گولن کو ترکی کے حوالے کرنے کی سازش سے تعلق نہیں: مائیکل فلن

وائٹ ہاؤس کے سابق مشیر مائیکل فلن کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ فتح اللہ گولن کو زبردستی ترکی بھیجنے کی سازش میں ان کے موکل نے بھی کردار ادا کیا۔

رابرٹ کیلنر کا کہنا ہے کہ ان دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں کہ سابق سکیورٹی مشیر مائیکل فلن اور ان کے بیٹے نے ترکی کے نمائندوں سے ملاقات میں فتح اللہ گولن کو ترکی بھجوانے کے بارے میں بات چیت کی۔

امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ جیمز وولزی نے انکشاف کیا تھا کہ فتح اللہ گولن کو زبردستی ترکی بھجوانے کا ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا ایک منصوبہ بنایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

یاد رہے کہ 2016 میں ہونے والی ناکام بغاوت کا الزام ترکی فتح اللہ گولن پر لگاتا ہے۔

ترکی کے صدر طیب اردوغان کئی بار گولن کو امریکہ سے ترکی بھیجے جانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ گولن امریکی ریاست پینسلوینیا میں رہتے ہیں۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق مائیکل فلن نے گولن کو نجی طیارے سے امرالی جزیرے میں قائم جیل منتقل کرنے پر بات چیت کی تھی۔ اخبار نے مزید کہا ہے کہ اس حوالے سے فلن کو رقم کی پیشکش بھی کی گئی تھی۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق گولن کے حوالے سے انکشاف روس کی امریکی انتخاب میں مبینہ مداخلت کے حوالے سے سپیشل کونسل رابرٹ میولر کی تحقیقات کے دوران ہوا۔

دوسری جانب این بی سی کا کہنا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ٹیم بھی گولن کو زبردستی ترکی لے جانے کی سازش کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

سی آئی اے کے سابق سربراہ جیمز وولزی نے سی این این کو بتایا تھا کہ مائیکل فلن کی ترکی کے نمائندوں سے مبینہ ملاقات ستمبر 2016 میں ہوئی تھی۔

'اس ملاقات میں کے حوالے سے کافی حد تک مصدقہ اطلاعات ہیں کہ ایک سے زائد امریکی تھے اور ترکی کے نمائندوں سے کہا گیا تھا کہ ان کے ذریعے امریکی حکومت گولن کو زبردستی ترکی بھیج سکتی ہے۔'

مائیکل فلن وائٹ ہاوس کے پہلے مشیر تھے جنھوں نے اپنی تعیناتی کے 23 روز بعد ہی استعفیٰ دے دیا تھا۔