آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بدنام زمانہ الکیٹریز جیل سے فرار ہونے والے ایک قیدی کا خط
ایک پراسرار خط منظر عام پر آیا ہے جو مبینہ طور پر ان تین قیدیوں میں سے ایک نے لکھا ہے جو 1962 میں مشہور زمانہ الکیٹریز جیل سے فرار ہوئے تھے۔
اپنے آپ کو جان اینگلن کہنے والے نے 2013 میں سان فرانسسکو پولیس کو خط لکھا تھا۔ یہ خط اب منظر عام پر آیا ہے۔
اس خط میں لکھا ہے ’میرا نام جان اینگلن ہے۔ میں الکیٹریز سے جون 1962 میں فرار ہوا تھا۔ ہاں ہم سب بڑی مشکل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔‘
یاد رہے کہ اککیٹریز جیل سے فرار ہونے والے تینوں قیدی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں ہیں اور ان کی تازہ تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں کہ وہ اب کیسے دکھتے ہوں گے۔
خط میں کیا لکھا ہے؟
اس خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دو بھائی جان اور کلیرنس اینگلن اور ایک اور قیدی فرینک مورس تقریباً 50 سال قبل جیل سے فرار ہونے کے بعد کافی عرصہ زندہ رہے۔
خط کے مطابق الیرنس اینگلن 2008 اور مورس 2005 میں انتقال کر گیا۔
خط میں حکام کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ’اگر پولیس حکام ٹی وی پر اعلان کریں کہ میں صرف ایک سال کے لیے جیل جاوں گا اور طبی سہولت دی جائے گی تو میں دوبارہ خط میں بتاؤں گا کہ میں کہا پر ہوں۔‘
’میں 83 سال کا ہو گیا ہوں اور میری حالت کافی بری ہے۔ مجھے کینسر ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خط کے مطابق جان اینگلن نے زیادہ تر عرصہ سیئٹل میں گزارا اور آٹھ سال نارتھ ڈکوٹا میں۔
جس وقت جان نے یہ خط لکھا تھا وہ اس وقت مبینہ طور پر کیلیفورنیا میں مقیم تھے۔
کیا یہ خط اصلی ہے؟
امریکی ٹی وی سی بی ایس کے مطابق سان فرانسسکو پولیس نے پانچ سال قبل یہ خط موصول ہونے کے باوجود اس کو پبلک نہیں کیا۔
یہ خط سان فرانسسکو می وی سٹیشن کے پی آئی ایکس کو نامعلوم ذرایع کی جانب سے دیا گیا تھا۔
امریکہ کی مارشل سروس جو اس کیس کو 1978 سے دیکھ رہی ہے نے یہ خط ایف بی آئی کو فورنمک لیبارٹری کو لکھائی کی تحقیق کرنے کے لیے دیا تھا۔
مارشل سروس کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے ’تینوں قیدیوں، جان، الیرنس اور مورس، کی لکھائی کے نمونوں کا موازنہ اس نامعلوم خط سے کیا گیا لیکن بےنتیجہ نکلا۔
رشتہ داروں کا کیا کہنا ہے؟
جان اور کلیرنس کے بھانجے ڈیوڈ وڈنر نے سی بی ایس کو بتایا کہ جان اور کلیرنس کے الکیٹریز کے فرار ہونے کے کئی سال بعد تک ان کی نانی کو گلاب اور ان کے سائن کردہ کارڈ ملا کرتے تھے۔
ڈیوڈ نے مزید کہا کہ ان کو نہیں معلوم کہ حہ خط جان ہی نے لکھا ہے یا نہیں۔
انھوں نے اس بات پر پایوسی کا اظہار کیا کہ اس خط کو اہل خانہ تک وقت پر نہیں پہنچایا گیا۔
’اگر وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کو کینسر ہے تو کم از کم حکام کو ہمیں بتایا چاہیے تھا تاکہ ہمیں معلوم چلے کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔‘
فرار کیسے ہوئے؟
بینک لوٹنے کے جرم میں ان تینوں قیدیوں نے یہ ثابت کیا کہ الکیٹریز جہاں بدترین مجرموں کو رکھا جاتا تھا سے فرار ہونا ناممکن نہیں ہے۔
معلومات کے مطابق ان قیدیوں نے تیز کیے گئے چمچوں سے کئی ماہ میں اپنے سیل سے سرنگ بنائی۔ انھوں نے برساتیوں سے ایک کشتی بنائی اور رات کے وقت سمند میں اترے اور اس دن کے بعد سے کسی نے ان کو نہیں دیکھا۔
بدنام زمانہ الکیٹریز جیل اب سیاحتی مقام ہے جہاں ہر سال دس لاکھ سیاح آتے ہیں۔ جان ایگلن کا سیل سب سے زیادہ مشہور ہے۔
یہ جیل ان قیدیوں کے فرار ہونے کے ایک سال یعنی 1963 میں بند کر دیا گیا۔
جیل حکام کا کہنا تھا کہ یہ ناممکن ہے کہ یہ تین قیدی فرانسسکو کے کے ٹھنڈے پانی میں تیر کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہوں۔