پاکستان میں ریڈیو مشال کے ’خلاف زبردستی بیان دلوانے کی کوشش‘

ریڈیو فری یورپ نے کہا ہے کہ پاکستان میں اُن کے دفتر سیل کرنے کے بعد حکام ریڈیو مشال کے صحافیوں سے ادارے کے خلاف زبردستی بیانات شائع کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

نامہ نگار خدائے نور ناصر کے مطابق بیان میں ریڈیو فری یورپ کے صدر تھامس کینٹ کی جانب سے کہا گہا ہے کہ انھیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ ریڈیو مشال کے صحافیوں کو ادارے کے خلاف بیان جاری کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو امریکہ نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ اسلام آباد میں امریکی امداد پر چلنے والی ریڈیو مشال کی نشریات پر عائد کی جانے والی پابندی ہٹائی جائے۔

نامہ نگار ارم عباسی کے مطابق امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوئرٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’19 جنوری کو پاکستان کی وزرات داخلہ کی جانب سے ریڈیو فری یورپ /ریڈیو لیبرٹی کے ریڈیو مشال پر لگائی جانے والی پابندی کے حکومتی فیصلے پر امریکہ کو تشویش ہے۔ ہم نے پاکستانی حکومت کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے اور ہم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے ریڈیو مشال کو بند کرنے کا فیصلہ واپس لے۔‘

خیال رہے پاکستان کی جانب سے ریڈیو مشال کی نشریات پر پابندی ایسے وقت لگائی گئی ہے جب امریکہ اور پاکستان کے درمیان گشیدگی عروج پر ہے۔

امریکہ نے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائی نہ کرنے کا الزام لگاتے رواں ماہ ہی پاکستان کو دی جانے والی تقریباً دو ارب ڈالر کی امداد روکنے کا فیصلہ کیا جس کے جواب میں پاکستان نے بهی امریکہ کے ساتھ تمام تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا

ریڈیو مشال کی انتظامیہ نے بدھ کو حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا تها کہ ان کے صحافیوں کو بغیر خوف و خطر کام کرنے دیا جائے۔

اس سلسلے میں ریڈیو کی انتظامیہ نے ایک بیان میں کہا کہ 'ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے ریڈیو مشال پر یہ الزم لگایا ہے کہ وہ پاکستان کے قومی مفاد کے خلاف کام کر رہا ہے جس کے بعد وزرات داخلہ نے 19 جنوری کو اسلام آباد میں ریڈیو مشال بیورو کو بند کر دیا۔‘

ریڈیو انتظامیہ نے مزید کہا کہ ’پشتو زبان میں چلنے والی ریڈیو مشال کی نشریات ایک پبلک سروس ہے جس کا مقصد انتہا پسندی اور اس کے پیچهے کارفرماں سوچ سے نمٹنا ہے۔'

پشتو میں چلنے والی ریڈیو مشال کی نشریات کو بند کرتے ہوئے پاکستانی وزرات داخلہ کی جانب سے جاری ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ 'ریڈیو پر چلنے والے پروگرامز کے چار اہم پہلو ہیں جس میں پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دکهایا گیا ہے جو انتہا پسندوں کو مخفوظ پناہ گاہیں مہیا کرتا ہے، انتہاپسندی کا گڑھ ہے، پاکستان کو ایک ناکام ریاست پیش کیا گیا جو اپنے شہریوں اور خصوصاً اقلتیوں کو تحفظ مہیا کرنے میں ناکام رہی ہے جبکہ خیبرپختوانخوا، فاٹا اور بلوچستان کی پشتون عوام کو ریاست سے نالاں دکهایا گیا، ریاستی اداروں کے خلاف عوام کے ایک مخصوص طبقے کو بهڑکانے کے لیے حقائق کو صحیح طریقے سے بیان نہیں کیا جا رہا۔'

بیشتر سماجی کارکن پاکستان حکومت کے اس اقدام کو آزادی رائے پر قدغن قرار دے رہے ہیں۔ انٹرنیشنل انڈیکس آف پریس فریڈیم پر پاکستان مسلسل صحافیوں کے لیے خطرناک ملکوں کی فہرست میں ہے۔

بیشتر ممالک میں صحافیوں کو محض اپنی ذمہ داری پوری کرنے پر ہراساں کیے جانے کے سلسلے میں امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان کا کہنا تها 'امریکہ ان ملکوں میں صحافیوں کو ہراساں کرنے، ان پر ہونے والے حملوں اور گرفتاریوں کی مذمت کے ساتھ ساتھ مطالبہ کرتا ہے کہ آزادی رائے کے عالمی اقدار کو ٹهیس نہ پہنچائی جائے۔‘