آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شامی حکومت خان شیخون پر سارین گیس کے حملے میں ملوث تھی: اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق رواں برس اپریل میں شام میں ہونے والے اعصاب شکن ممنوعہ گیس 'سارین' کے حملے میں شامی حکومت ملوث تھی۔
صوبہ ادلب کے علاقے خان شیخون میں ہونے والے اس حملے کو تین سال کے دوران سب سے بڑا حملہ قرار دیا گیا تھا جس میں 80 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
حملے کے بعد روس کا کہنا تھا کہ شام میں درجنوں افراد کو ہلاک کرنے والے مبینہ طور پر کیمیائی حملے کی ذمہ دار باغی فورسز ہیں۔
روسی وزارتِ خارجہ نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ شامی لڑاکا طیاروں نے ادلب صوبے میں خان شیخون نامی قصبے کو نشانہ بنایا ہے تاہم اس فضائی کارروائی میں زہریلے مواد سے بھری بارودی سرنگوں کے ایک ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ رپورٹ کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے ادارے او پی سی ڈبلیو اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تحقیقاتی نظام' جے آئی ایم' نے جاری کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عرب جمہوریہ شام خان شیخون میں چار اپریل 2017 کو ممنوعہ سارین گیس استعمال کرنے کی ذمہ دار ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکیِ ہیل نے رپورٹ کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ' پھر ہم نے اسد حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ایک آزادانہ تصدیق دیکھی ہے اور اس آزادانہ رپورٹس کے باوجود بعض ممالک حکومت کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ اب لازمی ختم ہونا چاہیے۔'
انھوں نے مزید کہا کہ 'اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایک واضح پیغام بھیجے کہ کسی کی بھی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا اور لازماً غیر جانبدار تحقیقات کے کام کی مکمل حمایت کرنی چاہیے۔ جو ممالک ایسا نہیں کرتے وہ ان آمروں یا دہشت گردوں سے بہتر نہیں جو یہ خوفناک ہتھیاروں استعمال کرتے ہیں۔'
شام میں کیمیائی حملے کے بارے میں مزید پڑھیے
حقوق انسانی سے متعلق اقوام متحدہ کے ڈائریکٹر لوئس چاربونیو نے کہا ہے کہ' آج کی رپورٹ سے اس بحث کو دفنا دینا چاہیے کہ خان شیخون حملے کا کون ذمہ دار تھا۔'
اس سے پہلے جون میں کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ مشن او پی سی ڈبلیو نے خان شیخون اعصاب شکن ممنوعہ گیس 'سارین' استعمال ہونے کی تصدیق کی تھی اور اس کے بعد اقوام متحدہ کا پینل تشکیل دیا گیا تھا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا شامی حکومت اس کی ذمہ دار ہے یا نہیں۔
خان شیخون میں ہونے والے اس حملے کے بعد امریکہ نے شامی اڈوں پر میزائل حملے کیے تھے۔
تاہم دوسری جانب شامی صدر بشارالاسد کا موقف تھا کہ یہ واقعہ من گھڑت ہے۔
حملے کے بعد روس کا کہنا تھا کہ شام میں درجنوں افراد کو ہلاک کرنے والے مبینہ طور پر کیمیائی حملے کی ذمہ دار باغی فورسز ہیں۔