر ونسنٹ ٹریمئیو نے پلان انٹرنیشنل کی کرسٹی کیمرون کے ساتھ ویتنام کا سفر کیا تاکہ وہ ان گھرانوں سے مل سکیں جن کی بچیاں ان سے چھین لی گئی تھیں۔
56 سالہ ڈو لاعلاج مرض میں مبتلا ہیں اور کہتی ہیں کہ ان کی صرف ایک خواہش ہے اور وہ ہے اپنی گمشدہ بچی سے دوبارہ ملاقات کرنا ، جو دو سال سے غائب ہیں۔
ڈو کی بیٹی بازار گئی تھیں جہاں سے انھیں اغوا کر لیا گیا تھا۔ لیکن اس کے بعد سے ڈو اور ان کے خاندان والوں کو اب تک صرف یہ معلوم ہوا ہے کہ دو لوگ اس کا تعاقب کر رہے تھے۔
ڈو نے اپنی بیٹی می کا پتہ ویتنام کے شمال میں واقع ایک شہر ہا گیانگ تک معلوم کیا لیکن جب وہ وہاں پہنچیں تو انھیں بتایا گیا کہ می کو چین لے جایا جا چکا ہے جہاں وہ شاید کسی کی بیوی بن جائیں۔
ڈو کے گھر میں می کی تصاویر جگہ جگہ لگی ہوئی ہیں۔
می کے علاوہ 50 لوگوں پر مشتمل اس چھوٹے سے پہاڑی گاؤں کی تین اور لڑکیوں کو اغوا کیا جا چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس گاؤں کے رہائشیوں کے لیے زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔
لڑکیوں کے اغوا کرنے والوں کا ایک اور طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ وہ مہینوں تک لڑکی سے جان پہچان بڑھاتے ہیں تاکہ ان سے دوستی کی جا سکے اور پھر ان کو جھانسہ دیں کہ وہ ان لڑکیوں کو چین میں نوکری دلا سکتے ہیں۔
اس خیال سے کہ چین میں تنخواہیں اور معیار زندگی بہتر ہوگا، کئی لڑکیاں ان کے جھانسےمیں آ جاتی ہیں اور ان پر اس دھوکے کی حقیقت صرف اس وقت آشکار ہوتی ہے جب وہ چین پہنچتی ہیں۔
18 سالہ ڈنھ کو بھی ایسے ہی دھوکہ دیا گیا تھا۔ جب وہ 15 برس کی تھیں تو ان کو کسی نے لفٹ دینے کا وعدہ کیا تاکہ ان کو اپنے گاؤں تک پہنچنے کے لیے زیادہ نہ چلنا پڑے لیکن جب وہ اور ان کی دوست لیا گاڑی میں بیٹھیں تو انھیں اندازہ ہوا کہ انھیں غلط سمت میں لے جایا جا رہا ہے۔
ڈنھ کو چین لے جایا گیا جہاں ان کو ایک مکان میں قید رکھا گیا اور ان کی تصاویر اتاری گئیں تاکہ انھیں ان لوگوں تک بیچا جا سکے جو ان سے شادی کرنے کے خواہشمند ہوں۔
آٹھ ماہ کی قید کے بعد ڈنھ تو وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئیں لیکن ان کی دوست لیا ابھی تک وہیں پر موجود ہیں۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2017 سے لے کر مارچ 2017 تک اب تک 300 کیسیز سامنے آئے ہیں جہاں لڑکیوں کو اغوا کیا جا چکا ہے جبکہ بچوں کی مدد کا ادارہ چائلڈ ہیلپ لائن کو تین سالوں یں 8000 کالیں آ چکی ہیں۔
پلان انٹرنیشنل ہا گیانگ میں آگاہی کی لیے مہم چلا رہے تاکہ علاقے میں موجود لڑکیوں کو انسانی سمگلنگ کے خطرے سے آگاہ کیا جائے اور حکومت پر زور دیا جائے کہ وہ گمشدہ لڑکیوں کو ڈھونڈنے میں اپنا کردار ادا کریں اور ان خاندانوں کو انصاف پہنچائیں۔
تمام تصاویر بشکریہ پلان انٹرنیشنل