آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کِم وال: سر قلم کرنے کی ویڈیوز ’ملزم کی ہارڈ ڈرائیو سے برآمد‘
ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے موجد کی مبینہ ہارڈ ڈرائیو سے اس خاتون صحافی کا سر قلم کیے جانے کی ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں جن کے قتل کا ان پر الزام ہے۔
پیٹر میڈسن پر الزام ہے کہ انھوں نے 30 سالہ کم وال کو اس وقت قتل کیا جب وہ 10 اگست کو ان کی آبدوز میں سوار ہوئی تھیں۔
ان کی سر بریدہ لاش 11 دن بعد کوپن ہیگن کے قریب پانی سے برآمد ہوئی تھی۔
میڈسن اس قتل کے الزام سے انکار کرتے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہارڈ ڈرائیو ان کی نہیں ہے اور جس تجربہ گاہ میں وہ کام کرتے تھے وہاں ہر شخص کو اس تک رسائی حاصل تھی۔
میڈسن جو خود سے سیکھ کر انجینیئر بنے ہیں کہتے ہیں کہ کِم وال کی موت آبدوز کا 70 کلو وزنی ڈھکن لگنے سے ہوئی تھی۔ سویڈن سے تعلق رکھنے والی ایوارڈ یافتہ فری لانس خاتون صحافی میڈسن اور ان کی UC3 نوٹلس آبدوز پر ایک کہانی پر کام کر رہی تھیں۔
46 سالہ ملزم کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس کے بعد لاش کو سمندر برد کرنے کی کوشش کی اور وہ اپنی آبدوز کو ڈوبانے کے بعد خودکشی کرنا چاہتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
البتہ، مقدمے کے استغاثہ جیکب بش جیسپن کا کہنا ہے کہ پانچ ستمبر کو آخری بار ملزم عدالت میں پیش ہوئے تھے، اس وقت سے اب تک ان کا شک مزید مضبوط ہوا ہے کہ میڈسن نے ہی کم وال کو قتل کیا ہے۔
بش جیسپن کا کہنا ہے کہ تصاویر جن کے بارے میں 'خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ اصلی ہیں' اس ہارڈ ڈرائیو سے ملی ہیں جو مبینہ طور پر میڈسن کی ہیں اور ان مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون پر تشدد کیا جا رہا ہے، سر قلم کر کے انھیں جلایا جا رہا ہے۔
پوسٹ مارٹم سے معلوم ہوا کہ کِم وال جسم کے بعض حصوں پر چاقو کے زخم تھے جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ان کی موت سے قبل یا موت کے فوراً بعد لگائے گئے تھے۔
تاہم موت کا صحیح سبب ابھی معلوم کیا جانا ہے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ تفتیش کی جارہی ہے لہذا میڈسن کو مذید چار ماہ کے لیے زیر حراست رکھا جائے۔