آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ہم شام پر مزید حملوں کے لیے تیار ہیں: امریکہ کی تنبیہ
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ شام کے صدر بشار الاسد دوبارہ کبھی کیمیائی ہتھیاروں کو استعال نہ کر سکیں۔
نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے شام کے اس فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جس پر شبہ ہے کہ وہاں سے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے۔
امریکی سفیر نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس کو بتایا ’ہم مزید حملوں کے لیے تیار ہیں تاہم امید ہے کہ اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔'
نکی ہیلی کے مطابق 'یہ ہماری قومی سلامتی کے مفاد میں ہے کہ ہم کیمیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ امریکہ نے شام میں باغیوں کے زیرِ اثر علاقوں میں شامی فوج کی جانب سے مشتبہ کیمیائی حملے کے جواب میں جمعے کی صبح مشرقی بحیرۂ روم میں موجود اپنے بحری بیڑے سے 59 ٹام ہاک کروز میزائلوں سے شام کے ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔
دوسری جانب شام کے اتحادی ملک روس نے امریکہ پر 'دہشت گردوں' کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
روس نے شیرت فضائی اڈے پر امریکی میزائل حملے کے بعد شام کے فضائی دفاع کو مضبوط کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
روس کا مزید کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ شام میں فضائی تحفظ کے معاہدے کو معطل کر رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق شام کے فوج اڈے پر جمعے کی صبح ہونے والے حملے میں کم سے کم چھ افراد ہلاک ہوئے جب کہ
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شامی فوجی اڈے سے کیے جانے والے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں درجنوں شہری ہلاک ہوئے تھے۔
ادلیب کی حزب اختلاف کا کہنا ہے خان شیخون میں مبینہ زہریلی گیس کے حملے میں 33 بچوں اور 18 خواتین سمیت کم سے کم 89 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ شام نے اس کی تردید کی ہے۔
اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا تھا کہ شام کے مستقبل میں بشار الاسد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ شام میں منگل کو مشتبہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ایک سنگین معاملہ ہے اور اس کے لیے سنجیدہ جواب کی ضرورت ہے۔