آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پانچ سال قبل موت پانے والے والد کا اپنی بیٹی کو آخری پیغام
بیلی سیلرز کی 21 ویں سالگرہ اداسی کا پیغام لے کر آئی کیونکہ انھیں اپنے مردہ والد کی جانب سے پھولوں کا آخری گلدستہ موصول ہوا۔
ان کے والد کی موت سرطان سے ہوئی تھی، اس وقت سیلرز کی عمر 16 برس تھی تاہم انھوں نے ہر سال اپنی بیٹی کو پھولوں کا تحفہ بھیجنے کی پہلے سے ہی ادائیگی کی ہوئی تھی۔
وہ گذشتہ پانچ برسوں سے پھولوں کا گلدستہ ایک لکھے ہوئے پیغام کے ساتھ موصول کر رہی تھیں۔
اس سال یہ پیغام تھا: ’میں اب بھی ہر سنگ میل پر تمھارے ساتھ ہوں گا، بس ادھر ادھر دیکھو اور میں وہیں ہوں گا۔‘
امریکی ریاست ٹینیسی کے شہر ناکسویل سے تعلق رکھنے والی بیلی سیلرز نے ٹوئٹر پر ایک دل سوز پوسٹ میں یہ روداد بتائی اور کہا کہ وہ ان کی ’کمی بہت زیادہ محسوس کرتی ہیں۔‘
انھوں نے ٹوئٹر پر اس ہاتھ سے لکھے ہوئے پیغام، پھولوں اور اپنے بچپن کی تصاویر بھی شیئر کیں۔
ان کے والد کا پیغام کچھ یوں تھا: ’جب تک ہم دوبارہ نہیں ملتے یہ میرا تمھیں آخری پیار بھرا خط ہے۔ میری بچی میں نہیں چاہتا کہ تم میرے لیے کوئی آنسو بہاؤ میں بہتر جگہ پر ہوں۔‘
ان کی اس پوسٹ پر بہہت سارے لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’اس کو دیکھ کر میں ٹوٹ گیا ہوں۔ مجھے بہت افسوس ہے، یہ بیک وقت اداس اور مسرت بخش ہے کہ انھوں نے آپ کے لیے ایسا کیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیلی سیلرز کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں۔ ہر سال میں اپنی سالگرہ میں اس کا انتظار کرتی تھی کیونکہ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ وہ ابھی تک یہیں میرے ساتھ ہیں لیکن یہ اخری سال ہے کہ مجھے یہ ملا ہے اس لیے دل سوز ہے۔‘